ہفتہ , 17 اپریل 2021
ensdur

میرے پیارے بیٹے میر

تحریر : آئینہ سیدہ

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اوراسلامی سربراہی کانفرنس کے چئیرمین کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں قانونی جنگ ختم ہوچکی ہے .نظر ثانی کی درخواست رد ہونے کے بعد صرف “رحم کی اپیل ” کا طریقہ بچا ہے مگر ملک کے مقبول ترین اورعوامی سیاست کے بانی وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو رحم کی اپیل کیوں کریں ؟ وہ کہہ چکے کہ میں ایسی کوئی درخواست نہیں کروں گا کیونکہ میں بے گناہ ہوں اور ان حالات میں رحم کی اپیل کرنے سے بہتر ہے میں تختہ دار پر چڑھ جاؤں۔

ایسے میں انکو اپنے بڑے بیٹے کو خط لکھنا ہے……..شاید آخری خط ……اس خط کو لکھنا انکے لیے بہت مشکل ہے. ایک مشہور سیاسی لیڈر ، کراچی سے وزیرستان تک ہر دلعزیز رہنما جو نوجوانی کی عمر سے مسلسل طاقت کے ایوانوں میں بڑے عھدوں پر فائز رہا اور آج قتل کےایک جھوٹے مقدمے میں سزاۓ موت کا قیدی ہے وہ کس طرح اس کال کوٹھری سے اپنے پیارے بیٹے کو مخاطب کرے ؟ جناب بھٹو اپنے بڑے بیٹے کو بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں ، یہ کہ چھوٹے بہن بھائی کا خیال رکھنا ، اپنی ذمہ داریاں نبھانا ، یہ نصیحت بھی کہ آنے والے برے وقت کی تیاری کرنا اور یہ شعور بھی کہ حالات جیسے بھی ہوں انکا پامردی سے مقابلہ کرنا……. اور پھر انہوں نے اپنے بیٹے میر غلام مرتضی بھٹو کے نام خط ، یعنی آخری خط لکھ ڈالا

یہ خط ایک غیر معمولی بہادر انسان کا خط ہے جو موت کے دروازے پربڑی شان سے دستک دے رہا ہے اسکو پتہ ہے کہ اسکی زندگی ختم کرنے والے اپنے مکروہ عزایم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے مگر وہ اپنے بیٹے کو کوئی ایسی وصیت نہیں کرتا کہ پیچھے رہ جانے والی جائیداد ، مال و متا ع اور اسباب کا کیا حساب کتاب کرنا ہے وہ اپنے فرزند کو کسی غیر جمہوری ، غیرقانونی ، پرتشدد جدوجہد کا مشورہ بھی نہیں دیتا نہ ہی اسکو اپنے پرڈھاۓ گیے مظالم کا حال سناتا ہے نہ اپنے بزرگوں کے جاہ وجلال کے قصے، بلکہ اس باوقارسیاستدان اور زیرک حکمران کا آخری خط بھی اسکی زندگی کی طرح ذمہ داریوں کے احساس ، عوام سے محبت اور مشکلات کا مقابلہ جوانمردی سے کرنے کے عزم سے بھرپور ہوتا ہے۔

یہ تاریخی خط حاضر ہے۔

میرے پیارے بیٹے میر

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ میں نے تمہیں خط لکھنے کے لیے قلم اٹھایا ہو مگر ہر بار ذہنی یکسوئی نہ ہونےکے سبب مجھے اپنا ارادہ ملتوی کرنا پڑا کیونکہ مجھ پرقتل کا مقدمہ چلا یا گیا اور میں اس وقت کال کوٹھری میں بند ہوں ایسے میں اپنےبڑے بیٹےسے کس طرح مخاطب ہوں ؟ …. میرا پیارا بڑا بیٹا ایک ایسا نوجوان جومیرا “چوغہ” زیب تن کرے گا، جسکے پا س میری نشانیاں ہونگیں. کچھ عرصے پہلے میں نے شاہ اور صنم کو خط لکھے تھے کیوں کہ انکو خط لکھنا نسبتا” آسان تھااگر بےنظیر ملک سے باہر ہوتی تو اس کو بھی خط لکھنا ایک دشوار عمل ہوتا . بے نظیر میری پیاری بیٹی بچوں میں سب سے بڑی ہے اور تم میرے بڑے بیٹے ہو چناچہ تم دونوں اور دوسرے دو چھوٹے بچوں میں یہ فرق ہے کہ وہ میری اور ممی کی طرح بوڑھے بھی ہو جائیں پھر بھی ہمارے لیے چھوٹے ہی رہیں گے . صنم بہت ہی حساس لڑکی ہے اور میں صرف امید ہی کر سکتا ہوں کہ اخبارات کی چند رپورٹیں یا بعض حرکات اس کے احساسات کو مجروح نہیں کریں گی ایک زمانے میں میں چاہتا تھا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ آیا اسکوہاورڈ میں تعلیم حاصل کر کہ وطن واپس آجانا چاہیے یا مزید تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ چلا جانا چاہیے لیکن اب یھاں کی صورتحال کے پیش نظر یہ بہتر ہوگا کہ وہ آکسفورڈ چلی جاۓ . وہ بہت ہی لاپرواہ لڑکی ہے اس لیے تمہیں آکسفورڈ میں اس کو داخلہ دلوانے میں مدد کرنی ہوگی .بینظیر سے بھی اسکی مدد کے لیے کہہ سکتا تھا لیکن وہ بیچاری لڑکی پہلے ہی مسائل، پریشانیوں اور کام میں گردن تک دھنسی ہوئی ہے مجھے ابھی تک علم نہیں کہ شاہ ( شاہنواز) کیا کرنا چاہتا ہے .وہ اپنی ماں پر زیادہ اعتماد کرتا ہے بہرحال تم اسکے نزدیک ہو اور مجھے یقین ہے کہ اسکی دیکھ بھال اور نگرانی کر رہے ہوگے جب کبھی اس سے ملو براہ مہربانی اسکی سوچ کو صحیح سمت میں استوار کرنے کی کوشش کرنا وہ بہت اسمارٹ اور ذہین ہے لیکن بعض اوقات عجیب و غریب نظریات اسکے ذہن پر مسلط ہوجاتے ہیں اسکی وجہ بتانا مشکل ہے کیونکہ جب خود میں اسکی عمر کا تھا تو میں بھی ایسے ہی نظریات کا مالک تھا تم سب کی رگوں میں میرا خون دوڑ رہا ہے لیکن شاہ نواز پر میرے نظریات اور رجحانات کی چھاپ زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے۔

گزشتہ گرمیوں میں جب تم یھاں تھے تو تم نے نہایت عظیم الشان کارنامے انجام دیے تھے .تم میرے لیے طاقت اور حوصلے کا ایک ذریعہ تھے عوام نے تمہیں اس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا جیسے پانی سے نکلی ہوئی مچھلی کو لیا جاتا ہے تمھاری کارکردگی نے مجھے ناقابل یقین حد تک پرجوش بنا دیا تھا ایسے میں جو خوشی اور راحت مجھے محسوس ہوئی اسکی کیفیت ناقابل بیان ہے یہ امر بھی نہایت اطمینان بخش ہے کہ عوام تمہیں یاد کرتے ہیں اور تمھاری عدم موجودگی کو محسوس کرتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ میرا اپنے عوام کے لیے سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ میں نے ملک کے استحصال زدہ اور کچلے ہوے غریب عوام کو بیدار کیا ، انہیں امور مملکت میں اپنی راۓ دینے کا حق دیا ملک کو ١٩٧١ کی شرمناک ذلت سے نکالا اور انکے وقار کو بحال کیا۔

میرے بیٹے ! اہم بات یہ ہے کہ وقت گزر جاۓ گا لیکن اس سے زیاد اہم یہ ہے کہ میں اس سے عزت و وقار کے ساتھ گزروں انجام خواہ کچھ ہو وقت کے چیلنج کا مقابلہ جرأت اور پامردی سے کیا جاۓ۔

موجودہ بحران ان بحرانوں میں سے بد ترین ہے جو کہ ہم نے دیکھے ہیں .تمھاری والدہ اور تمھاری بہن حوصلہ مندی اور طاقت کے روشن مینار ہیں انکی عظیم الشان اور جرأت مندانہ امداد کے بغیر یہ بہت مشکل ہوتا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ ناممکن ہوتا اب صرف خداۓ بزرگ و برتر اور عوام ہی مجھے بچا سکتے ہیں لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ بیرونی اثرو رسوخ اور دباو فضول اور بیکار ہے. بیرونی دباؤ اسی وقت موثر اورکار آمد ہوتا ہے جب اسے صحیح مقامات پر ڈالا جاۓ مثال کے طور پر بیرونی پریس ایک تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے حکومتوں اور پارلیمان کے بااثر افراد معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ تم اپنا خیال رکھ رہے ہوگے اور اچھے دوست بنا رہے ہوگے خدا تم پر اپنی رحمتیں نازل کرے انتہائی پیارے اور محبوب بیٹے

تمہارا والد ذوا لفقارعلی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

میری گلی سے کوویڈ بھی ڈرتا ہے | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان پچھلے ایک برس کے دوران روزمرہ زندگی میں ایک شے ایسی …

ایک تبصرہ

  1. ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم انسان تھے۔اس لیے میرے والد صاحب نے میرا نام ذوالفقار علی رکھا۔میرے والد صاحب کا تعلق پیپلز پارٹی تھا۔اور میرا شروع سے بھٹو صاحب اور بی بی شہید پیپلز پارٹی سے ایک عشق ھے۔اس خط کا مجھے انتظار تھا ۔شکریہ بہن ۔سدا جیے بھٹو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے