اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

وسعت اللہ کی تنگ نظری | مختیار ملک

تحریر: مختیار ملک
یہ ایک حقیقیت ہے کہ لسانی یا نسلی تعلق پڑھے لکھے انسانوں کی سوچ پر بھی زنگ آلود کرتا ہے انکی وسعت نظری میں خود بینی نمایاں ہوتی۔ انکی وسعت تنگدلی کی مترداف ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی ہے وسعت اللہ کا کا حالیہ بیانیہ جو کراچی کی ایک مخصوص سوچ کی ترجمانی ہے۔

بچپن میں دور لیاقت علی خان سے متعارف کردہ رٹے رٹائے درسی کتب سے لاشعور میں بسے ہوئے ایک مخصوص نفسیاتی رجحان کو کبھی اور کسی طرح بھی رونما ہونا ہے۔ وسعت اللہ کو کراچی قدیم باشدگان کا دکھ کیونکر آئے گا جن کو مذہب کے ناطے کیا کچھ بگھتنا پڑا۔ اس کو انسانی اور مذہب دوستی کا لالی پوپ دیکر ان کی زمین سرکاتے سرکاتے اطراف کے دور افتاد علاقوں کی طرف دکھیل دیا گیا۔ ان کے صدیوں پرانے گائوں، بستیاں، دیہات غیر قانونی قرار دیکر خالی کراکر پلازے کھڑے کئے گئے۔ کئی پراپرٹیز کو کلیموں کے ذریعی بٹورہ گیا اب بھی مدھو گوٹھ جیسی قدیمی بستی کا بڑا حصہ میٹرو مال کا حصہ ہے اور یہ نواحی بستیان کراچی شہر کی وسط اور مصروف حدود میں شمار ہے۔

کل تک عبداللہ شاھ غازی ایک نواحی بستی تھی اس کے اطراف میں بسنے والے قبضہ مافیا قرار دیئے گئے اور ٹی وی چینلز پر براہ راست قبضہ ہٹانے اور مزاحمت کرنے والوں کو قبضہ مافیا اور دہشت گرد کے خطابات سے نوازہ جا رہا تھا۔ وسعت اللہ کے وسعت نظری کو نظر لگی یا دل کی بات زبان نے زہر کی صورت اگلتے رہے۔ ایسا زہر وہ سندہ کے دیہات کے بارے میں رپورٹوں ہیں سینڈوچ کرکے بولتا رہا جسے ہم تنقید سمجھ کر اپنی اصلاح کیلئے قبول کرتے رہے ۔ لیکن شاید ایسا نہیں تھا۔ وسعت اللہ کو سندہ کی بگڑتی اور سمٹی سرحدیں تو نظر آتی ہیں مگر ان حالات میں انہیں اہل سندہ کی بے چینی اور سندہ کی خود مختیاری کی بحالی کی جہد مسلسل نظر کیوں نہیں آئی۔ کیا سندھ کی بمبئی سے علحدگی تحفتاََ عطا ہوئی۔ کراچی کو مغربی پاکستان کا دارالخلافہ بنانے کے عمل میں بدنیتی نظر نہیں آتی۔

کیا سندھ کی سرحدوں سے چھڑ چھاڑ سندھیوں کے ساتھ فلسطینیوں کی طرز کی نسل کشی یا دراندازی نہیں تھی۔ افسوس صد افسوس اہل سندھ کو قیام پاکستان میں شامل نیک نیتی اور فراخدلی کا صلہ بصورت سزا دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

عاصم باجوہ نے بلوچستان میں سازش کی، نواز شریف

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر …

ایک تبصرہ

  1. محض شکوہ اوربے ثمرتوقعات کے سرابوں سے نکل آیئے۔خوشی ہوئ کہ جناب مختیارملک نے ایک تعصب زدہ دانش پوش رویے کونشان زدکیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے