منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

نوراکشتی ‘چمن بارڈر سانحہ‘، ایثار و قربانی | حیدر جاوید سید

تحریر: حیدر جاوید سید

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل اور قومی سلامتی ایکٹ ترمیمی بل2020ء کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے۔
سینیٹ میں قانون سازی کیلئے اپوزیشن نے حکومت سے ”بھرپور“ تعاون کیا۔
جے یو آئی نے متحدہ اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں‘ نون لیگ اور پی پی پی کی ”پھرتیلی حکمت عملی“ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف سینیٹ میں بلز کیخلاف ووٹ دیا بلکہ متحدہ اپوزیشن سے علیحدگی کا بھی اعلان کر دیا،

گوکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی یہ کہانی سنا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک تیسرا بل جو بقول ان کے فٹیف کی آڑ لے کر انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں پر حملہ تھا کو مذاکرات کے مرحلہ میں ہی مسترد کر دیا تھا اور جو دو بل منظور کروائے گئے ان کے حوالے سے ہم نے قومی مفاد کو سامنے رکھا ہے۔
لیکن یہ عجیب سا قومی مفاد ہے جس کے ظاہر وباطن کا پتہ چلتا ہے نا یہ کہ کب کون اس ”قومی مفاد“ پر قوم کو قربان کر دے۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ قومی اسمبلی میں ان بلوں کے حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب مناسب تھا نہ انہوں نے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کی۔
یہ بجا ہے کہ پچھلے دنوں میں جو تبدیلی پروگرام اور مائنس ون کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ان دنوں پی پی پی نے رابطہ کرنے والی سندھ کی ایک روحانی شخصیت پر واضح کر دیا تھا کہ مائنس ون کی صورت میں شاہ محمود قریشی قابل قبول نہیں، اور شاہ جی یہ بات دل پر لے گئے۔
کبھی صحافیوں سے اُلجھتے ہیں، کبھی قومی اسمبلی میں زورخطابت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس روایتی وضع داری کو روندتے دکھائی دیتے ہیں جو ان کی وجہ شہرت ہے۔
فٹیف اور قومی سلامتی ایکٹ کے حوالے سے ہوئی قانون سازی میں اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے کردار کو قومی مفاد کے پیچھے چھپانے کی بھونڈی کوشش میں مصروف ہیں یہی قابل افسوس ہے۔
اپوزیشن کو سوال کرنا چاہئے تھا کہ حکومت اپنے بعض ان اقدامات اور کچھ شخصیات کے الٹے سیدھے بیانات پر وضاحت کیوں نہیں کرتی جن سے فٹیف میں معاملات بگڑے؟
بہرطور حالیہ اس قانون سازی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے پیش نظر اپنے مفادات ہیں ملک عوام جمہوریت یا قانون کی حقیقی حاکمیت ہرگز نہیں۔
جمعرات کی شام بلوچستان میں چمن کے مقام پر پاک افغان بارڈر پر رونما ہوئے سانحہ میں 4افراد جاں بحق اور 30سے زیادہ زخمی ہوئے۔
سانحہ اس وقت رونما ہوا جب ہزاروں لوگوں نے زبردستی افغانستان کی حدود میں داخل ہونے کیلئے ہنگامہ آرائی شروع کی، جس کے جواب میں سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کردی۔
چمن کے پاک افغان بارڈر پر پچھلے 60دنوں سے دھرنا بھی جاری ہے جس کی وجہ سے معمولات متاثر ہیں
چند دن قبل ایک مقامی ایم پی اے اور سیکورٹی فورسز کے درمیان انتظامیہ کی کوششوں سے ہونے والے مذاکرات میں ایم پی اے نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دوطرفہ راستہ کی ایک سڑک دھرنا دینے والوں سے کھلوا دیں گے۔
جمعرات کی شام عید پر افغانستان جانے والوں کا بارڈر پر رش بڑھ جانے اور راستہ نہ کھلنے پر پیدا ہونے والی بدمزگی نے کچھ دیر بعد ایک سانحہ برپا کروا دیا۔
اس سانحہ کے حوالے سے اس وقت تین موقف ہیں
اولاً یہ کہ فائرنگ پاکستانی سیکورٹی فورس نے کی
ثانیاً افغان سیکورٹی فورس نے اور تیسرا موقف یہ ہے کہ افغان شہریوں اور بارڈر انتظامیہ میں بات چیت جاری تھی کہ ڈیڑھ دو سو افراد گاڑیوں میں سوار ہوکر موقع پر پہنچے اور آتے ہی انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وہ سانحہ برپا ہوگیا جس میں 4افراد جان سے چلے گئے۔
اصل قصہ کیا ہے اس کیلئے بہرطور آزاد تحقیقاتی کمیشن کی ضرورت ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جب راستہ کھلوانے کیلئے معاملہ طے پاگیا تھا تو پھر ہنگامہ آرائی کیوں ہوئی۔
سانحہ چمن کو پاکستان کی پشتون دشمن پالیسی قرار دینے والوں نے بھی ایک جذباتی ماحول پیدا کرنے میں جلدبازی کر دی، انہیں بھی حقیقت حال جانے بغیر مؤقف نہیں دینا چاہئے تھا۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب بھی پاک افغان اعتمادسازی کیلئے دوطرفہ اقدامات شروع ہوتے ہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔
بہت ضروری ہے کہ جمعرات کے سانحہ چمن کی تحقیقات کیلئے بلوچستان ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ پورا سچ عوام کے سامنے آسکے۔
جس وقت آپ کالم کا یہ آخری حصہ پڑھ رہے ہوں گے، عیدقربان کے ابتدائی دو امور نماز عید اور قربانی سے عہدہ برآ ہو چکے ہوں گے۔
عید قربان محض دو رکعت نماز عید اور صاحب استطاعت کیلئے جانور کی قربانی کا نام نہیں یہ ایثار کے مظاہرے کی عملی دعوت ہے۔
اُمید ہے کہ قربانی کرنے والے شہری اپنے مستحق بہن بھائیوں اور دیگر افراد کا بطور خاص خیال رکھیں گے۔
عید کی خوشیوں میں انہیں بھی شامل کریں گے۔
جناب نفس زکیہ رضون اللہ تعالیٰ اجمعین سے کسی نے سوال کیا تھا، حضرت ایثار کیا ہے؟
ارشاد فرمایا ”شدید بھوک کے وقت سائل کی صدا پر سامنے رکھے کھانے کے تین حصے سائل کو دے دینا“ سادہ لفظوں میں یہ کہ ایک حصہ اپنے لئے رکھ کر سائل کو تین حصے دینا اس کے خاندان کیلئے ایثار کرنا ہے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عید پر قربانی کرنے والے صاحبان استطاعت تو اللہ کے فضل وکرم سے سال بھر نعمتوں سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں، قربانی کے موقع پر وہ نعمتوں کے شکرانے کا مظاہرہ عملی ایثار سے کریں اور زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کی مدد کریں جنہیں عید قربان یا غمی وخوشی کے موقع پر خیراتی کھانے میں گوشت نصیب ہوتا ہے۔
اسی طرح قربانی کی کھال پر بھی اول حق قریبی مستحق افراد اور شہرداروں کا ہے۔
خدمت خلق میں مصروف اداروں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے البتہ قربانی کی کھال دیتے وقت یہ ذہن میں رہے کہ انسانوں کی کھالیں اُتارنے والے یہ کھال نہ لے اُڑیں۔

پس نوشت: “تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ جمعرات کی شام چمن میں پاک افغان بارڈر پر سیکورٹی فورسسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے”۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے