ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

پاکستانی آئین میں ترامیم کا سفر | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد

دستور یا آئین آسمانی صحیفہ تو نہیں ہوتا مگر اس کی عزت اور احترام کسی آسمانی صحیفے سے کم نہیں ہوتی یہ دستور ہی ہے جو دنیا کے اربوں انسانوں کو زندگی گذارنے کا لائحہ عمل دیتا ہے لوگوں کی راہ متعین کرتا ہے حکومتوں سے متعلق ان کے کردار اور فرائض کی نشاندہی کرتا ہے اور عوام کو ان کے انکے حقوق اور فرائض سے متعلق بتاتا ہے ۔سادہ الفاظ میں کہیں تو ہر ملک کا آئین اس ملک میں قائم ہونے والی حکومت کے لیئے اصولوں کا ایک ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس کے تحت امورمملکت چلائے جاتے ہیں ۔
1947 میں متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور دوملک ہندوستان اور پاکستان معرض وجود میں آئے ۔ہندوستان نے جنوری 1949 میں اپنا متفقہ آئین تیارکرلیا جبکہ پاکستان میں 1956 تک برطانوی آئین نافذرہا۔اس طرح 9سال بعد1956میں پہلی بارپاکستان میں اپنے بنائے گئے آئین کا نفاز ہوا مگر یہ دوسال ہی چل سکا اوراکتوبر 1958 میں جنرل ایوب خان نے آئین کو روندتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔اس کے بعد جنرل ایوب خان نے اپنی پسند کا آئین 1962 میں نافذکردیا۔اس آئین کا صرف اور صرف فائدہ ایوب خان کی زات کو تھا۔ایک وقت آیا عوامی دباو کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئےجنرل ایوب خان نے اقتدارجنرل یحییٰ خان کے حوالے کردیا۔ جنرل یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر(ایل ایف او)کے تحت امور مملکت سرانجام دئیے۔
1970 میں ملک میں پہلی بار عام انتخابات ہوئے ۔اور ان انتخابات میں کے نتیجے میں انتقال اقتدار کا مرحلہ جنرل یحییٰ خان کی زاتی پسند ناپسند کی بھینٹ چڑھ گیا اور ملک دولخت ہوگیا۔دنیا کے نقشے پر ایک کی جگہ دوملک پاکستان اور بنگلہ دیش ظہور پذیرہوئے ۔مغربی پاکستان میں اقتدار پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو کو ملا۔اور اس حکومت نے پہلی بار قوم کو ایک متفقہ آئین دیا جو کہ 14 اگست 1973 کو نافذہوا۔26 سال بعد بالآخر ملک وقوم کو متفقہ آئین مل گیا مگر جلد ہی اس میں ترامیم کا سلسلہ شروع ہوگیا اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
1973 کے آئین میں پہلی ترمیم 1974 میں ہوئی جس میں پاکستان کا حدوداربعہ کا دوبارہ تعین کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو الگ ملک تسلیم کرلیا گیا۔1974 میں ہی دوسری ترمیم ہوئی جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔فروری1975 میں آئین میں تیسری ترمیم ہوئی جس میں صدر کی طرف سے ہنگامی حالت کے نفاز کی کی معیاد کو غیرمعینہ مدت کردیاگیا جبکہ اسی ترمیم کے زریعے حراست میں لیئے گئے افراد کے حقوق کو کم کرکے حکومت کے اختیار کو بڑھا دیاگیا۔1975 میں آئین میں چوتھی بار ترمیم ہوئی جس میں ملک میں موجود اقلیتوں کیلئے قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا جبکہ پنجاب میں یہ تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کردی گئی۔جبکہ پانچویں ترمیم کے زریعے سندھ اور بلوچستان کی ہائی کورٹس کو الگ الگ کردیا گیا اور ہائی کورٹ کا اختیار سماعت وسیع کیا گیا۔1976میں آئین میں چھٹی ترمیم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی مدت بالترتیب 62 اور 65 سال کی گئی ۔1973 کے آئین کے خالق ذوالفقارعلی بھٹو کے دور کی آخری اور ساتویں ترمیم میں وزیراعظم کو یہ پاور دی گئی کہ وہ کسی بھی وقت ریفرنڈم کے زریعہ عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکتا ہے ۔یہ بھٹو دور کی آخری ترمیم تھی اس کے بعد ملک میں ایک بار پھر مارشل لا آگیا۔
ایک بار پھر آئین کی کانٹ چھانٹ کا عمل شروع ہوگیا تاکہ مسند اقتدار پر براجمان ہستی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور 1985 میں آئین میں آٹھویں ترمیم کی گئی جس کے بعد جنرل ضیا کا نام آئین میں داخل کیا گیا اور حکومتوں کو ختم کرنے کا اختیار حاصل کیا گیا اور یہی وہ اختیار تھا جس کے سبب بعد میں چار اسمبلیاں تحلیل کی گئیں۔اس ترمیم کے زریعہ نیم صدارتی نظام متعارف کرایا گیا اور صدرکو اضافی پاورز دی گئیں۔1985 میں نویں ترمیم کے زریعہ شریعہ لا کو لا آف دی لینڈ کا درجہ دیا گیا۔1987 میں آئین میں دسویں ترمیم کی گئی جس کے تحت پارلیمنٹ کے اجلاس کا دورانیہ مقرر کیا گیا کہ دو اجلاس کا درمیانی وقفہ 130 دن سے زیادہ نہیں بڑھے گا۔
1989 میں آئین میں گیارہویں ترمیم اسمبلی کی نشستوں سے متعلق کی گئی جبکہ 1991 میں بارہویں ترمیم کے زریعہ سنگین جرائم کے تیز ٹرائل کیلئے خصوصی عدالتیں تین سال کیلئے قائم کی گئیں۔1997 میں تیرہویں ترمیم کے زریعہ صدر کی نیشنل اسمبلی کو تحلیل کرنے اور وزیراعظم کو ہٹانے کی پاورز کو ختم کیاگیااس کے ساتھ ساتھ صدرکو عسکری قیادت کے چناو کے اختیار کو بھی ختم کردیا گیا۔1997 میں آئین میں چودہویں بار ہارٖس ٹریڈنگ روکنے اور اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی حوصلہ شکنی کیلئےآئین میں ترمیم ہوئی ۔
1998 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے پندرھویں ترمیم کے زریعے اسلام کے نام پر مزید اختیارات حاصل کرنے کیلئےشریعہ لا کو لاگو کرنے کا مجوزہ بل قومی اسمبلی سے منظور کرالیا تاہم سینٹ میں اکثریت ناہونے کے سبب یہ قانون نہیں بنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیااسطرح اسلامی جمہوری پاکستان اس ممکنہ ترمیم سے بچ گیا۔1999 میں آئین میں سولہویں ترمیم کے زریعہ کوٹہ سسٹم کی مدت 20 سے بڑھا کر 40 سال کی گئی ۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں آئین کو معطل کردیاگیا تاہم جب 2002 میں آئین کو بحال کیا گیا تو اس میں ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر کے زریعے ترامیم کی گئیں۔جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں 2003 میں آئین میں سترھویں ترمیم کے زریعہ صدر کی پاورز میں اضافہ کیا گیا۔1973 کے آئین میں اٹھارویں ترمیم 8اپریل 2010 کوقومی اسمبلی نے پاس کی اس ترمیم میں 1973 کے آئین میں کم وبیش 100 کے قریب تبدیلیاں کی گئیں جو کہ آئین کے 83 آرٹیکلز پر اثر انداز ہوتی تھیں۔اس ترمیم کے تحت صدر کے پاس تمام ایگزیٹو اختیارات پارلیمنٹ کو دے دئیے گے اس کے علاوہ شمال مغربی سرحد صوبہ کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخواہ رکھا گیا اور وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دئیے گئے جس سے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ پورا ہوا۔2010میں ہی انیسویں ترمیم کے زریعہ اسلام آبائی ہائی کورٹ قائم کی گئی اور سپریم کورٹ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے قانون وضح کیا گیا۔2012 میں بیسویں آئینی ترمیم کے زریعہ چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تبدیل کردیا گیا۔2015 میں سانحہ اے پی ایس کے بعد آئین میں اکیسویں ترمیم کی گئی جس میں ملٹری کورٹس متعارف کروائی گئیں۔2016 میں آئین میں بائیسویں ترمیم کے زریعہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اہلیت کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا اور فیصلہ ہواکہ بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس بھی الیکشن کمیشن کے ممبر بن سکیں گے ۔2017 میں تئیسویں ترمیم کے زریعہ 2015 میں قائم ہونے والی ملٹری کورٹس کا دورانیہ جو کہ جنوری 2017 میں ختم ہورہا تھا کو اس ترمیم کے زریعے مزید دوسال کیلئے جنوری 2019 تک بڑھا دیا گیا۔2017 میں چوبیسویں ترمیم کے زریعہ مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر انتخابی حلقہ بندیوں کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے زریعہ فاٹا کو کے پی کے میں ملانے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاکستانی آئین میں بھٹو دور میں سات ترامیم ہوئیں۔محمد خان جونیجو کے دور میں تین ترامیم ہوئی جس میں آٹھویں ترمیم بھی شامل ہے اس کے بعد میاں نوازشریف اپنے دو دفعہ کے اقتدار میں چھ بار ترامیم کی کوشش کی جس میں سے وہ پانچ ترامیم کرسکے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دو ادوار میں کوئی آئینی ترمیم نہیں ہوئی ۔جبکہ میر ظفراللہ جمالی کے دور میں ایک ترمیم جسکو سترھویں ترمیم کہا جاتا ہے منظورہوئی ۔
یہ تھی پاکستانی آئین میں ترامیم کے سفر کی روداد جس میں ہر عہد کے آمر نے اپنی مرضی سے ترامیم کیں اور جمہوری ادوار میں آئین کو دوبارہ اصلی حالت میں واپس لانے کی کوششیں کی گئیں۔اس ضمن میں اٹھارویں ترمیم ہی وہ ترمیم تھی جس میں عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلے کیئے گئے ۔جمہوری بالا دستی کو یقینی بنایا گیا۔اٹھارویں ترمیم کا سہرا بلاشبہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور ان تمام جمہوری قوتوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس ترمیم کو یقینی بنایا۔اس ترمیم کے بنیادی محرک سابق صدر آصف علی زرداری کو کوششیں قابل ستائش ہیں اور جمہوریت کے راستے میں ان کی سنجیدہ کوششوں کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں زیادہ سے زیادہ طاقت کا حصول ہی صاحب مسند کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے۔مگر سابق صدر آصف علی زرداری جیسے صاحب مسند نے اس روایت کو توڑا اور طاقت اور اختیارات کو عوامی نمائندوں کو سپرد کیا اور شائد یہی جرم سابق صدر کا ناقابل معافی جرم ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بادشاہ، ملکہ اور پیادہ | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان 5 اگست کو انڈیا کے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی محاصرے کوایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے