ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

نوٹ دکھا کر ’’موڈ‘‘ بنانے کی کوشش | نصرت جاوید

آج سے چند ہفتے قبل لندن میں مقیم ایک پاکستانی نژاد ’’سینئر صحافی‘‘ کی بدولت کاوے موسوی نام کا شخص منظر عام پر آیا تو میں گھبرا گیا۔ اپنے بچپن میں سنی وہ کہانیاں یاد آنا شروع ہوگئیں جو ’’طوطیا من موتیا‘‘ کو ’’اُس گلی‘‘ میں نہ جانے کا مشورہ دیتی ہیں۔ میں دہائی مچانا شروع ہوگیا کہ یہ بندہ نوسرباز ہے۔ اسے بخوبی علم ہے کہ پاکستان کے سادہ لوح عوام کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ سیاست دانوں کا روپ دھارے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ نے قوم کے خون پسینے کی کمائی سے بنائے ’’ریاستی خزانے‘‘ سے اربوں روپے چرالئے ہیں۔ لوٹی ہوئی اس رقم سے بیرون ملک قیمتی جائیدادیں خریدی گئیں۔ اس رقم کا خیرہ کن حصہ بین الاقوامی بینکوں کے ’’خفیہ‘‘ کھاتوں میں بھی جمع کرا دیا گیا ہے۔ ’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کی بازیابی کے لئے کسی دلاور کا انتظار تھا۔ عمران خان صاحب کی صورت اگست 2018میں بالآخر ایک مسیحا وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگیا۔ اب انتظار ہورہا ہے کہ وہ ریاستی مشینری کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لائیں۔ یہ رقم بازیاب ہوجائے تو ہر دوسرے مہینے ہم اپنے بجلی اور گیس کے بلوں میں اذیت دہ اضافے سے محفوظ ہوجائیں گے۔ آئی ایم ایف کے درپر کشکول لے کر صدا لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارا قومی وقار بحال ہوجائے گا۔

’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کی نفرت میں مبتلا ہوکر ہم نے جو خواب دیکھے تھے انہوں نے ہمیں بحیثیت قوم ’’گڈگورننس‘‘ کا ’’لالچی‘‘ بنادیا۔ ایک پنجابی محاورہ متنبہ کرتا ہے کہ لالچ بالآخر جھوٹے شخص کا محتاج بنادیتا ہے۔موسوی ویسا ہی نظر آیا۔ چکنی چپڑیں باتوں سے دل موہنے والا ’’اپدیشک‘‘ جس کا دعویٰ تھا کہ اس نے ہمارے کئی نامور سیاست دانوں کی خفیہ رکھی دولت کا سراغ لگالیا ہے۔ ’’نوٹ دکھا‘‘ کر اس کا موڈ بنادیا تو بلے بلے ہوجائے گی۔

موسوی کی شعبدہ باز گفتگو سے تاہم ہمارے کئی معتبر اور عوام میں بے پناہ مقبول اینکر خواتین وحضرات مسحور ہوگئے۔  حتیٰ کہ جناب وزیر اعظم نے بھی ستائشی ٹویٹس لکھ کر موسوی کی گفتگو کو سراہا۔ ایسا کرتے ہوئے یہ حقیقت کمال دریا دلی سے فراموش کردی کہ وہ نوسربازی سے تیار ہوئے ایک معاہدے کی بدولت ریاستِ پاکستان کی کماحقہ انداز میں مدد کرنے میں ناکام رہنے کے باوجود ہم سے اپنی ’’خدمات‘‘ کے عوض کروڑوں روپے بطور ’’تاوان‘‘ وصول کرچکا ہے۔ تاوان وصول کرلینے کے باوجود اس کی ہوس مگر ختم نہیں ہوئی۔ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف ہمارے دلوں میں جمع ہوئی نفرت کو لچھے دار کہانیاں سنا کرمزید بھڑکارہا ہے۔

بنیادی پیغام موسوی کا یہ تھا کہ ماضی میں جو ہوا اسے بھلادیا جائے۔ اس کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ہو۔ اس کی بدولت وہ کم از کم سنگاپور کے ایک بینک میں مبینہ طور پر نواز شریف کے کھاتے میں موجود ’’ایک ارب ڈالر‘‘ بازیاب کروا سکتا ہے۔ منیر نیازی کے بے پناہ تخلیقی ذہن نے ’’سپنے ‘‘ کی بھی ’’حد‘‘ دریافت کرلی تھی۔ ان کی دریافت سے مجھے سبق ملا کہ ’’دو نمبری‘‘ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ جھوٹ کے ویسے بھی پائوں نہیں ہوتے۔ بالآخر بے نقاب ہو کر رہتا ہے۔ موسوی بھی نت نئی کہانیاں گھڑنے کی عادت سے مجبور ہوکر ہماری ریاست کے ایسے اداروں کے بارے میں بدگمانیاں پھیلانا شروع ہوگیا جن کی نیت و کردار قومی مفاد میں زیر بحث نہیں لائے جاتے۔ موسوی کی مارکیٹنگ کے لئے روایتی اور سوشل میڈیا کی سکرینوں پر جو ہٹی کھلی تھی ’’اچانک‘‘ بند کرنا پڑی۔ شعبدہ باز مگر اپنا دھندا چلانے کے لئے نئے ٹھکانے ڈھونڈ لیتا ہے۔ویسے بھی لندن میں مقیم ایک محنتی رپورٹر -مرتضی- اس کی جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا۔

پیر کے دن مرتضیٰ نے موسوی کو ایک اور کہانی کے ضمن میں گھیرلیا۔ اب کی بار اس کی سنائی کہانی کا اصل نشانہ لندن کے ایک ’’چیتھڑا‘‘ شمار ہوتے اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کا نمائندہ ڈیوڈ روز تھا۔ یہ صحافی بھی ہمارے ہاں کئی دنوں تک پاکستان کے غریب عوام کا حامی و ناصر’’ہیرو‘‘ شمار ہوتا رہا ہے۔ اپنے اخبار کے لئے اس نے یہ داستان چلائی کہ برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کی جانب سے جمع ہوئی رقوم میں سے جو حصہ پاکستان جیسے غریب ملکوں کو ’’خیرات‘‘ کی صورت دیا جاتا ہے اس میں خردب رد ہوئی ہے۔ پنجاب میں ’’گڈگورننس‘‘ کی علامت شمار ہوتے شہباز شریف نے مبینہ طور پر ہمارے ہاں زلزلے کے متاثرین کی بحالی کے لئے آئی امدادی رقوم کو بھی دولت کی ہوس میں نہیں بخشا۔

اس کالم کے باقاعدہ قاری بخوبی آگاہ ہیں کہ شہباز شریف صاحب کے اندازِ حکومت سے میں کبھی متاثر نہیں ہوا۔ تسلسل سے بلکہ اصرار کرتا رہا ہوں کہ سڑکوں، انڈراور اوورہیڈ پاسز جیسے ’’ترقیاتی‘‘ کاموں کے لئے وہ Top Down Model کے جنونی پیروکار ہیں۔ ایسے ماڈل میں عوامی خواہشات و ترجیحات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ افسر شاہی ازخود ’’ترقی‘‘ کے چند منصوبے سوچتی ہے جو بالآخر تاج محل کی طرح ’’عجوبہ‘‘ تو نظر آتے ہیں مگر ’’انسانی‘‘ ترقی کو طویل المدت بنیاد پر یقینی نہیں بناتے۔

شہباز شریف صاحب کا شدید ناقد ہوتے ہوئے بھی ڈیوڈ روز کی بتائی کہانی میرے لئے ہضم کرنا ممکن نہیں تھا۔ ’’ڈیلی میل‘‘ بنیادی طورپر برطانیہ کے گورے نسل پرستوں کا بدزبان ترجمان ہے۔ برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کو ہمیشہ جرائم کا عادی بناکر دکھاتا ہے۔ مسلمان اس ضمن میں اس اخبار کا خصوصی ہدف ہیں۔ جنونی ’’وطن پرستی‘‘ سے مغلوب ہوکر یہ اخبار مسلسل یہ سوال بھی اٹھاتا رہتا ہے کہ برطانیہ میں لاگو ٹیکسوں کی بدولت جمع ہوئی رقوم میں سے پاکستان جیسے ممالک کو ’’امداد‘‘ کیوں جاتی ہے جبکہ اس ملک کے حکمران ’’چور اور لٹیرے‘‘ ہیں۔

ڈیوڈ روز نے شہباز شریف کے خلاف جو کہانی گھڑی وہ ’’ڈیلی میل‘‘ کے کلیدی ایجنڈے کو با اثر بنا رہی تھی۔ عمران خان صاحب برطانیہ سے خوب واقف ہیں۔ وہ ذاتی طورپر بھی اس ’’چیتھڑے‘‘ میں چھپی کئی کہانیوں کی زد میں رہے ہیں۔ شہباز شریف سے کامل نفرت نے مگر انہیں ’’ڈیلی میل‘‘ کی اصل اوقات بھلا دینے کو مجبور کردیا۔ ڈیوڈ روز ہمارا ’’ہیرو‘‘ بن گیا۔ شہبازشریف اس کے خلاف عدالت میں چلے گئے۔ برطانوی جج نے ان کی درخواست کو عدالتی کارروائی کے قابل قرار دے دیا ہے۔ ہتک عزت کے دعویٰ کی اب مزید جانچ پڑتال ہوگی۔ ابتدائی سماعت اگرچہ عندیہ دے رہی ہے کہ ڈیوڈ روز اور اس کے اخبار کو غالباََ عدالتی کارروائی سے جند چھڑانے کے لئے شہباز شریف سے ’’مک مکا‘‘ ہی کرنا ہوگا۔

موسوی کی ’’گواہی‘‘ نے ڈیوڈ روز کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ مرتضیٰ سے کیمرے کے روبرو ہوئی گفتگو میں اس نے دعویٰ کیا کہ پاکستانیوں کے ’’خیر خواہ‘‘ بنے اس صحافی نے موسوی سے بھی اپنے مکان کی ملکیت کو حتمی بنانے کے لئے بھاری رقم کا تقاضہ کیا۔ اپنی ’’خدمات‘‘ کے عوض ڈیوڈ روز نے اسے عمران حکومت تک مؤثر رسائی کے خواب دکھائے۔ سیدھے الفاظ میں ’’چور کو مور‘‘ مل گیا۔ بات اگرچہ بنی نہیں۔

ڈیوڈ روز اب ٹویٹس لکھ کر اپنی صفائیاں دے رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی وہ لندن میں مقیم ایک ’’جید‘‘ صحافی ہونے کا دعوے دار ہے۔ موسوی بھی اسی شہر میں رہائش پذیر ہے۔ پاکستان کے برعکس برطانیہ میں ہتک عزت کے قوانین بہت سخت ہیں۔ عدالتیں بھی اس ضمن میں کافی تیز رفتاری دکھاتی ہیں۔ بجائے ٹویٹس لکھنے کے وہ موسوی کو اپنے وکلاء کے ذریعے نوٹس بھیجے۔ اپنی ’’عزت و وقار‘‘‘ کا تحفظ کرے۔ یہ تحفظ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ شہباز شریف کا ہتک عزت والا مقدمہ ابھی بھی عدالت میں زیر غور ہے۔ موسوی کا دعویٰ اگر درست ثابت ہوا تو ڈیوڈ روز اور ’’ڈیلی میل‘‘ کے پلے اپنے دفاع کے لئے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ ہم بدنصیب پاکستانیوں کو اس سارے جھگڑے میں لیکن ٹکے کا فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف اندھی نفرت سے مغلوب ہوکر ہماری ریاست موسوی جیسے شعبدہ باز کو پہلے ہی خاطر خواہ رقم بطور تاوان ادا کرچکی ہے۔ ہمارے ’’لالچ‘‘ سے فائدہ اٹھاکر اب موسوی ڈیوڈ روز کا ’’مور‘‘ بننے کی تیاری کررہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

تعارف Moderator

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

ایک تبصرہ

  1. Dr Nasir Khan Durrani from Charsadda

    Hopefully the one with sense go through this and make their opinion clear.

Dr Nasir Khan Durrani from Charsadda کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے