ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur

پانچ جولائی ملکی تاریخ کا سیاہ دن | نذیر ڈھوکی

تحریر: نذیر ڈھوکی

آج کے دن اقتدار کے لالچی چند جنرلوں نے اپنے ہی ملک پر قبضہ کیا تھا۔ ظاہری طور بہانہ 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک تھی، جس کے تانے بانے ڈالروں کے جھنکار سے ملتے تھے۔ دراصل عالمی قبضہ گیر کو ترقی یافتہ، آزاد، خودمختار اور ایٹمی قوت کے حامل پاکستان منظور نہیں تھا۔ دنیا حیران تھی کہ شاعر اور انقلابی قاٸد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے انتھاٸی قلیل مدت میں نہ صرف شکست خوردہ قوم کو باوقار قوموں کی قطار میں کھڑا کیا، بلکہ جنگ کی وجہہ سے راکھ کی ڈھیر بنے ہوٸے پاکستان کی قابل رشک دوباره تعمیر کرکے عالمی رہنماٶں کو اپنا دیوانہ بنالیا۔ یہ قاٸد عوام بھٹو شہید کی سحر انگیز شخصیت تھی جس کی قاٸدانہ صلاحیت کا اقرار واشنگنٹن کے جمہوریت پسند حکمران بھی کرتے رہے۔ حق بات یہ ہے کہ قاٸد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید قدرت کی طرف سے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر کی آزادی پسند قوموں کیلیٸے انمول توفعہ تھے، نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی آواز تھے بلکہ دنیا کے مسلمان ممالک کے اتحاد کی علامت تھے۔
انہوں نے پانچ سال کے اندر اپنی قوم کو لوہا بنادیا۔ جی ہاں انہوں نے سامراج سے آنکھوں میں ملاکر انہی کے لہجے میں ان سے بات کی، انتہائی دردناک بات یہ ہے اقتدار کے لالچی فوجی ٹولے نے بندوق کے زور پر ملک پر قبضہ کرے شاعر اور انقلابی وزیر آعظم کو قید کردیا، اگر اس فوجی ٹولے کو وحشی اور سفاک پاپیوں کا ٹولا کہا جاٸے تو بھی غلط نہیں ہوگا۔
دراصل 5 جولاٸی 1977 کو رات کی تاریکی میں اپنے ہی ملک پر قبضہ کرنے والے جنرل وطن کی آزادی کو گروی رکھ کر بدلے میں اقتدار میں آٸے تھے پاپیوں کے اس ٹولے نے اپنی  دھاک جمانے کیلیٸے اورقوم کو ڈرانے  کیلیٸے شرمناک عمل کیٸے، شہر شہر میں پھانسی گھاٹ بناٸے، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی ننگی پیٹھوں پر کوڑے برساٸے ، آواز خلق کو دبانے کیلیٸے جبر کے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیٸے جو فرنگیوں نے بھی نہیں کیٸے تھے۔
چونکہ وہ وطن کی آزادی کو گروی رکھ کر اقتدار میں آٸے تھے اس لیٸے ملک کی جڑیں کھولی کرنا ان ذمہ داری تھی، جہاد کے نام پر فساد کرنے والوں کی نرسریاں بناٸیں، کلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا، منشیات کے کاروبار کو عروج دیا، قوم کو فرقیوارانہ، لسانی اور برادریوں میں تقسیم کیا وہ بندوق کی زور پر من مانی تو کرتے رہے۔ مگر ان کے ذہنوں پر محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا خوف ہاوی رہا جو خالی ہاتھ اس وحشی اور پاپی ٹولے کی مزاحمت کرتی رہی، آج وہ پاپی جنرلوں کا ٹولا تاریخ کے کوڑا دان پر لاوارث لاش کی طرح پڑا ہے ، مگر ان کی مزاحمت کرنے والی محترمہ بینظیر بھٹو شہید آج بھی زندہ ہیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے

کراچی میں آج ہونے والی بارش سے کےالیکٹرک کے 350 سےزائد فیڈر ٹرپ کرگئے، فیڈر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے