منگل , 24 نومبر 2020
ensdur

میڈیا اور ہمارے معاشرے میں بگاڑ | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

کچھ روز قبل گالا بسکٹ کا اشتہار دیکھا ہنسی بھی آءی اور افسوس بھی ہوا ہنسی اس لیے کہ ایک بیس روپے کے بسکٹ کو بیچنے کے لئے دو منٹ کے اشتہار میں آئٹم نمبر کر کے کیا دکھا رہے ہیں اور افسوس اس لیے کہ ہم بیس روپے کے بسکٹ کے لئے کس طرح اخلاقیات کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں
خیر سوشل میڈیا پر
اس بسکٹ کے اشتہار کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا
اگلے دن یونیورسٹی میں بھی اس گالا بسکٹ کے اشتہار پر خوب باتیں ہوئیں. میں
حیران ہونں کہ ایک بیس روپے کے بسکٹ کے لیے ہم پاکستانی قوم اخلاقیات کی حد کو کس طرح پار کر لیتے ہیں ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا پیمرا
نے عوام کی پر زور مخالفت کی وجہ سے نوٹس لیا اور اس اشتہار کو بند کروا دیا مگر آخر کب تک میڈیا ایسے اشتہارات اور ڈرامے بنائے گا اور پیمرا ان پر پابندی لگائے گا؟
بات صرف گالا بسکٹ کے اشتہار کی ہوتی تو صبر کر ہی لیتے مگر یہاں تو ایسے اشتہارات کی قطار لگی ہوئی ہے. چائے کا اشتہار ہو یا کولڈ ڈرنک کا، موبائل کمپنی کا اشتہار ہو یا سم کارڈ کا، صابن کا اشتہار ہو یا شیمپو کا، پرفیوم کا اشتہار ہو یا کسی بیوٹی کریم کا، ناچ گانا اہم ترین ہے پھر اس کے بعد قابل اعتراض لباس بھی لازمی جز ہے. بات صرف اشتہارات تک نہیں ہے ڈرامہ انڈسٹری بھی اب اسی سمت جا رہی ہے ڈرامے ایسے ہیں جو گھر والوں کے سامنے دیکھنے کے قابل نہیں ہے کہانیاں ایسی کہ اللہ کی پناہ جلن، دیوانگی، دل ربا، میرے پاس تم ہو اور اس جیسے اور بھی ڈرامے ہیں اور کہانیاں ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے ہیں.
شراب حرام ہے مگر ہمارے ڈراموں میں وہ مناظر دکھا کر نہچے صرف ایک ہی جملہ لکھا جاتا ہے
Drinking is injurious to health.
ہم یہ سکھا رہے ہیں کہ شراب حرام نہیں ہے مگر صحت کیلیے خطرناک ہے
فلم انڈسٹری کی بات کریں تو جب تک قابل اعتراض لباس پہن کر آئٹم نمبر نہ کیا جائے وہ فلم ہی نہیں سمجھی جاتی ہے نوجوان نسل اس کا منفی اثر لے رہی ہے اور وہ کسی کو پرواہ نہیں. ایوارڈ شو کوئی بھی دیکھ لیں وہاں جو کچھ ہو رہا ہے جس قسم کے لباس زیب تن کیے ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر کہیں سے نہیں لگ رہا ہے ہوتا کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. فیشن ویک بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قابل اعتراض لباس پہننا کون سا فیشن ہے؟
کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ ہماری منزل کیا ہے؟ اگر ہماری منزل یہی ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا. ہم اپنے لوگوں کو کیا دکھا رہے ہیں؟ یا کیوں دکھا رہے ہیں؟
ابھی چند دن پہلے چڑیل سیریز کو بند کیا گیا میں نے وہ سیریز نہیں دیکھی صرف اس کا ایک کلپ دیکھا جس کی وجہ سے اس پر پابندی عائد کی گئی. کیاہم یہ سکھا رہے ہیں؟ اس سے ہماری نوجوان نسل پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں انہی چیزوں کا اثر ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں جرائم بالخصوص زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں
اسلامی جمہوریہ پاکستان__ اسلام کے نام پر بننے والا یہ ملک آج اس ملک میں فحشی عام ہے پاکستان کا پورا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر افسوس نہ اسلام کی اقدار کا خیال ہے اور نہ ہی ریاست مدینہ کے اصولوں کی پاسداری کا احساس ریٹنگ کے چکر میں ایسے ڈرامے اشتہارات بن رہے ہیں کہ شرم سے سر جھکا جاتا ہے.
یوٹیوب اور نیٹفلیکس پر قابل اعتراض مواد دیکھنے کو ملتا ہے جس سے ہمارے بچے غلط سمت جا رہے ہیں. پاکستان کے دستور میں یہ صاف صاف لکھا ہے کہ
Islam shall be tha state religion of Pakistan.
یعنی ریاست پاکستان کا مذہب اسلام ہوگا. پھر سیکشن 34 کے مطابق غیر شرعی، بے حیائی، قابل حقارت، اور بے ہودہ لٹریچر اور اشتہاروں کی پاکستان میں اجازت نہیں ہوگی. مگر یہ کیا ہم تو اپنے ہی آئین اور قانون کی نفی کر رہے ہیں.
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اندر سے اور ہمارے ملک میں سے حیا نام کی چیز ختم ہو چکی ہے. انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بہت سے فوائد ہیں مگر اگر اسی کو ہم بےپناہ اور فضول میں استعمال کریں گے تو ہمادمرے معاشرے میں فحاشی پھیلے گی اس ٹیکنالوجی نے ہماری آنکھوں میں سے حیا اور شرم ختم کر دی ہے. اور یہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے.
جس معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی عام ہوجائے وہاں بگار پیدا ہوجاتی ہے اس بگار کی شکل میں جرائم میں اضافہ ہوتا ہے.
سورة النور آیت 19میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا و آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں
کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ ہماری منزل کیا ہے؟ اگر ہماری منزل یہی ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا. ہم اپنے لوگوں کو کیا دکھا رہے ہیں؟ یا کیوں دکھا رہے ہیں؟
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
آمین

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار کا مرد اہلکاروں پر ہراسانی کا الزام

کراچی میں محکمہ اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات خاتون اہلکار نے ادارے کے اکاؤنٹینٹ اور دیگر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے