جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

وسعت اللہ خان صاحب سندھ نا قابل تقسیم تھی اور ہمیشہ رہے گی | عمران دھامرہ

تحریر: عمران دھامرہ
کسی بھی دانشور کو حد سے زیادہ عزت دی جائے تو وہ کچھ بھی صحیح یا غلط بول جائے اسکو اپنا تجزیہ کہتا ہے۔ وسعت اللہ خان کو اس لحاظ سے ہوش سے کام لینا چاہیے۔ وہ سیاستدان نہیں جو تنقید کو برداشت کر لے گا، کسی سیاسی جماعت کے پیچھے چُھپ جائے گا یا پھر کوئی سیاسی جماعت ذاتی رائے کہہ کر اُسکی جان بخشی کروا دے گی, یہ صحافی ہے، کالم نگار ہے یا دانشور ہے، یہ کچھ بھی ہو اِس کے تجزیے ، تبصرے اور تجربے کی اپنی حدود متعین ہیں جس کے اندر رہتے ہوئے اسے اپنی نوکری اور روزی روٹی کمانے کی تگ ودو کرنی چاہیئے_

اپنی نوکری اور روزی کمانے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کے کسی ادارے کا ملازم تجزیہ نگار یا پیسوں پر کالم لکھ کر تبصرہ کرنے والا شخص کسی سیاسی جماعت، کسی قوم، لسانی گروھ، صوبائی حدود یا کسی علاقے کی تہذیب و تمدن پر اختلافی مسائل پر اس طرح تجزیہ کرے کہ کسی قوم، ثقافت یا قوم کے قائد کی توہین یا دل آزاری ہوجائے_ وسعت اللہ خان ہو یا کوئی بھی دوسرا مِسٹر اُسے کوئی حق نہیں پہنچتا کے وہ پیسوں کے عوض کسی کی ایماء پر تجزیہ لکھ کر سندھ کی جغرافیائی حدود کے متعلق بات کرے_

وسعت اللہ خان اپنی نوکری کرے، پیسہ کمائے مگر سندھی قوم کی دل آزاری کرنے کا اسے کوئی حق نہیں_ پورا سندھ وسعت اللہ خان کی عزت کرتا ہے مگر اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ قلم کی وسعت، دانشوری یا صحافت اسی پر ختم ہوجاتی ہے_ سندھ دھرتی بہت بڑے بڑے دانشور، معتبر صحافی، قلم سے ہیرے تراشنے والے شاہکار، ادب کے بڑے شہنشاہ اپنے اندر ازل سے سموئے بیٹھی ہے جن کا شاید وسعت اللہ خان کسی بھی میدان میں سامنا بھی نہ کر سکتا ہو_ وسعت اللہ بہت علم و تجربہ رکھتا ہے، جہاں گشت انسان ہے جب وہ سندھ کی جغرافیائی حدود کے متعلق بات کر رہا ہے تو اسے اس بات کا لکھنے سے قبل بخوبی اندازہ لگانا چاہیے تھا کہ سندھی قوم سندھ دھرتی سے کتنا عشق کرتی ہے اور کس قدر عقیدت رکھتی ہے_

اُسے اِس بات کا مکمل ادراک ہونا چاہیے کہ سندھی قوم سندھی ثقافت اور سندھی وحدت پر بلکل بھی سمجھوتہ نہیں کرتی ہے، سندھی قوم ہر بات، ہر جبر اور مشکل کو برداشت کر لے گی مگر سندھ کی تقسیم کی بات سننا کبھی گوارا نہیں کرتی ہے، سندھ کی تقسیم کی بات تو درکنار سندھ اور کراچی کا جملہ سننا بھی برداشت نہیں کر سکتی ہے، اور سندھ کے باشندے ہر اس شخص یا جماعت اور لسانی گروہ یا ادیب و دانشور ہو چاہے صحافی ہو اُسے اپنا دشمن تصور کرتی ہے جو سندھ کی تقسیم کی بات کرتا ہے، اس لیے وسعت اللہ خان ہو یا کوئی سیاسی جماعت اسے سندھ کی تقسیم کی نفرت انگیز بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے، اس وقت وسعت اللہ خان بھی سندھی قوم کی نظر میں متنازع بن چکا ہے اور وسعت اللہ خان سندھی قوم کی دل آزاری کرنے پر معذرت کے ساتھ اپنے تجزیوں کو اپنی روزی روٹی تک محدود رکھے نہ کے سندھ کے متعلق غلط بیانی کرکے سندھ کی وحدت پر حملہ آور ہو کر پوری سندھی قوم کی دل آزاری کرے۔ سندھی قوم ایسے دانشور، صحافی و سیاستدان کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی بلکہ تاریخ میں ایسے شخص کو سندھ دشمن کے طور پر یاد رکھے گی۔ اس لیے سندھ سے باہر کے لوگ سندھی قوم کو “مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں، جو سندھ منگے اسے چیر ڈیسوں” کے نعرے پر مجبور کرنے کے بجائے اپنے علائقوں کی فکر کریں اپنے آبائی علائقوں کی فلاح و بہبود پر حکام کی توجہ دلائیں، پورا ملک مسائلستان بنا ہوا ہے، اس پر اپنے تجزیوں اور تبصروں کی توجہ مرکوز رکھیں، سندھ کی تقسیم اور اسکی جغرافیائی حدود سے چھیڑ چھاڑ خود ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی، اندورنی عدم استحکام، خواتین و بچوں سے زیادتی اور انکا قتل، مہنگائی، بیروزگاری اور سیاسی عدم استحکام اور یہ سارے مسائل تجزیوں کے لئے توجہ طلب ہیں، لہذا میرا نیک مشورہ ہے کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرکے خود کو متنازع بنانے اور صوبائی و لسانی تعصب کا بیج بو کر ریاست پاکستان کو کمزور کرنے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو ملکی و قومی اصلاح پر خرچ کریں تا کہ قلم کی حُرمت سلامت رہ سکے_

@ImranDhamrahPPP

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

‎آرزو راجہ سے آرزو فاطمہ تک کی کہانی | ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

تحریر: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی تیرہ برس کا سن، تبدیلئ مذہب اور عقد! گزشتہ کچھ دنوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے