ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

پاکستانی سیاست کبھی جمھوری سیاست نہیں ہوسکتی | علی حسن

تحریر: علی حسن
ہم ایسے ملک کے میں رہتے ہیں جہان سیاست اور سیاستدانون کو اٹھتے بیٹھتے گالیاں دی جاتی ہیں گالیان کیون نا دی جائیں جس ملک میں سیاست کو بدنام کرنے اور سیاست کرنے والون کو ہمیشہ غیر جمھوری قوتون نے بدنام کرنے مین کوئی قصر نا چھوڑی ہو، جب میں یونیورسٹی میں پڑہتا تھا تو وہاں ہمیشہ سیاسی طلبہ تنظیمون میں جھگڑے کرائے جاتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کے جگھڑے کا سبب زیادہ تر یونیورسٹی انتظامیہ ہوتی تھی ایک دن ورسٹی کے وی سی صاحب آخری سال کے پاس ہونے والے طلبہ سے خطاب کر رہے، تو اس نے کہا کے یہان طلبہ تنظیمون مین اکثر جگھڑے انتظامیہ کرواتی ہے اور کبھی کبھی جگھڑہ خود ہوجاتا ہے لمحہ فکریہ ہے اس ملک کے لیئے جب ملک کے روشن مستقبل طلبہ کو ایسے بدگمانیان پیدا کرکے ان مین نفرتین پیدا کی جائیں اور ان کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جائے۔

جب وہ ملک کا روشن مستقبل جب یونیورسٹی سے پاس ہو کر نکلتا ہے تو اسے بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے سیاست سے تو اس کا پھر اعتبار ہی اٹھ جاتا ہے بحث لمبی ہوجائے گی اس لیئے ہم موجودہ حالات کو زیر بحث لاتے ہیں جب سے یہ عالمی وبا پھیلی ہے اس نے ہر جگہ تباہی مچادی ہی پھر وہ سیاست ہی کیوں نا ہو اس ملک مین سیاست تو نام کی تھی اس وبا کے بات تو شاید سیاست نظر نہیں آتی، اس وبا کے دوران اس ملک میں صوبہ سندھ اور وفاق کے درمیان اختلاف رائے ہے، جو ابھی تک جاری ہے اس وائرس کا پہلا مریض سندھ کے شہر کراچی سے ہوتا ہے اور کچھ دنون کے بعد یہ تعداد صوبہ مین بڑھ جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری ملک مین مریض سامنے آتے ہیں۔

پھر ایسا ہوتا ہے کے سندھ حکومت کچھ صحت کے ماہرین کی تجاویز اور کچھ اپنے فیصلون کے بنیاد پر بلآخر لاک ڈائون کرتے ہین جہان سے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت میں اختلافات شروع ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر پریس کانفرنس کرتے ہوئی سندھ حکومت کو کہتے کے سندھ حکومت سیاست کر ہی ہے یہ کرپٹ حکومت ہے اور بہت کچھ خیر وفاقی حکومت نے جب سے حکومت سنبھالی ہے تب سے صرف اپوزیشن کو کرپشن میں پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کوئی جمہوری حکومت والا کام ابھی تک نظر نہیں آیا۔

پی ٹی آئی حکومت صرف اس بنیاد پے چل رہی ہے کہ اپوزیشن کرپٹ ہے اور انہون نے پاکستان کو لوٹا ہے اور یہ وہی لوگ کہتے ہین جو انہین پارٹیون میں سے لائے گئے تھے۔ جمہوری حکومتون نے زیادہ سے زیادہ 20 سال بھی حکومت نہیں کی ہوگی اور اس میں بھی زیادہ تر غیر جمہوری قوتون کے ملوث ہونے کی شکار رہی ہیں چالیس سال سے زیادہ اس پے جنرلون نے مارشلا لگا کر حکومت کی ہے، لیکن سیاسی پارٹیان ایک دوسرے کو ملک کو اس مقام پے لانے کے الزام لگاتے رہی ہین موجودہ حکومت جس کے بارے مین کہا جاتا ہے کہ ان کو غیر سیاسی قوتون کی وجہ سے اقتدار ملا ہے آج وہ حکومت اتنی ناکام ہوچکی ہے کہ جی ڈی پی منفی ہوگئی ہے۔ قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں کرپشن بھی پچھلی حکومتون سے زیادہ رہی ہے۔ امید کرتے ہین کہ اس ملک میں جمہوریت کی بالادستی ہو لیکن دور دور تک جمہوریت نظر نہیں آتی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے

کراچی میں آج ہونے والی بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سےزائد فیڈر ٹرپ کرگئے، فیڈر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے