منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

نوجوان قیادت آگے آئے | آصف سندھی

تحریر: آصف سندھی

آج کل ملکی سیاست میں پاکستان پپلزپارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بہٹو زرداری صاحب بڑے ہی سرگرم ہیں آج کل سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔ کچھ ھفتے پہلے مولانا فضل الرحمٰن صاحب بلاول ہائوس میں زرداری صاحب کی عیادت کے غرض سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ اس ملاقات کو کچھ تجزیہ نگاروں نے تو صرف رسمی ملاقات ہی قرار دیا۔ لیکن کچھ حلقوں میں سے یہ بات سنائی دی، کہ یہ ملاقات رسمی نہیں، بلکہ بلاول صاحب کی خاص دعوت پر مولانا صاحب وہاں تشریف لے گئے تھے، یہ بڑی ہی چونکا دینے والی بات ہے، بعض سیاسی حلقے تو یہاں تک باتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ آج کل نوجوان قیادت آگے آنے کا سوچ رہی ہے، بلاول صاحب پیپلزپارٹی کو مزاحمت کی سیاست میں انوالو کرنے کا سوچ رہے ہیں، لیکن یہ بات ان لوگوں کو بُری لگے گی، جو لوگ سیاست میں مزاحمت کو کفر سمجھتے ہیں۔

اسکے برعکس آج بھی پیپلزپارٹی میں کئی نظریاتی لوگ موجود ہیں جن کی سوچ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی سیاست ہمیشہ سے مزاحمتی رہی ہے، لہٰذا پپلزپارٹی کو مزاحمت کے طرف جانا چاہیے اس لئے اب لوگوں کی سوچ یے ہیکہ بلاول صاحب کو زرداری صاحب والی پالیسی نہیں بلکہ اپنے نانا اور اماں کی پالیسی پر چل کر مزاحمتی سیاست کرنی چاہیے۔
تبھی تو وہ لوگوں کی سوچ کا محور بنیں گے وگر نہ مفاہمت کہیں ڈبو نہ دے بلاول صاحب کے عروج کو۔ پاکستانی سیاست میں ہمیشہ یھی المیہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں مفاہمت اور مزاحمت کرنے کے بھی اپنے ہی طریقے اور اپنا ہی وقت طئے ہے۔ یہاں عوام کی فکر چند لوگوں کے علاوہ کسی کو نھیں کے غریب عوام پر کیا بیت رہی ہے اتنی مہنگائی ہوئی مجال ہے کہ اپوزیشن والوں نے بیان بازے کے علاوہ اور کوئی مشکلات کہڑی کی ہوں حکومت کے لئے۔ اس لئے اب بیان بازی سے ہٹ کر کچھ عملا بھی ڈلیوور کرنا کا وقت آں پہنچا ہے، چھوٹے میاں صاحب آج کل کچھ زیادہ ہی سھمے ڈرے ھوئے نظر آتے ہیں، انکی پالیسی ہمیشہ مفاہمتی رہی ہے، جب موسمی مینڈک کی طرح مسلم لیگ نون کی رہنماء مریم نواز صاحبہ نے کچھ مزاحمت کی تو جناب شہباز شریف صاحب کو یے بات پسند نہیں آئی اور انہوں نے کسی طرح مریم کی آواز کو پسپا کردیا۔ اگر دیکھا جاتا تو وہی وقت مناسب تھا مزاحمت کرنے کا وہی وقت تھا ینگ قیادت آگے آتی اور موجودہ حکومت کے لئے کچھ نہ کچھ مشکلات کھڑی کرتی لیکن وہ مناسب وقت اپوزیشن نے گنوا دیا اور یوں مریم بی بی کچھ وقت کے لئے پسے پردہ جا بیٹھی اب مولانا پہر سے متحرک ھوگئے ہیں۔ پہر سےمولانا کی سوچ یے ھے کہ اب بھی وقت ھے روڈوں پر آکر وزیر اعظم کو چلتا کیا جائے وگرنہ بہت دیر ھوجائے گی اس لئے مولانا صاحب نے ابھی کچھ دنوں میں مسلم لیگ نون کے صدر جناب شہباز شریف اور پاکستان پپلزپارٹی کے چیئرمین جناب بلاول زرداری صاحب سے ملاقات کرچکے ہیں اسی موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے غرض سے لیکن کچھ مثبت نتائج آتے دکھائی نہیں دیتے ‘ کیوں کے شہباز اور زرداری کبھی یے پسند نھیں کریں گے کے انکی مفاہمت کو چھوڑ کر مزاحمت کو اختیار کیا جائے دونوں صاحبان کسی طرح یے پسند نہیں کریں گے کے انکے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو خوشگوار تعقات ہیں وہ سرد پڑجائیں وہ اسی امپائر کی انگلی کے انتظار میں اپنی آنکہیں لگائے بیٹھے ہیں جس امپائر نے میاں نواز شریف کو چلتا کیا تہا کہ کب امپائر موجودہ کہلاڑی سے ناراض ہوکر اسے چلتا کرتا ھے اور ہمیں وکٹ پر کھیلنے کے لئے حکم کرتا ھے لیکن ان صاحبان کو یے بات بھی یاد رکھنے چاہیے کہ آپ کب تک امپائر کی انگلی کا انتظار کرتے رھیں گے ایسا نہ ھو کہ امپائر کی انگلی اٹھنے سے پھلے عوام کی انگلی حکومت کے خلاف آپکی قیادت کے بغیر اٹھ جائے اور آپ کف افسوس ملتے رہ جائیں کیونکہ آپ تو اپنی سیاسی زندگی کا بیشتر حصہ گذار چکے ہیں اب آپکی نسلوں کی باری ھے اور ایسا نہ ہو آنے والا دور آپکی نوجوان قیادت کے لئے ذرا سا مشکل ہو اس لئے اب آپ پیچھے ہٹ جائیں اور ینگ قیادت کو آگے آنے دیں اور انکو کہل مزاحمت کرنے دیں غیر جمھوری قوتوں کے خلاف کہیں آپکی مفاھمت پر چل کر ینگ قیادت پسپائی اور تنہائی کا شکار نہ ہوجائے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے