ہفتہ , 8 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

نسلیں کیوں بھٹو کو یاد کرتی ہیں | منصور شاہانی

تحریر: منصور شاہانی (صدر پی ایس ایف سندھ)

ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 میں پیدا ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو انتہائی ذہین، اعلی تعلیم یافتہ، انتہائی مدبر سیاستدان، وسیع مطالعہ اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں عوام کے لیئے بے حد احساس اور انکی زندگیوں میں تبدیلی لانے کا جذبا تھا، جہاں پاکستانی عوام بے بسی اور لاچاری کی زندگی گذار رہی تھی وہاں بھٹو من ہی من میں پاکستان کے مزدور، کسان اور طلبہ کی بہتری کے لئے منصوبے بنا رہا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے وہ کارنامے سرانجام دیئے جو پاکستان کے آنے والے کئی نسلوں کے لیئے باعث فخر ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کچھ عظیم کارنامے جو تا قیامت زندھ رہینگے،
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی دور حکومت میں ہونے والی اصلاحات میں بھاری صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا، بنکوں، انشورنس کمپنیوں اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر انہیں جاگیرداروں اور سرمائیداروں کے چنگل سے آزاد کیا۔
زرعی اصلاحات، عوام کو سستی ٹرانسپورٹ اور خوراک سمیت بنیادی مراکز صحت کا قیام اور غریبوں کے لیئے بجٹ کا 43 فیصد مختص کیا، پاکستانی عوام کو شناخت دینے کے لیئے قومی شناختی کارڈ بنوائے۔
ملک میں جھموریت کے استحکام، تسلسل اور پسے ہوئے طبقات کو حقوق دینے کے لیئے پاکستان کو متفقہ آئین دیا۔
ملک کو مضبوط کرنے کے لیئے پاکستان کو اٹامک پاور بنایا، تیسری دنیا کے ممالک اور مسلم امہ کے اتحاد کی کوشش کیا، کشمیر کی آزادی کے لیئے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا جو آج تک کوئی لیڈر نہیں کر سکا۔
یہ وہ کارنامے ہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے جو پاکستان کے آنے والے کئی نسلیں یاد رکھیں گی، آج پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچا ذوالفقار علی بھٹو کا قرض دار ہے اور اس صدی کی نوجوانوں نے نا بھٹو کو سنا ہے ناہی حقیقی زندگی میں شھید بھٹو سے ملے ھیں لیکن پھر بھی پاکستان کے ہر نوجوان کو یہ لگتا ہے کے ذوالفقار علی بھٹو ہمیں جانتا ہے اور وہ زندھ ہے، وہ اس لیئے کے بھٹو ایک سوچ، فکر اور فلسفے کا نام ہے، یوں تو بھٹو کو گذرے ہوئے 41برس ہوئے ہے لیکن پھر بھی ہر نوجوان کو لگتا ہے کے یہ کل ہی کی بات ہے، جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کے “عوام اور بھٹو کا سلسلہ یہ ہے کے خوشبو پھول سے جدا نہیں ہو سکتا، مچھلی پانی سے جدا نہیں ہو سکتا ویسے ہی بھٹو عوام سے جدا نہیں ہو سکتا”۔
مجھے فخر ہے کے میں اس پارٹی کا ایک ادنا سا کارکن ہوں جس پارٹی کے لیڈر نے اپنے عوام کے لیئے اپنے خاندان کو قربان کردیا۔
آج 41برسی کے موقعے پر میں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور یہ وعدہ کرتا ہوں کے جب تک اس جسم میں سانس چلتی رہیگی میں آپکے بہادر نواسے، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا سچا سپاہی بن کر اپنی پارٹی، عوامی پارٹی، پیپلز پارٹی کی خدمت کرتا رہونگا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

جذبات نہیں تاریخ اور زمینی حقائق | حیدر جاوید سید

تحریر: حیدر جاوید سید آگے بڑھنے سے قبل دو باتیں عرض کردینا ضروری ہیں اولاً …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے