جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

ٹریک ٹو ڈائیلاگ | خرم اعوان

تحریر :خرم اعوان

ہنری کسنجر ایک مرتبہ کسی ایشو کے سلسلہ میں مذاکرات میں شامل تھے۔ جب وہ مذاکرات کے بعد باہر نکلے تو تمام میڈیا والے ان کی جانب لپکے۔ تو کسنجر نے کمال مہارت سے سب سوالوں کا ایک ہی جواب دیا کہ آپ (یعنی میڈیا) کے لیے خبر یہ ہے کہ کیا نتیجہ نکلا، کون جیتا۔ جبکہ میرے لیے کامیابی اور خبر یہ ہے کہ ہم دوبارہ اس ایشو پر بیٹھیں گے، بات کریں گے۔ یعنی مذاکرات ختم نہیں ہوئے۔ وہ اپنے رستے اور ہم اپنے رستے والا معاملہ نہیں ہوا۔

اسی سے ملتی جلتی باتیں مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہیں کہ آپ کو حکومت یا اپوزیشن کی جانب سے مواد چاہیے ہوتا ہے وہ آپ کو مل رہا ہے۔ میں تو یہی بات کہ سکتا ہوں کہ ہم یکم جنوری کو مل رہے ہیں اس میں سینیٹ انتخابات، ضمنی انتخابات، لانگ مارچ کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔ یعنی (پی ڈی ایم) کے سربراہ ہونے کے ناطے انھوں نے کسی بات کو نہ تو حتمی کہا اور نہ ہی خارج از امکان کہا ہے۔

میرے بہت سے ہم پیشہ افرادکو حکومت سے زیادہ محمد علی درانی کا شہباز شریف سے ملنا ناگوار گزرا رہا ہے۔ یاشاید یہ حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کی جانب نہ جائے، کیونکہ یہی حضرات محمد علی درانی کے ماضی میں کردار، ان کی شخصیت کا پوسٹ مارٹم کرنا شروع کیے ہوئے ہیں۔ ہم کچھ بھی کہہ لیں درانی صاحب ہیں تو سیاسی ورکر۔ ان کا تعلق ہے تو ایک سیاسی جماعت سے۔ اگر انھوں نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے تو ہمیں اس کا خیر مقدم کر کے حکومت کو مذاکرات کی جانب لانا چاہیے۔ میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں یہ صرف ایک (Tester) تھا اور وہ بھی حکومت کو اپنی ”میں نہ مانوں“ والی ضد سے ہٹانے کے لیے۔ اور یہ اس لیے کرنا پڑا کیونکہ اگر میرے پڑھنے والوں کو یاد ہو تو 21 دسمبر بروز پیر حکومتی ارکان مختلف اوقات میں مختلف لوگ چھ مرتبہ میڈیا چینلز پر خاص پریس ٹاک کے لیے تشریف لائے جبکہ اپوزیشن کے صرف دو لوگ میڈیا پر تشریف لائے اور وہ بھی خاص طور پر پریس سے بات کرنے کے لیے نہیں بلکہ وہ کہیں آئے ہوئے تھے تو میڈیا وہاں پہنچا تو بات ہو گئی۔ اب حکومت کے جو لوگ چھ مرتبہ میڈیا پر خاص طور سے نمودار ہوئے تو اس سب میں انھوں نے صرف اپوزیشن، استعفے، لانگ مارچ کی بات کی۔ یہ سب کچھ میڈیا چینلز پر پرائم ٹائم شروع ہونے سے چند منٹ پہلے سے ختم ہوا۔ جس کی وجہ سے اس روز کے تقریباً تمام پروگرامز حکومت، اپوزیشن (پی ڈی ایم) کی سیاست کی نظر ہو گئے۔ جب یہ حالات دیکھے گئے تو مقتدر حلقوں میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد حکومت وقت کو پیغام دیا گیا کہ مقتدر حلقوں میں آپ کے اس طرح کے رویے پر resentment ہے۔ آپ (حکومت) ہمسایہ ملک جس سے ہمیں اس وقت ایک حقیقی threat ہے اس کی بات نہ ہی کر رہے ہیں اور نہ ہونے دے رہے ہیں۔ آرمی چیف اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ موجود تھے۔ مگر اس جوان کی (جو اپنی جان ہتھیلی پر لیے ارض پاک کے دفاع کے لیے چاک و چوبند کھڑا ہے) کوئی پذیرائی نہیں۔ آپ اپوزیشن سے ہی نہیں نکل رہے۔اپوزیشن خود خاموش ہے۔ مگر آپ (حکومت) انھی کو یاد کیے جائے رہے ہیں۔ آپ کا گورننس اور ہمسایہ ممالک کی جانب کوئی دھیان نہیں۔

اس سب کے بعد وزیراعظم نے وفاقی وزرأ کی کار کردگی اور ان کو اہداف سوپنے کی تقریب کا انعقاد کیا، گورننس اور پرفارمنس پر بات کی اورزور دیا کہ عوام کو ڈلیور کیا جائے۔ مگر حکومت کے وزرا اور ترجمان کہاں سدھرنے والے تھے یا وزیرِ اعظم سدھرنے نہیں دیتے، ان کی پریس کانفرنس کم ہو گئیں مگر رہیں وہی اپوزیشن (پی ڈی ایم) کے خلاف۔اب ان احباب نے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ مولانا کی جماعت کے مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد اور اس طرح کے ساتھیون کے بیانات کو مولانا کے خلاف (FIR) بنا کر پیش کرنا بھی اپنی ائینی ذمہ داریوں میں شامل کر لیا ہے۔ بات چل نکلی ہے تو مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کی بات ہی لے لیں یہ سب مولانا کے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ مولانا کے والد مفتی محمود کی وفات کے بعد جب مولانا فضل الرحمن کو سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا تھا تو اس وقت مولانا عبد اللہ درخواستی نے جماعت سے الگ ہو کر (JUID) کے نام سے اپنی پارٹی بنا لی۔ پھر ان کا اثر و رسوخ دیکھتے ہوئے 1990 میں مولانا نے درخواستی صاحب سے صلح کر لی ان کی پارٹی کو اپنی جماعت میں شامل کر لیا، اور انھیں پارٹی کا صدر بنا دیا۔ جس پر سمیع الحق ناراض ہو کر الگ ہو گئے اور نھوں نے (JUIS) بنا ڈالی۔کچھ عرصہ بعد نواز شریف نے مولانا کو ٹف ٹائم دینے کے لیے( کیونکہ مولانا نواز شریف کے خلاف تھے) مولانا سمیع الحق کو سینیٹر بنا دیا۔ مولانا 1997 کے عام انتخابات میں بالکل اسی طرح ہارے جیسے اس بار 2018 میں ہارے ہیں۔ یعنی مولانا اپنی سیٹ سے ہار گئے۔ مگر پارٹی جیت گئی۔ جس کی وجہ سے مولانا نواز شریف کے درپے ہو گئے اور جو آج عمران خان کو القابات دیے ہیں انہی القابات سے وہ نواز شریف کو نواز چکے ہیں۔ پھر مولانا نے 2002 میں ایم ایم اے میں سمیع الحق صاحب کو ساتھ ملا لیا۔ مولانا شیرانی ہر دور میں پارٹی سے ناراض ہی رہے ہیں۔ وہ مولانا درخواستی کے ساتھ بھی تھے ، مولانا سمیع الحق کے ساتھ بھی تھے۔ مگر پارٹی یعنی (JUIF)چھوڑتے نہیں تھے۔ یہی مولانا شیرانی تھے جنھیں (JUIF) سے الگ ہوئے مولاناعصمت اللہ جنھوں نے اپنی پارٹی جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑ کے 2008 میں ہرا دیا۔ اسی طرح مولانا شیرانی کو مولانا واسع نے بلوچستان سے اپنی جماعت (JUIF) کے صوبائی امیر کے الیکشن میں ہرا دیا۔ اب آپ خود فیصلہ کریں۔

اسی طرح حافظ حسین احمد وہ تھے تو (JUIF) کے مگر زیادہ قریب تھے جماعت اسلامی کے۔ اور وہ بھی قاضی حسین احمد کے دور میں وہ اپنی جماعت کے بہت سے فیصلوں کے خلاف چلے جاتے تھے اور اپنا وزن قاضی حسین احمد کے پلڑے میں ڈال دیتے تھے۔ پارٹی کا ترجمان ہوتے ہوئے اگر اجلاسوں میں کوئی شخص غائب ہوتا تھا تو وہ حافظ حسین احمد تھے۔ پھر جب (PDM) کا گوجرانوالہ کا جلسہ تھا اس وقت حافظ حسین احمد صاحب گردوں کے عارضے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھے اور کافی علیل تھے۔ مگر مولانا ان کی عیادت کو نہ گئے۔ پھر اس جلسہ کے بعد حافظ حسین احمد نے مولانا کے خلاف اور پی ڈی ایم کے خلاف بیان دے ڈالا۔ جبکہ حقیقت میں انہیں مولانا کا عیادت کے لیے نہ آنے کا دکھ تھا۔ اب اس کا فیصلہ بھی آپ خود کریں کہ مولانا کب تک برداشت کرتے،اوریہ بھی کہ حکومت ان سب کو ہوا دے کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ تو الٹا مولانا فضل الرحمن کی خدمت کر رہے ہیں، مولانااس بات کو اپنی عوام میں اگر لے جائیں اور موقف اختیار کریں کہ ہم ملک میں جمہوری روایات کی بات کر رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے رول کی بات کر رہے ہیں تو ہمارے ہی لوگوں کوورغلا کر یا زور زبردستی ہمارے خلاف کیا جا رہا ہے۔ بتاوتم میرے ساتھ ہو یا تم بھی میرا ساتھ چھوڑ جاوگے جبکہ میں تمھاری لڑائی لڑ رہا ہوں تو جواب آئے گا مولانا ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ یہ عجب قصہ ہے کہ تقریر پنجاب میں ہوتی ہے اوردرد بلوچستان سے اٹھتا ہے ۔

حکومت نہ صرف گورننس میں مینجمنٹ سے عاری ہے بلکہ سیاست میں اس سے دو ہاتھ آگے ہے۔ شو آف ہینڈ کو ہی لے لیں اس میں حکومت نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں بھیجا ہے تاکہ رہنمائی لی جا سکے۔ اس میں اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لیے جن دلائل کا سہارا لیا گیا ہے ان میں سے ایک چارٹرآف ڈیموکریسی کا حوالہ دیا گیا ہے، یعنی شو آف ہینڈ کا۔ جناب آدھی بات عوام کو مت بتائیں اس چارٹر کی شق نمبر 23 میں یہ بات ہے مگر ساتھ لکھا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 کو تبدیل کر کے یا اس میں ترمیم کر کے۔ایک اور دلیل آپ کی جانب سے جو پیش کی گئ وہ سینیٹ کی whole کمیٹی نے جو شو آف ہینڈ کے بارے میں کہا ،مگر اس کی شقوں میں بھی لکھا ہے کہ اس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔ پھر آپ نےA 63کا سہارا لیا۔ مگر جناب اس میں موجود شرائط میں سینیٹ تو کہیں بھی نہیں یہ تو صرف وزیراعظم، وزیراعلیٰ کا انتخاب، آئینی ترمیم، بجٹ کے حوالے سے اور ایک پارٹی سے ممبر پارلیمنٹ ہوتے ہوئے دوسری پارٹی جوائن کر لینا شامل ہے۔ اس میں سینیٹ کہاں ہے۔

عدالت عالیہ سوال تو کرے گی نا۔ پھر آپ نے انڈیا کا حوالہ دیا کہ وہاں شو آف ہینڈ سے کیا جاتا ہے۔ جناب انڈین آئین پڑھ لیں اس میں خفیہ رائے شماری یا شو آف ہینڈ دونوں نہیں لکھے۔ مگر عام انتخابات میں جمہوریت کی روح اور روایات کے مطابق خفیہ رائے شماری ہوتی ہے مگر دوسری جگہ انھو ں نے شو آف ہینڈ کر لیا کیونکہ ان کے آئین میں اس حوالے سے قید نہیں۔ جناب پاکستان کے آئین میں قید ہے۔ اور اس کے لیے آئین ہی میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ دیکھتے ہیں عدلیہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ویسے اگر سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ایک اور تین یا اس کے ملاپ سے کوئی بینچ بنتا ہے تو پھر شاید حکومت کی یہ خواہش پوری ہو جائے ورنہ مشکل ہے۔

مگر آئین میں ابھی بھی ایک چیز بہت وضاحت سے لکھی ہے اور وہ ہےخفیہ 58 (ٹو بی) ۔ میرے تمام پڑھنے والے کہیں گے کہ 58 (ٹو بی) ختم ہو چکی۔ جی جناب اٹھارویں ترمیم کے بعد 58 (ٹو بی) تو ختم ہو چکی ہے مگر the cabinet کی سرخی کے نیچے آئین کی آرٹیکل 91 کی شق 7 بھی ایک طرح سے 58 (ٹو بی) ہی ہے۔ اتنے سارے جھنجٹ کی ضرورت ہی نہیں صرف صدرپاکستان کو ہی ہم نوا ہی کرنا ہے نا۔ کیونکہ یہ آرٹیکل اور اس کی یہ شق صدر پاکستان کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی وقت بھی جب وہ سمجھیں یا خیال کریں تو وہ وزیراعظم کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح یہی بات صوبائی حکومتوں کے باب سوئم میں ائین کے آرٹیکل 130 کی شق 7 میں لکھی ہے، صرف دو حروف کا فرق ہے صدر کی جگہ گورنر اور وزیرِ اعظم کی جگہ وزیرِ اعلیٍ لکھا ہے۔

اب میں یہ بات کیوں کہہ رہا ہوں تو جناب وہ اس لیے کہ جناب آپ کے لوگ آپ کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔ وزیراعظم خوشامد ہوتی بہت بری ہے،مگر کم بخت اچھی بہت لگتی ہے۔ آپ کے لوگ آپ سے کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم ختم ہو گئی ہے۔ یہ بٹی ہوئی ہے۔ عوام ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ ہم اس وقت بہت high ground پر ہیں۔ ان کی نہ سنیں، خود حالات کا جائزہ لیں۔ آپ کے پندرہ پندرہ صوبائی حکومت کے دو گروپس جہانگیر ترین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس میں بھی ایک گروپ پندرہ لوگوں کا جہانگیر ترین کی جنبش ابرو کا منتظر ہے اور دوسرے گروپ کے لوگ رابطہ کر کے کہہ چکے ہیں کہ آپ جب بولیں ہم پریس کانفرنس کر ڈالیں۔ مگر جہانگیر ترین ابھی خاموش ہیں۔ اگر آپ باز نہ آئے اور جمعرات کے روز درانی شہباز میٹنگ کے بعد آپ کے پاس جو مقتدرہ کے لوگ میٹنگ کے لیے آئے تھے ا ن کے اشارے کو نہ سمجھے تو ہو سکتا ہے کہ جہانگیر ترین کو سیاست کی اجازت مل جائے۔ پھر سیاست میں تو سب جائز ہو جاتا ہے۔ پھر یہ چھپی ہوئی 58 (ٹو بی) بھی ایکٹو ہو سکتی ہے۔ اگر فاروق لغاری بدل سکتے ہیں تو عارف علوی بھی بدل سکتے ہیں، یا ہٹ سکتے ہیں۔ پھر قائم مقام صدر سنجرانی ہوں گے وہ تو اسے ایکٹو کر سکتے ہیں۔ اور اس کے ایکٹو ہوتے ہی اگر جہانگیر ترین کو فری ہینڈ مل جاۓ گا ۔ ق لیگ جو آپ پر بھری بیٹھی ہے۔ متحدہ جو جمعرات سے مردم شماری پر شو مچا رہی ہے۔ آپ کو کھری کھری سنا رہی ہے۔ تو پھر آپ کا کیا بنے گا۔ اگر ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سب کو پتہ نہیں ہے بلکہ نہ ہی اپو زیشن نہ ہی مقتدرہ کوئی سسٹم کو لپیٹنا نہیں چاہتا۔

وزیراعظم صاحب اب کہیں اپنے مشیروں کے کہنے پر یہ مت سوچ لیجیے گا کہ اس وقت ہم high ground پر ہیں تو ہم الیکشن قبل از وقت کال کر لیتے ہیں، یہ غلطی بھٹو نے کی تھی 1978 میں ہونے والے الیکشن اس نے 1977 میں کال کر لیے تھے تو بات بھٹو کی پھانسی پہ جا کر ختم ہوئی تھی۔ کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں۔ ابھی وقت ہے، ابھی اپوزیشن کو صرف اپنی ایکٹویٹی کرنے کی اجازت دی گئی ہے تو آپ کی ناک میں دم ہو گیا اگر کہیں پی ڈی ایم کی یہ بات مان لی گئی کہ (ہمارا ساتھ دیں جیسے آپ ان کے ساتھ ہیں) تو آپ کا کیا بنے گا۔ کہانی یہیں اٹکی ہوئی ہے، اگر وہ مان گئے تو ؟ کیونکہ آپ نہ تو ان کی بات مان رہے ہیں اور نہ ہی انھیں ہر بات میں گھسیٹنے سے باز آ رہے ہیں۔ وہ چاہ رہے ہیں ان کا نام نہ لیا جائے آپ نے تو ان کا نام ہر بچے بچے کو یاد کروا دیا ہے۔ وزیراعظم صاحب ابھی تک تو سب سسٹم کو بچا رہے ہیں کیا اسٹیبلشمنٹ ، کیا اپوزیشن، اسے کیچ کر لیں ،کہیں دیر نہ ہو جائے، اور یہ ٹریک ٹو ڈائیلاگ انہی کے ساتھ شروع ہو جائیں جن کے ساتھ اپوزیشن کہ رہی ہے ۔

مصنف کے فیس بک وال سے لی گئی تحریر۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے