پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

وہی خدا ہے | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

کوئی تو ہے جو نظام ہستی

چلا رہا ہے وہی خدا ہے

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے پیدا کیا ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے کوئی ہم سے پہلے جائے گا  اور کوئی ہمارے بعد مگر ہماری  منزل وہی ہے جس پر ایمان رکھتے ہیں. وہ ہمیں پیدا کرتا ہے تو ہمارا رزق اس کے  ہاتھ میں ہوتا ہے، ہمارا نصیب وہ اپنے ہاتھوں سے خود لکھتا ہے. پہلی سانس سے لیکر آخری سانس تک ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے؟ کب ہونا ہے؟ کیسے ہونا ہے؟ کس وقت ہونا ہے؟

سب اس کے ہاتھ میں ہے

یہ دو سال قبل کی بات ہے

اک لڑکی سے میری یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی. وہ اکیلی بیٹھی ہوئی تھی میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گءی. اس کو سلام کیا  اور باتیں شروع ہو گئیں. وہ بہت خاموش  خاموش سی تھی اور ایسے لگ رہا تھا کہ میں کوئی سوال کروں گی تو وہ رونے لگ جائے گی. خیر ابتدائی تعارف میں نام اور ڈیپارٹمنٹ پوچھا…. وہ لڑکی کچھ سوچنے لگ گئی. میں نے اس سے سوالات کرنا شروع کیے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.. خیر میں نے اسے کریدا تو اس نے اپنا حال بیان کیا. وہ مسلسل رو رہی تھی اور  ساتھ اپنے حالات بتا رہی تھی اس  کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی تعلیم تھی. وہ مسلسل تعلیمی میدان میں ناکام ہو رہی تھی. محنت کا پھل اسے میٹھا نہیں کڑوا ملتا تھا اور وہ پھل اتنا کڑوا ہوتا کہ وہ بمشکل نگلتی کیونکہ اسے نگلنا ہی ہوتا تھا. خیر تین سال گزر گئے  تھے اور ناکامی نے تو جیسے اس کے قدم چوم لیے تھے. وہ نہ زندہ رہنا چاہتی تھی اور نہ ہی موت کی خواہش مند تھی. بقول اس کے کہ اس کے دماغ میں کءی بار خودکشی کا خیال آیا مگر اپنے والدین کو دیکھ کر وہ ہمیشہ یہ خیال چھوڑ دیتی

کبھی کبھی انسان کو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلیے ایک کاندھا چاہیے ہوتا ہے اسے بھی اس وقت اس کاندھے کی ضرورت تھی وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی. چینخ رہی تھی اور اپنی ڈگری کیلیے دعا کر رہی تھی. مجھے اس سے ہمدردی ہوئی اور اس کو روتا دیکھ کر میرے آنسو بھی تھم نہ سکے. خیر میں نے اسے بینچ پر بٹھایا اسے پانی اور دلاسہ دیا. وہ پانی پی کر پرسکون ہوئی تو میں نے اسے سمجھایا. چاہے کتنی بھی مشکلات آجائیں امید اور اللہ پر توکل نہیں چھوڑنا کبھی بھی.  بھروسہ اور امید ہی وہ دو چیزیں ہیں جس کی وجہ سے انسان عروج اور زوال کا شکار ہوتا ہے. خیر اسے میں نے اللہ سے رجوع کرنے کا کہا اور دعا کرنے کا مشورہ دیا. میرے سمجھانے پر وہ کچھ سنبھلی. اسے مطمئن دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی. اس سے اس کا کنٹیکٹ نمبر لیا اور کلاس میں چلی گئی

بعد میں میرا اس سے رابطہ ہوتا رہا اور وہ مجھے سب کچھ بتاتی رہی. اس نے کہا کہ وہ بلکل ناامید ہو چکی تھی کہ آپ نے یہ حل بتایا. اس نے دعائیں کرنا شروع کیں اور اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر اسے سکون ملا سکون کی وجہ سے وہ خوش رہنے لگی اور اسی خوشی کی وجہ سے وہ کامیاب ہوتی گئی. واقعی امید اور اللہ پر بھروسہ انسان کو عروج اور زوال تک لے جاتے ہیں

یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے ہم انسان نہایت ہی ناشکرے ہیں. کہیں ہمیں ناکامی ملے یا ہمیں نقصان ہو رہا ہو ہم فوراً ناامید ہو جاتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں. حالانکہ ہم اچھے سے جانتے ہیں کہ

مایوسی کفر ہے

اور کفر اللہ کو پسند نہیں

مگر پھر بھی ہم باز نہیں آتے. مشکلات ہر انسان کی زندگی میں آتی ہیں اور ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کے پاس کوئی رستہ نہیں ہوتا جب وہ تاریک کمرہ میں ہوتا ہے کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی ہوتی، بند گلی میں انسان پھنس جاتا ہے تب یہی امید اور بھروسہ کام آتا ہے. ہر انسان کی زندگی متوازن نہیں ہوتی. کبھی کاروبار میں تنزلی، کبھی تعلیمی میدان میں ناکامی، کبھی کوئی جان لیوا بیماری، کبھی نجی زندگی کے مسائل، کبھی رشتوں کے مسائل، کبھی اولاد کے مسائل، کبھی بےجا قرض میں جکڑے جانا، کبھی ناجائز مقدمات میں پھنس جانا اور دیگر مسائل تو کیا انسان ناامید ہو کر بیٹھ جاءے نہیں دراصل یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے انسان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے اگر امتحان میں کامیاب تو زندگی سنور جائے گی ورنہ زندگی ایسے ہی رہے گی. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس امتحان پر کیسے پورا اتریں؟ اس کیلیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہمیں امید اور بھروسہ نہیں چھوڑنا چاہیے اور ہر دم اپنے لیے اپنے مسائل کے حل کیلئے دعاگو رہنا چاہیے. لیکن افسوس ہم یہ سب بھلا چکے ہیں کوئی پریشانی آجائے ہم سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اللہ سے گلہ شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں اور انہی گلے شکووں کی وجہ سے آج ہماری دعائیں بے اثر ہیں. آج ہماری نیتیں ہماری زبان کے تابع نہیں ہیں. آج ہماری التجائیں رد کر دی جاتی ہیں. آج ہم پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں. اللہ تو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے مگر افسوس ہم اسے ڈھونڈنے کی بجائے شکووں میں مصروف ہوجاتے ہیں، دنیاوی زندگی کی رنگینیوں میں کھو جاتے ہیں اور اللہ کو بھول جاتے ہیں. اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو امتحان میں ڈالتا ہے اور یہی چیز ہم بھول جاتے ہیں اور اللہ سے ہی گلے کرنا شروع کر دیتے ہیں. دعا میں اثر رکھیں، نیتیں درست رکھیں اور دل صاف رکھیں تو سب الٹے کام سیدھے ہو جاءیں گے. کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے ستر ماءوں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ. بس ہماری دعا سننا چاہتا ہے، ہماری نیتیں جاننا چاہتا ہے اور ہم انسان اس کی آزمائش کو بھول کر دنیا میں مصروف ہوجاتے ہیں. ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر رات کے بعد سویرا ضرور ہوتا ہے مگر اس سویرا کیلیے دعا کرنی پڑتی ہے

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے پیدا کیا ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے کوئی ہم سے پہلے جائے گا  اور کوئی ہمارے بعد مگر ہماری  منزل وہی ہے جس پر ایمان رکھتے ہیں. وہ ہمیں پیدا کرتا ہے تو ہمارا رزق اس کے  ہاتھ میں ہوتا ہے، ہمارا نصیب وہ اپنے ہاتھوں سے خود لکھتا ہے. پہلی سانس سے لیکر آخری سانس تک ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے؟ کب ہونا ہے؟ کیسے ہونا ہے؟ کس وقت ہونا ہے؟

سب اس کے ہاتھ میں ہے

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

علی قاسم گیلانی کی ضمانت منظور، 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ بھی خارج

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف گیلانی کے صاحبزادے علی قاسم …

ایک تبصرہ

  1. Really a good one writing
    The reality of Muslims
    They ignore the ALLAH ALMIGHTY at the time of problem.
    They ignore that who give this also has a power to undo it.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے