منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

نواب سراج الدولہ | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد

برصغیر پاک وہند پر انگریزوں کا تسلط ان کی محنت سے زیادہ اپنوں کی دشمنی اور غداری کے سبب ممکن ہوسکا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف برصغیر کے لوگوں نے بلارنگ ومذہب کی تقسیم کے صرف اپنی جنم بھومی کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں داخلے کے بعد سے لے کر 1857 کی جنگ آزادی تک کا دور اپنی مٹی سے محبت کرنے والوں کی لازوال قربانیوں سے بھراپڑا ہے۔کس کس کا زکر کیا جائے اور کس کا نام لیا جائے۔ایک سے بڑھ کر ایک وفا کی داستان رقم کرنے کے قابل ہے۔بہار کا80سالہ بوڑھا کنور سنگھ ہو یا پھر جھانسی کی رانی ،دیوان منی رام دت ہو یا بریلی کے خان بہادر خان ہوں،اودھ اور روہیل کھنڈ کے جانباز ہوں یا پھر عظیم اللہ خان اور جنرل بخت خان کی داستان شجاعت ہو،حضرت محل خاتون ہوں یا پھر دہلی کی جون آف ارک ایک بڑھیا جو ضعیف العمری میں جہاد کرتی رہی اور زخمی ہوکر گرفتار ہوگئی۔بنگال کے نواب سراج الدولہ ہوں یا پھر میسور کا شیر ٹیپو سلطان ہو جنہوں نے گیڈر کی سوسالہ زندگی کے بدلے عزت وآبرو کی ایک دن کی زندگی کو ترجیح دی۔
2 جولائی کا دن برصغیر میں ایک خاص اہمیت کا حامل دن ہے ۔اس دن بنگال کے 24 سالہ نواب سراج الدولہ کو پھانسی دے دی گئی اور اس دن کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔برصغیر میں انگریزوں کی آمد کا سلسلہ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں شروع ہوا۔انگریزوں نے ہندوستان میں کاروبار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو دہلی کے تخت سے ان کو اجازت مل گئی ۔انگریزوں نے سب سے پہلے مدراس اور بنگال میں تجارت شروع کی مگر ان کے ارادے کچھ اور تھے اور انہوں نے مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کرلیے۔1707 میں اونگزیب کی وفات کے بعد محلاتی سازشوں کے سبب دہلی انتشار کا شکار ہوگیا۔سکھوں ،مرہٹوں کے علاوہ مسلمان نوابوں نے دہلی سرکار سے بغاوت کرکے اپنے علاقوں میں خودمختاری کا اعلان کردیا۔انتشار حد سے بڑھا تو بنگال کے صوبے دار شہزادہ عظیم الشان جو کہ اورنگزیب عالمگیر کے بیٹے بہادر شاہ اول کا دوسرا بیٹا تھا نے دہلی کی طرف کوچ کیا اور بنگال کا صوبے دار مرشد قلی خان کو نامزد کردیا۔1727میں مرشد قلی خان کی وفات کے بعد بنگال کا صوبے دار سرفراز خان بہادر کو بنایا گیا۔ان کے بعد شجاع الدین محمد خان بنگال کے صوبے دار بنے اس کے بعد ایک بار پھر سرفراز خان بہادر بنگال کے حاکم بنے۔1740 میں علی وردی خان بنگال کے نئے حاکم مقرر ہوئے۔
علی وردی خان کی تین بیٹیاں تھیں جن کے نام مہرالنسا بیگم،منیرہ بیگم اور امینہ بیگم تھے ۔امینہ بیگم کا عقد بہار کے حکمران زین الدین احمد خان کے ساتھ ہوا اور ان کے ہاں 1733 میں مرزا محمد سراج الدولہ المعروف نواب سراج الدولہ کی پیدائش ہوئی ۔سراج الدولہ کی تعلیم وتربیت اپنے نانا کے زیر سایہ ہوئی اور وہ محل میں پروان چڑھے۔نواب علی وردی خان کی اولاد نرینہ نہیں تھی تو عام طورپر یہی خیال کیا جاتا تھا کہ سراج الدولہ ہی نواب بنیں گے اور ان کی پرورش بھی اسی انداز میں ہوئی۔ سراج الدولہ نے ابتدائی عمر سے ہی اپنے نانا کے ہمراہ جنگی مہمات میں حصہ لینا شروع کردیا اور 1746 میں مہاراشٹر میں ہندووں کو شکست فاش دی۔مئی 1752 میں نواب علی وردی خان نے سرکاری طورپر سراج الدولہ کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔10 اپریل 1756 میں نواب علی وردی خان کی وفات کے بعد سراج الدولہ 23 سال کی عمر میں بنگال کے نواب بنے۔
نواب سراج الدولہ بنگال میں انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خائف تھے اور ان کو اندازہ تھا کہ انگریز تجارت کے نام پر اس خطہ ارضی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ادھر انگریزوں کے اقدامات نے ان کو مزید مشکوک بنا دیا۔کلکتہ کے فورٹ ولیم کی دیواروں کی مضبوطی،بنگال کے افسروں کو پناہ دینا اور بنگال کو ادا کیئے جانے والے ٹیکس اور کسٹم کی چوری جیسے جرائم نے حالات کو مزید خراب کردیا۔کلکتہ میں انگریزروں کی طرف سے فوجی قوت میں اضافہ کسی صورت میں منظور نہیں تھا۔1756 میں نواب سراج الدولہ نے کلکتہ میں انگریزوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بہت سے انگریزوں کو قید کرلیا۔انگریزوں نے نواب کے مخالفین سے رابطے کرلیئے اور نواب سراج الدولہ کی خالہ گھسیٹی بیگم ،شوکت جنگ اور غدار بنگال میر جعفر شامل تھے۔انگریزوں کےساتھ مل کر کی جانے والی سازش بے نقاب ہونے پر نواب نے گھسیٹی بیگم کی جائداد ضبط کرلی اور میر جعفر کا حکومتی عہدہ تبدیل کردیا۔تاہم اقتدار کے لالچ میں میر جعفر نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔
23 جون 1757 میں کلکتہ سے 70 میل کے فاصلہ پر پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ اور لارڈ کلائیو کے درمیان جنگ ہوئی۔میرجعفر نواب کی فوج کے ایک بڑے حصے کا سالار تھا عین جنگ کے وقت اس نے نواب کے وفادار سالاروں کو قتل کرکے جنگ سے علیحدگی اختیار کرلی جس سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور انگریز یہ جنگ جیت گئے۔جنگ میں شکست کے بعد نواب سراج الدولہ پہلے مرشد آباد اورپر پٹنہ چلے گئے۔گرفتاری سے بچنے کے لیے نواب اور اس کے اہل خانہ نے بھیس بدل لیا۔تاہم میر جعفر کے سپاہیوں نے ان کو تلاش کرلیا اور 2 جولائی کو بعد نماز فجر نواب کو شہید کردیا گیاجبکہ کچھ روایات میں ہے کہ نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کے بیٹے میر میرن کے حکم پر محمد علی بیگ نے پھانسی دے دی۔غداروں نے نواب کی میت کو ہاتھی پر رکھ کر مرشد آباد کی گلیوں میں گھمایا تاکہ عوام کو یقین ہوجائے کہ نواب سراج الدولہ اس دنیا میں نہیں رہے۔انگریزوں نے نواب کا خزانہ لوٹ لیااور صرف لارڈ کلائیو کے ہاتھ 53 لاکھ سے زیادہ کی رقم آئی جبکہ ہیرے جواہرات اس کے علاوہ تھے۔انعام کے طورپر انگریزوں نے میر جعفر کو بنگال کا نواب بنا دیا۔تاہم میر جعفر کی حیثیت ایک کٹھ پتلی حکمران سے زیادہ نا تھی۔یاد رہے کہ پاکستان کے صدر سکندر مرزا میر جعفر کی نسل میں سے تھے۔
نواب سراج الدولہ نے بنگال کے دارلحکومت مرشد آباد میں ہندوستان کی سب سے بڑی امام بارگاہ نظامت امام باڑہ تعمیر کرائی اور اس کے اندر ایک مسجد بھی تعمیر کرائی جس کی بنیادوں میں مدینہ سے منگوائی گئی مٹی ڈالی گئی ۔اس مسجد کو آج بھی مدینہ مسجد کے نام سے پکارا جاتا ہے۔نواب سراج الدولہ کا مزار مرشد آباد کے ایک باغ خوش باغ میں واقع ہے۔نواب سراج الدولہ بنگال کا آخری آزاد وخودمختار نواب تھا اس کے بعد بنگال کے تخت پر بیٹھنے والے انگریزوں کی کٹھ پتلیاں تھے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے