جمعہ , 10 جولائی 2020
ensdur
CORONAVIRUS PAKISTAN
243599
  • Sindh 100900
  • Islamabad 13829
  • KP 29406
  • Punjab 85261
  • Balochistan 11052
  • GB 1619
  • AJK 1485
  • DEATH 5058

وزیراعظم کی قریبی ساتھی اور ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس پر مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات

وزیراعظم عمران خان کی قریبی ساتھی اور ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں آ گئی ہیں۔

میڈیا کے مطابق وہ ڈیجیٹل پاکستان سے منسلک ایک پرائیویٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائرکٹرز میں شامل ہیں۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس 5 دسمبر کو ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کا آغاز کیا تھا اور مس ایدروس کو اس کا سربراہ بنایا تھا، وہ پہلے گوگل میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھیں جہاں سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

فروری میں تانیہ ایدروس کو وزیراعظم کا خصوصی مشیر برائے ڈیجیٹل پاکستان بنا دیا گیا، یہ پروگرام براہ راست وزیراعظم کی زیرنگرانی کام کرتا ہے۔

سینئر صحافی عمر قریشی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں اس خبر کو بریک کیا جس کے مطابق اسی ماہ ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن (ڈی پی ایف) نام کے ایک نان پرافٹ ادارہ ایس ای سی پی کے تحت رجسٹرڈ ہوا جس کا مقصد ڈیجیٹل پاکستان پروگرام میں معاونت کرنا تھا۔

ایس ای سی پی کی ویب سائیٹ کے مطابق ڈی پی ایف کے بانی ڈائرکٹرز میں تانیہ ایدروس، جہانگیر ترین، کریم ٹیکسی کمپنی کے سی ای او مدثر الیاس شیخ اور جہانگیرترین کے وکیل سکندر بشیر محمد شامل تھے۔

کمپنی میں تانیہ ایدروس کی شمولیت اور اس کی فنڈنگ اور آپریشنز میں غیرشفافیت نے مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا کر دیے۔

دوسری جانب تانیہ ایدروس نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈی پی ایف پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے بلکہ یہ غیرنفع بخش ادارہ ہے، اگر یہ نفع کمانے والا ادارہ ہوتا تبھی مفادات کے ٹکراؤ کا الزام عائد ہو سکتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی پی ایف کا مقصد حکومت کو مختلف شعبے ڈیجیٹل کرنے میں مفت مدد مہیا کرنا ہے، یہ ادارہ حکومت سے کوئی پیسے نہیں لیتا بلکہ عطیہ دینے والوں سے فنڈ اکٹھا کرتا ہے، یہ حکومت پر بوجھ نہیں بلکہ اس کا بوجھ کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

جہانگیر ترین کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ بلاشبہ ادارے کی ٹیم کا حصہ تھے لیکن انہوں نے اپنے ذاتی معاملات اور کاروباری مصروفیات کے باعث اپریل میں بورڈ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

تانیہ ایدروس نے بتایا کہ جہانگیر ترین نے 15 اپریل کو ادارے کے ممبر اور ڈائرکٹر کے طور پر استعفیٰ دیا تھا جسے ایس ای سی پی نے 23 اپریل کو منظور کر لیا تھا، ان کے وکیل نے بھی ادارے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بورڈ آف ڈائرکٹرز نے ابھی ان دونوں افراد کی جگہ نئی تعیناتیاں کرنی ہیں، تانیہ ایدروس نے بتایا کہ کورونا کے باعث یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایف کا کوئی ڈائرکٹر یا چیئرپرسن اگر سرکاری عہدیدار ہو تو وہ ادارے سے کسی قسم کی تنخواہ نہیں لیتا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

ہمارا تعلیمی نظام | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق کسی بھی ملک اور قوم کے لئے اس کا تعلیمی نظام نہایت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے