ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

نواز شریف کا پارٹی قیادت کو کس کے ساتھ مشترک جدوجہد نہ کرنے کا پیغام آگیا؟ کون عمران خان سے زیادہ خطرناک قرار؟

رپورٹ : علیم عُثمان

“نون لیگ” کے قائد نواز شریف نے پاکستان میں پارٹی قیادت کو حکومت مخالف احتجاج میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مشترکہ جدوجہد سے روک دیا ھے ، سینیٹ میں اکثریت کی حامل اپوزیشن کو فتح کرنے کے لئے بالآخر “عسکریت” ہی عمران حکومت کے کام آئی اور ادھر آصف زرداری اور شہباز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کا امکان پیدا ہو گیا ھے .

ذرائع کے مطابق اگرچہ FATF کو مطمئن کرنے کی غرض سے درکار ضروری قانون سازی کے لئے  پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات 30 جولائی کو صبح 11 بجے طلب کر لیا گیا تھا تاکہ مجوزہ بل اپوزیشن کی حمائت کے بغیر بھی ہر صورت مشترکہ ایوان میں حکومت کو حاصل اکثریت کی بنیاد پر منظور کروائے جاسکیں تاھم مقتدر حلقوں کی “ایڈوائس” پر اسے چند گھنٹوں کے لئے مؤخر کرتے ہوئے اجلاس کا وقت 3 بجے سہ پہر کر دیا گیا ، اس لئے کہ مقتدر حلقے متوازی کوششوں میں بھی مصروف تھے  .. جن میں اگرچہ انہیں بدھ 29 جولائی کی رات تک کامیابی حاصل ہو چکی تھی تاھم بتایا جاتا ہے کہ اپنی اس کامیابی کو “کنفرم” کرنے کی غرض سے مقتدر حلقوں نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں.، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بعض “ذمہ دار“ اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل وفود کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے چیمبر میں رات گئے حکومت کے ساتھ الگ الگ خفیہ مذاکرات کروائے گئے  . .

سپیکر چیمبر میں دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی وفود کے ساتھ باری باری ہونے والے حکومت کے خفیہ مذاکرات میں مقتدر قوتوں کی کوششوں کی کامیابی یقینی بنا لینے کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منسوخ کرتے ہوئے اس کی بجائے دونوں ایوانوں ، بالخصوص سینیٹ کا معمول کے مطابق الگ اجلاس بلانے کا “رسک” لیا گیا جس میں اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں نے حکومتی بلوں کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ، بلکہ آرام سے پاس کروا دیئے اور  .. ساتھ ہی “متحدہ اپوزیشن” کے بت کو سردست پاش پاش کرتے ہوئے عید کے بعد اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی کے امکانات کو مزید دھندلا دیا گیا .

اور یوں حکومت کے مقابلے میں پارلیمانی اکثریت اور اور مولانا فضل الرحمن کی کوششوں سے اپوزیشن جماعتوں کے ایک بار پھر متحد ہوجانے کے خواب پر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی مشترکہ میڈیا ٹاک کے آخر پر دونوں کے درمیان ہونے والے مکالمے سے شکوک کے جو بادل چھاچکے تھے “عسکریت” کے ایک “نائٹ آپریشن” نے انہیں مزید گہرا کردیا ..
البتہ مشترکہ میڈیا ٹاک کے اس تاریخی اختتامی مکالمے میں جس طرح اپوزیشن لیڈر شہبازشریف پیپلزپارٹی کے ساتھ اشتراک عمل سے جان چھڑاتے دکھائی دیئے ، لگتا ہے شہباز شریف کی یہی وہ واحد move تھی جو بڑے بھائی نواز شریف کو بھا گئی کیونکہ لندن میں مقیم “نون لیگ” کے قائد نے اپنے تازہ پیغام میں پارٹی ہائی کمان کو ہدائت کی ھے کہ حکومت کے خلاف کسی بھی احتجاجی تحریک یا مظاہروں میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہرگز شامل نہیں ہونا  . .

ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنے پیغام میں پارٹی قیادت کو سختی سے ہدائت کی ھے کہ ملک بھر ، بالخصوص پنجاب میں کوئی حکومت مخالف احتجاجی پروگرام پیپلزپارٹی سے مل کر نہیں کرنا “پیپلزپارٹی پنجاب میں مرچکی ھے ، اسے ساتھ ملا کر ھم نے اسے زندہ نہیں کرنا ، یہ غلطی ہرگز ہرگز نہیں کرنی” ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نے پارٹی ہائی کمان کو اپنے اس خصوصی ھنگامی پیغام میں مزید کہا ھے “پیپلزپارٹی کی قیادت پر کسی صورت اعتبار نہیں کیا جاسکتا ، آصف زرداری عمران خان سے بھی زیادہ خطرناک شخص ھے”

سیاسی مبصرین کے نزدیک اپوزیشن جماعتوں ، خاص کر ان کی اعلیٰ قیادتوں کے مابین اعتماد کا فقدان بڑھتا جارہا ہے جس کا فائدہ موجودہ سیٹ اپ ، بالخصوص عمران خان کی حکومت کو ہوگا جو دن بدن مزید طاقت حاصل کرتی دکھائی دے رہی ھے جس سے اس امر کا امکان بڑھ گیا ھے کہ عید کے بعد اپوزیشن کے متحرک رہنماؤں کے خلاف نیب کت ذریعے پھر سے گھیرا تنگ کردیا جائے گا .. دوسری طرف شریف برادران سمجھتے ہیں کہ شاطر زرداری انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی کسی ڈیل کے لئے استعمال نہ کرلے ، پیپلزپارٹی کی قیادت کو خدشہ ہے کہ “نون لیگ” کی قیادت ، خاص کر شہبازشریف انہیں اپنے مفادات کے لئے استعمال نہ کرلے جو پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کئے ہوئے ھے ، دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی قیادت کی حالیہ خفیہ “پارلیمانی واردات” سے دونوں پر سے مولانا فضل الرحمن کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچی ھے جبکہ دونوں جماعتوں کی قیادت میں یہ خدشہ بدستور موجود دکھائی دیتا ھے کہ کہیں مولانا اپنے سیاسی مفاد کے لئے انہیں بیچ نہ دیں .

ادھر اس بات کا امکان پیدا ہو گیا ھے کہ حالیہ قانون سازی کے معاملے میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے مقتدر حلقوں کے ساتھ مبینہ خفیہ ڈیل کے ذریعے سینیٹ میں حکومتی بلوں کے پاس ہوجانے میں جو مدد کی ھے ، اس کے بدلے میں پیپلز پارٹی کے قائد آصف زرداری اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو جلد ہی “علاج” کے نام پر ملک سے باہر جانے کی اجازت لے دی جائے گی .

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر تین لاکھ سے زائد آوازیں #SindhIsNotColonyIK

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر تین لاکھ سے زائد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے