جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

وبا اور انسان دوستی | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل

پچھلے چند ماہ سے دنیا ایک خطرناک وبا کا شکار ہے ہر ملک اپنی اپنی اسیتداد کے مطابق موزی مرض کے خلاف لڑ رہا ہے، دنیا بھر میں چالیس کے قریب دوا ساز کمپنیوں نے ویکسین کی تیاری شروع کردی ہوی ہے، بلکہ کی کمپنیوں نے ویکسین کے جانوروں پر کامیاب تجربات کے بعد اب انسانوں پر بھی شروع کر دیے، جو کہ بہت حوصلہ افزا بات ہے، تاہم اس ویکسین کی مکمل تیاری اور دنیا بھر میں ترسیل تک مزید 6 ماہ تک لگ سکتے ہیں، اس دوران کئی ملکوں میں ابھی تک وبا اپنے عروج پر ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے جبکہ چین کوریا یورپ اور آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں وبا کا زور ٹوٹ چکا ہے۔

جب تک اس وبا کی ویکسین عام نہیں ہوتی تب تک اس وبا سے نمٹنے کے دو ہی طریقے ہیں ایک حد سے زیادہ احتیاط کی جائے ماسک کا استعمال کیا جاے سماجی دوری کا خیال رکھا دوسرا اگر کوہی کرونا وائرس میں مبتلا ہو جائے، تو اس کو صحت مند ہونے والے افراد کا پلازمہ لگایا جائے، جس کرونا وائرس میں مبتلا مریض ٹھیک ہو سکتا ہے اس وقت دنیا بھر پلازمہ عطیہ کرنے والے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ہمارے دوست فراز الحق جو چرچ آف جیسس کے ترجمان ہیں، انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے وبا کے ان خوفناک دنوں میں جنوبی کوریا کے عوام نے انسان دوستی کی بہت بڑی مثال قائم کی ہے اور اپنی حکومت کے ساتھ مل کر اس موذی وبا کو شکست دی ہے، جنوبی کوریا میں کرونا وائرس سے صحتِ مند ہونے والے 4000 افراد اب تک 83 ارب مالیت کے پلازمے عطیہ کر چکے ہیں، جو انسانیت کی عظیم ترین خدمت ہے ۔ان تمام افراد وہاں کے بڑے گرجا گھر میں جا کر اعلان کیا ہے، ہم یہ پلازمہ بلا کسی رنگ ونسل اور مذہبی امتیاز کے عطیہ کرتے ہیں۔

اگر 4000 افراد انفرادی طور پر 500 ملی لیٹر خون کا عطیہ دیں خون کی مقدار 83 بلین ڈالر بنتی ہے ۔فراز الحق کے مطابق جنوبی کوریا میں جب وبا پھیلی وہاں کی عوام نے اپنی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور اس وبا کو شکیت دی 12535 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوے جس میں صرف 281 اموات ہوئیں ۔ہمارے دوست چاہتے کہ ہم پاکستانی بھی اسی جذبہ کے تحت اس وبا کا مقابلہ کریں اور صحت مند ہونے والے افراد اپنے پلازمے عطیہ کرنے کا اعلان کریں ہم سب مل کر حکومت کے نافذ کردہ اسیس او پیز پر پوری طرح عمل درآمد کرہں تاکہ جلد سے جلد موذی وبا اس ملک سے ختم ہو جائے۔

اچھی خبر یہ ہے پاکستان ان ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں وینٹی لیٹر تیار کیے جا سکتے ہیں، اس کے لیے وفاقی وزیر سانئس اور ٹیکنالوجی اور ان کی وزارتِ مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس میں کوی شک اس وبا نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ دنیا کو اپنے وسائل جنگی اخراجات پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے کہ صحت عامہ پر خرچ کرنے چاہیے۔

دنیا کو اربوں ڈالر کے ہتھیار جنگی جہازوں کی ضرورت ہے کہ کرونا ویکسین کی اور ونٹی لیٹز کی کرونا وائرس کے بعد کی دنیا متحلف ہو گی اس وبا پوری دنیا کے انسانوں میں انسانی حقوق اور اقدار کو بیدار کیا ہے اور دنیا کو انسان دوست بنا دیا ہے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وزیراعظم عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے