ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

وزیراعظم صاحب عوام کو فرق کیوں نہیں پڑ رہا؟ | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

عمران خان صاحب کی حکومت کے دو سال مکمل ہو گئے۔ مگر عوام کی حالت بہتر ہونے کی بجائے مزیدبدترہو گئی۔موصوف نے فرمایا کرپشن ختم ہو گئی، مگر عوام کو فرق نہیں پڑا۔پھر فرمایاکہ اب لوگ خود ٹیکس دیں گے اورپہلے سے زیادہ ٹیکس جمع ہو گا،مگرٹیکس جمع ہونا تو دور کی بات ،ٹیکس کے نظام تک کو فرق نہیں پڑا۔ آپ نے فرمایا کہ سمندر پار پاکستانی ملک میں اتنا پیسہ بھیجیں گے کہ جس کی حد نہیں،پیسہ تو آیا نہیں، الٹا کرونا کی وبا کے پیش نظر بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی بیروزگار ہو کر ملک واپس آگئے۔جناب آپ نے توفرمایا تھا کہ نوکریاں ملیں گی، مگر اس کے برعکس لوگ بے روز گار ہونا شروع ہو گئے اور کتنے ہی خاندانوں کے چولہے بجھ گئے۔ آپ نے کہا کہ حکومت گھر فراہم کرے گی مگر معیشت کی حالت ایسی ہو گئی کہ لوگ اپنی موجودہ چھت سے بھی محروم ہونا شروع ہوگئے۔ آپ نے چینی بحران کا نوٹس لیا، چینی مہنگی ہوئی آپ نے آٹے کے بحران کا نوٹس لیا آٹا مہنگا ہوگیا ۔ جے آئی ٹی بنا کر مافیا کو ذمہ دار تو قرار دے دیا مگر عوام کو سستے داموں نہ چینی ملی اور نہ ہی آٹا ۔ پیٹرول بحران کا نوٹس لیا تو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پھر کہیں عوام کو پیٹرول ملا۔ عثمان بزدار کو پنجاب پر مسلط کیا اور اب تک آپ اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ پنجاب پر بزدار ہی مسلط رہیں گے۔ مگر پنجاب کی عوام کو کیا فرق پڑا؟ میں نے یہاں مسلط کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اگست کی پہلی جمعرات چند صحافیوں کی( جن میں کاشف عباسی، مہر بخاری، غلام حسین، صابر شاکر، حامد میر، عامر متین شامل تھے )ڈی جی (آئی ایس پی آر) سے ملاقات ہوئی وہاں یہ بات کی گئی کہ چیف صاحب تین مرتبہ عمران خان صاحب سے بزدار صاحب کی گورننس کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں، مگر عمران خان ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ ڈی جی صاحب نے جواب دیا کہ آپ کی انفارمیشن غلط ہے اس پر خاموشی چھا گئی اورایک بہت چھوٹے توقف کے بعد (ڈی جی) صاحب نے کہا کہ تین بار نہیں بلکہ کہیں زیادہ مرتبہ خان صاحب کو بزدار صاحب کے حوالے سے کہہ چکے ہیں جس پر ایک سافٹ قہقہہ بلند ہوا، اوراب بزدار صاحب کی نیب والی کہانی سب کے سامنے ہے۔

کچھ دوستوں کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اس کیس سے بچنے کے لئے کافی محنت اور کاوش کرنی پڑے گی۔ بتانے والے یہ بھی بتاتے ہیں کہ پرسنل سیکرٹری راحیل صدیقی صاحب اور ڈی جی ایکسائز کی آڈیو (ریکارڈنگ) ہے ، جس میں راحیل صدیقی صاحب فرما رہے ہیں کہ چیف منسٹر صاحب چاہتے ہیں کام جلدی کریں ۔ اب D.G excise تو پہلے ہی وعدہ معاف گواہ ہیں۔ راحیل صدیقی بھی شاید اسی ڈگر پر چلیں۔ رہ گئے ڈی پی او صاحب تو وہ جناب بزدارصاحب کے پھوپھا ہیں ان کا جھگڑا ہے عثمان بزدار صاحب کے چھوٹے بھائی کے ساتھ، کیونکہ ایک زمین کے کیس میں عثمان بزدار صاحب صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی کا ساتھ نہیں دیا تھا جس پر ان کے بھائی نے پریس ٹاک بھی کی اور الزام لگایا کہ ڈی پی او صاحب نے رشوت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ پیسے لے کر لوگوں کے کام کروا رہے ہیں ۔ یہی الزام ہوٹل مالک کی جانب سے بھی لگایا گیا، اب یا تو یہ چاروں لوگ اپنے بیان سے منحرف ہو جائیں یا ڈٹے رہیں بزدار صاحب رہیں یا جائیں پنجاب کے عوام پر کیا فرق پڑنا ہے، ان کی حالت زار تو وہی رہنی ہے۔ بقول عمران خان ،کرپشن کے جو بادشاہ ہیں وہ نیب نے پکڑے ہیں مگراس سے اس ملک کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ ملک کی قسمت کون سی بدلی ہے، جو عثمان بزدار کے رہنے یا نہ رہنے سے بدل جائے گی۔ ویسے ہی عثمان بزدار کی شہرت کو داغ دار کرنا تھا وہ کر دیا کہ ریاست مدینہ میں شراب کا لائسنس وہ بھی رشوت لے کر یہ الزام ہی بہت ہے۔

چلیں اب ذکر کرتے ہیں دو خبروں کا ایک سپریم کوٹ کا فیصلہ کہ کمپنیز حکومت کو Gas infrastructure development کی مد میں جو پیسے تھے وہ ادا کریں اور دوسرا حکومت آئی پی پیز سے مذاکرات کر کے capacity payment کی مد میں جو پیسےدیتی ہے وہ تقریباً 11فیصد کے قریب کم کروائیں گے ،جس کا ہمارے پاکستان تحریک انصاف کے دوست اب ڈھول پیٹیں گے۔

اب چلتے ہیں چند دن پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ Gas infrastructure development کیس کا جس میں حکومت کو کمپنیزکابقیہ 417 ارب ادا کرنے کا کہا گیا ہے ۔ اس پر ہم سب بہت خوش ہیں۔ کچھ ہمارے صحافی اساتذہ اس کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں کہ یہ ان کی اسٹوری تھی اس کی وجہ سے ان کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا مگر جناب اس فیصلے میں چند نکات ہیں ایک تو ندیم بابر صاحب نے کامران خان صاحب کے پروگرام میں بتا دیا کہ 295 ارب جو اس مد میں پچھلی حکومتیں لے چکی ہیں وہ اس حکومت کو اپنے پاس سے ڈالنا پڑیں گے۔ جو 417 ارب کمپنیز کو چوبیس قسطوں میں ادا کرنے پڑیں گے، جو کہ تقریباً 17 ارب ماہانہ بنتے ہیں۔ دوسرا اس فیصلے میں لکھا ہے کہ جناب یہ پیسہ صرف وہیں لگ سکتا ہے جس مد میں لیا گیا ہے۔ یعنی special project جو تین ہیں ایران پاکستان گیس پائپ لائن ، دوسرا ”تاپی“ اور تیسرا نارتھ ساوتھ گیس پائپ لائن جو LNGکی ملک میں منتقلی کے لیے ہے۔ اب پہلے جو دو پراجیکٹ ہیں وہ 2002 سے شروع ہیں اب تک ان کا کچھ پتہ نہیں۔ اب جب تمام پیسہ یہاں منتقل ہو گا تو پڑا رہے گا۔ اب کیا کریں کہ عدالت عالیہ کے فیصلے پر عمل درآمد ضروری ہے۔ عدالت عالیہ سے ادب و احترام اور معذرت سے اگر اس کو جیسے چل رہا تھا ویسے رہنے دیا جاتا تو اچھا تھا کیونکہ اس طریقے میں نہ حکومت کو 295 ارب اپنے پاس سے ڈالنے پڑتے جو خرچ پچھلی حکومتیں کر چکی ہیں باقی 417 ارب میں سے 208 ارب معاف ہونے تھے اور باقی کی مد میں ان کمپنیز نے کھاد اور سی این جی، ایل پی جی وغیرہ کی قیمتیں کم کرنا تھیں۔ کیونکہ وہ پیسے حکومت نے بل، ٹیکس کی مد میں ان کو ریلیف دینا تھا۔ اب ہو گا کیا۔ حکومت 295 ارب کسی development کے پراجیکٹ سے نکالے گی اور یہ کمپنیاں کھاد اور سی این جی، ایل پی جی مہنگی کریں گی۔

دوسرا آ جائیں (آئی پی پیز )کے ساتھ جن (ایم او یوز) کا ذکر اورکریڈٹ حکومت لے رہی ہے ان میں سے چھے پراجیکٹس 1994 کے ہیں ان میں سے بھی پانچ آپریشنل نہیں تھے اور ان پراجیکٹس کی مدت ختم ہو چکی ہے ، یعنی یہ بے کار ہو چکے ہیں، باقی پر 2002 اور 2012 کی پالیسی لاگو ہوتی ہے۔

اب دوسری بات شبلی فراز صاحب نے کہی کہ ادائیگی روپوں میں ہو گی اور وہ ہے 148 روپے کے حساب سے، جناب یہ تو کم سے کم ہے، یہ بجلی بنتی ہے فرنس آئل سے ، فرنس آئل آتا ہے بیرونِ ملک سے اور ادائیگی ہوتی ہے ڈالر میں ،اب جو اس خاک سار نے عرض کیا کہ فیول پرائس کی مد میں جب ڈالر کی قیمت بڑھے گی تو زیادہ پیسے ادا کرنے ہونگے یعنی ادائیگی روپوں میں ہو گی مگر148روپے سے زیادہ۔ تو جناب آئی پی پیز کے ساتھ جو بچت گنوائی جا رہی ہے جسے کامیابی گنا جا رہا ہے وہ ہے تقریبا( 11فیصد) اب اسے بچا کر اگر فیول کاسٹ( 15فیصد) بڑھ گئی یا بڑھا دی گئی تو پھر عام صارف پر( 4فیصد) کا اضافی بوجھ پڑے گا اس کا جواب یہ ہے کہ میرے ہم وطنوں آپ صرف فی یونٹ قیمت دیکھیے گا چاہے مئی ،جون کا مہینہ ہو یا دسمبر کا آپ کو کہانی سمجھ آ جائے گی کہ انہوں نے کان سیدھا پکڑا ہے یا الٹا۔ اب بتائیں عوام کو فرق کیا پڑا، کیا فائدہ ملا۔

ایک اور اقدام ہے جس سے عوام کو فرق پڑنا چاہیے۔ اور وہ ہے کراچی کے مسئلے پر سب لوگوں کی عمران خان سمیت پریشانی۔ چیف جسٹس صاحب نے کراچی میں کیس سنا۔ وہاں انھوں نے بہت سے احکامات دیے اور بہت سے سوالات اٹھائے۔ جس میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک جواب دیا جس نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی اور وہ تھا وفاق بہت سے آپشنز پر غور کر رہا ہے اور بہت سی چیزیں دیکھی جا رہی ہیں مگر ابھی میں بتا نہیں سکتا۔ اس کے ایک دن بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی کہا کہ انھیں کراچی کی بہت فکر ہے۔ کراچی کے مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر کیا حل ہیں آئین اور قانون میں رہتے ہوئے کراچی کے مسائل سے نمٹنے کے,تو آج کے دن تک میرے ذہن میں چار حل آئے ۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔

پہلی صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ وفاق آئین کے آرٹیکل( 149-4) کے تحت صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتا ہے کہ صوبائی حکومت یہ کام کرے وہ اقتصادی یا امن و سکون سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس میں کافی کچھ آ سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہو پائے گا۔ کیا یہ نسخہ کارگر معلوم ہوتا ہے۔ تو معذرت کے ساتھ جواب ہے نہیں۔ کیونکہ کراچی میں کارپوریشن پر ایم کیو ایم براجمان قومی اسمبلی میں کراچی کی اکیس سیٹیں ہیں جن میں 14 سیٹیں پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہیں، 4 سیٹیں ایم کیو ایم کے پاس ہیں اور صرف تین سیٹیں پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس ہیں۔ یہ سیٹیں کیسے آئیں، کیوں آئیں کون دے کر گیا کیسے دے کر گیا، یہ ایک الگ بحث ہے۔ اب اس صورت حال میں پاکستان پیپلزپارٹی کی توجہ کیونکر کراچی پر ہو جب بلدیاتی نظام ایم کیو ایم کے پاس ہے ،اور وفاق نے ورکنگ ریلیشن صوبے سے رکھے ہی نہیںہوں۔

دوسری آپشن گورنر راج کی ہے۔ یعنی اگر صوبائی حکومت کوئی بات نہ مانے تو گورنر راج لگا دیا جائے۔ مگر اٹھارہویں ترمیم کے بعد آب چھ ماہ سے زیادہ گورنر راج نہیں لگا سکتے وہ بھی دو دو ماہ کر کے اور کوئی منصوبہ بھی آپ اس گورنر راج میں مکمل نہیں کر سکتے۔ نہ گرین لائن، نہ کچرا، نہ بجلی پانی۔ تو پھر اس سے زیادہ سبکی آپ کے پلے پڑے گی جتنی آج ہے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ صدر کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی علاقہ میں Financial emergency نافذ کر سکتا ہے۔ صدر وفاق کو ڈائریکشن دیتا ہے اور صوبہ بھی پابند ہوتا ہے۔ مگر ایک مسئلہ ہے کہ یہ بھی گورنر راج کی طرح چھ ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکتا اور اس کے بھی کوئی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

پہلے تینوں آپشنز میں ایک قباحت ہے کہ اگر کام ہو بھی جائے گا تو مکمل کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کو نہیں ملے گا اور وہ یہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ایک اور بات عرض کروں کچھ عرصہ پہلے  NDU میں کسی بڑی شخصیت نے پی ٹی آئی کراچی کے ممبران قومی اسمبلی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو پرفارم کرنا ہے ورنہ روز روز ایسی پاکٹس نہیں بنتی جیسی ایم کیو ایم کے نہ ہونے کی وجہ سے بن گئی اور آپ جیت گئے۔ اگر پرفارم نہ کیا تو آپ کا وجود کراچی سے ختم بھی ہو سکتا ہے۔

چوتھا آپشن جو میری سمجھ میں آ رہا ہے وہ ہے آئین کا آرٹیکل 152 ”Acquisition of land for federal purposes “ اب اس آرٹیکل میں Land کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسکی اجازت کابینہ بھی دے دے گی اور حکمنامہ صدر صاحب بھی جاری کر دیں گے مگر اس لفظ ”Land“ کی تشریح عدالت عالیہ ہی کرے گی کہ اس میں پورا کراچی آتا ہے یا صرف ہزار گز کا پلاٹ آتا ہے۔ اگر عدالت عالیہ اس کی تشریح میں مکمل کراچی شامل کر لیتی ہے تو کراچی فیڈرل ایریا قرار دے دیا جائے گا اوراس ایریا کا کنٹرول گورنر کے پاس ہو گا۔ پھر شاید NFC ایوارڈ میں سے کچھ پیسے کٹ کر کے فیڈرل کو دے دیے جائیں کہ وہ کراچی پر خرچ کریں، مگر یہ ایک خطرناک مثال ہو گی اور یہ روایت ایک سیاسی ہیجان کو جنم دے گی۔ پیپلزپارٹی عوام کے سامنے اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا ہر فورم پر نعرہ بلند کرے گی۔ وفاق اور بہت سے دوسرے اداروں کے سوتیلے پن کے سلوک کاکہا جائے گا۔ جس سے پیپلزپارٹی کو عوام تک پہنچنے کا ایک آسان اورموثر راستہ ملے گااور آئندہ ہر علاقائی مسئلے کا حل 152 سے ہی کرنے کی کوشش ہو گی۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کرنے سے کراچی کے مسائل حل ہو پائیں گے تو میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ شاید یہ صرف صوبائی حکومت کو دباو میں لانے کے لیے ہے کہ وہ کام کریں مگر یہ دباو اور پریشر کیوں۔ دھونس اور زبردستی کیوں۔ عمران خان صاحب اپنی انا کیوں نہیں چھوڑتے۔ میری گزارش ہے چیف جسٹس آف پاکستان سے کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم دونوں کو بلائیں کچھ حصہ وفاق سے ڈلوائیں اور کچھ صوبے سے اور انھیں ورکنگ ریلیشن کا پابند کریں۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ عمران خان صاحب کے کراچی میں نوٹس لینے سے پھر کراچی کے عوام کے مسائل کوکوئی فرق نہ پڑے۔ باقی عوام کا اللہ مالک۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

محکمہ داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک کردیا گیا

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے سربراہ سعد رضوی کا شناختی کارڈ بلاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے