منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

ٹیم۔۔۔۔ | عرفان سکندر

تحریر: عرفان سکندر
سیاست ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں چلتی آرہی ہے۔ اشتراکیت، جاگیرداری، جمہوریت اور اس طرح کی کئی شکلوں میں ہمیں ملی۔ لیکن اس میں ایک چیز ہمیشہ مستقل اور سب سے اہم رہی اور وہ ہے عوام۔ سیاست نے کوئی بھی شکل اختیار کی ہو عوام ہمیشہ اسی جگہ پہ رہی۔ اور سیاست کا اصل مدعہ بھی عوام ہی رہی ہے اور ہمیشہ سے انکو یقین دلایا گیا ہے کہ کوئی بھی نظام حکومت عوام کی بہتری کے لیے ہے۔ لیکن ہزاروں سالوں کے بعد بھی عوام کی زندگی میں بہتری کیوں نہیں آئی۔ جہاں جہاں حکومت کسی خاص طبقے کو ملی وہاں ہمیشہ عوام کا استحصال ہوتا رہا۔ اور حکمران طبقہ جو عوام کے کندھوں پہ کھڑا رہا انہوں نے اسی کندھوں کو کمزوررکھا۔ عوام ہر دورمیں اپنے حکمرانوں کا ساتھ دیتی آئی ہے اور دیتی آرہی ہے۔ چاہے کوئی بھی نظام ہو اس کو عوام نے قبول کیا ہے اوراس کو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کیا ہے لیکن ایسی قربانی حکمرانوں کی طرف سے بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔
اتنے ہزار سالوں کے بعد بھی عوام اپنے اندر کوئی خاص یکجہتی پیدا کرنے میں ناکام نظر آئی ہے۔ اس کے برعکس حکمرانوں میں اتحاد ہمیشہ سے مظبوط رہا ہے۔ مثال کے طور پہ ہمارے ملک میں ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ جیتنے والے کو تو حکومت مل جاتی ہے لیکن ہارنے والے دوبارہ عوام میں شامل نہیں ہوتے۔ وہ کسی نہ کسی طرح سے انہی کے ساتھ رہتے ہیں۔ کبھی حزب اختلاف میں تو کبھی حکومت میں لیکن وہ عوام میں دوبارہ نہیں آتے۔ بہت سے لوگ ہمیشہ سے عوام کے بھی ہوتے ہیں اور وہ چاہے ہار جائیں یا جیت جائیں عوام میں ہی رہتے ہیں لیکن اکثریت عوام میں واپس نہیں آتی۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس طبقے میں بندہ جا تو سکتا ہے لیکن وہ دوبارہ کبھی عام عوام میں رہنا نہیں چاہتا۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ جن لوگوں نے آپکو وہاں تک پہنچایا اور آپ کو اس قابل سمجھا کہ آپ اوپر جا کر عوام کی نمائندگی کریں گے۔ لیکن آپ وہاں پہنچتے ہی ان تمام لوگوں کو بھول جاتے ہیں اور دوبارہ کبھی نہیں آنا چاہتے۔
عوام کی زیادہ تر تعداد نے اپنے اوپر لازم کر دیا ہے کہ جس کو آپ نے منتخب کیا پانچ سال یا پوری زندگی اس کا دفاع بھی کرنا ہے۔ ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں کہ ہر بندہ کسی نہ کسی جماعت ،شخصیت یا سوچ کا دفاع کرتا نظر آتا ہے۔ اور اس میں کوئی بری بات نہیں کہ کوئی کسی شخصیت، پارٹی یا سوچ کو پسند کرتا ہے اوراسکا دفاع کرتا ہے۔ میں اپنی بات کروں تو میں بھی کئی دفعہ دفاع کرتا ہوں جس پارٹی کو میں نے ووٹ دیا تھا۔ لیکن اس سے آج تک کیا ہوا ہے۔ ساٹھ ستر سال کے بعد بھی ہمیں کیا ملا؟ بہتر تعلیم؟ بہتر ہسپتال؟ بہتر سڑکیں؟ بہتر روزگار؟ بہتر سہولتیں؟ شاید عوام میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انکو سب کچھ ملا ہے۔ اس کے برعکس جنکو ہم نے چنا ہے انکے لیے یہ سب چیزیں میسر ہیں اوروافر مقدار میں میسر ہیں۔اس کے باوجود ہم یہ بات مان لیتے ہیں کہ ہاں یہ عوامی لوگ ہیں اور ہماری بہتری کے لیے کچھ کریں گے۔
تعلیمی نظام ٹھیک کرنے میں تقریبا کتنا وقت لگتا ہوگا؟ جتنا بھی لگتا ہو لیکن ستر سال بھی نہیں لگتے ہونگے۔ ستر سال میں ہمارے ملک کا تعلیمی نظام کہاں ہے؟ اور آگے کتنا انتظار کرنا ہوگا ہمیں ایک معیاری اور مثاوی تعلیمی نظام رائج کرنے میں۔ اسی طرح آپ ہمارے ملک کے ہر شعبے کو دیکھ لیں۔
عوام کا کام ہے حکومت منتخب کرنا اور حکومت کا کام ہے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا۔ لیکن دونوں اپنا کام نہیں کر رہے۔ عوام ایک بار ووٹ دے کر پانچ سال تک اس ووٹ کا دفاع کرتی رہتی ہے کہ جسکو میں نے ووٹ دیا وہی صحیح ہے۔ اورپانچ سال دفاع میں لگ جاتے ہین اوربہت سے لوگوں کی تو زندگی اسی میں گزر گئی۔ یہ عوام کا کام نہیں ہے۔ یہ انکا کام ہے جسکو آپ نے منتخب کیا۔ اسکو جواب دینا ہے کہ کیا اس نے آپ کے ووٹ کا حق ادا کیا؟ کیا اس منتخب نمائندے نے وہ تمام کام کیئے جس سے آپکی زندگی بہتر ہوسکتی تھی؟ کیا وہ اگلی بارآپ کے ووٹ کا حقدار ہے؟ کیا وہ بدعنوانی میں تو ملوث نہیں؟ یہ تمام جواب حکمران کو دینے ہیں آپکو نہیں دینے ہیں۔ اور نا ہی آپ نے دفاع کرنا ہے وہ اسکا اپنا کام ہے۔
آپ نے ووٹ دے کر حساب شروع کر دینا ہے۔ پہلے دن سے آخری دن تک۔ آپ نے اپنی پارٹی یا شخصیت یا سوچ کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔ آپ نے سوال پوچھنے ہیں سارے کہ کیا آپ نے میرے ووٹ کا حق ادا کیا؟ کیا آپ نے وہ سب وعدے پورے کیئے؟ کیا آپ کے ہونے سے ہماری زندگی پہ کوئی مثبت اثر پڑا؟ کہیں آپ کے انتخاب سے ہماری زندگی مزید مشکل تو نہیں ہوگئی؟ یہ سب سوال عوام نے کرنے ہیں ورنہ تو وہی بات ہوئی کہ آپ نے کسی مزدور کو کام کے لیے بلایا، مزدوعی مزدور کو دی اورسارا کام خود کیا۔
عوام کو یکجاہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ دوسری ٹیم میں بہت اتحاد ہے۔ وہ اپنے کسی کھلاڑی کو ہارنے نہیں دینگے۔ اور نا اسکو دوبارہ عوام میں بھیجیں گے۔ آپ لوگ بھی یکجاہ ہو جائیں اور خواہمخواہ دفاع کرنا بند کریں۔ چاہے حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں ایک ہی ٹیم میں ہیں اور عوام کی ٹیم الگ ہے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کا دفاع کرنا ہے۔ انکا ساتھ دینا ہے انکے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔ آپسی اختلافات ختم کریں کیونکہ جن کے لیے آپ کسی سے اختلاف کررہے ہیں وہ آپ کے لیے اپنی ٹیم کے لوگوں سے اختلاف پیدا نہیں کرے گا۔ آپ کو ہر حکمران پر تنقیدی نظر رکھنی ہوگی۔ اور تنقید ہی تعمیر کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ورنہ ستر اسی سال تو گزرگئے اورآپ کی حالت آپ سے بہتر کون جانتا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے