منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

میری عمر واہ واہ ہوگئی ہے | ایڈووکیٹ عابد الرحمان

تحریر: ایڈوکیٹ عابد الرحمان

میں نے گھر آئے مہمان بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں شام کو پارک کی سیر کراؤں گا۔ کام کے بعد گھر واپس آیا اور بمشکل آدھا گھنٹہ نیند کی ہو گی کہ بچوں نے مجھے پارک لے جانے کے لیے جگا دیا۔ اس طرح میری نیند پوری نہ ہوسکی۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ جولائی کے مہینے میں باہر بہت حبس ہو تا ہے اس لیے ہمیں سورج غروب ہونے سے پہلے پارک نہیں جانا چاہئے لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بچے وقت سے پہلے ہی تیار ہو چکے تھے۔ میں بغیر منہ ہاتھ دھوہے اور کپڑے تبدیل کئے گاڑی میں مہمان بچوں کو ٹھونس کر پارک کی طرف چل پڑا۔

جب ہم پارک پہنچے تو وہاں پہلے سے کافی بچے اور فیملیز موجود تھیں لیکن اب بھی سورج غروب ہونے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت تھا۔ جلد ہی بچے پارک میں پھیل کر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ مجھ پر اب بھی نیند کی کیفیت طاری تھی اس لیے میں کسی بینچ کے بجائے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا جہاں پہلے سے ایک درمیانی عمر کا شخص کچرے اور ردی کی بوری سمیت بیٹھا تھا۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ وہ سرکاری اہلکار ہے جو پارک کی صفائی ستھرائی کے کام پر مامور ہے۔ اس نے جیب سے سستے سگرٹوں کا پیک نکالا اور اپنے سر کے عین اوپر لگے “نو سموکنگ” کے بورڈ پر نظر دوڑائی اور مسکراتے ہوئے سگریٹ سلگایا۔ اس کا رنگ گہرا گندمی تھا لیکن گرمی اور پسینے کی وجہ سے اس کی رنگت سیاہ دکھائی دے رہی تھی۔

میں نے اس سے بات چیت شروع کرنے کے لیے گرمی اور حبس کا ذکر کیا۔ اس نے جواب میں کہا کہ گرمی کا “چس” تو آتا ہی برسات میں ہے۔ میں لفظ “چس” کے صحیح معنی تو نہیں جانتا تھا لیکن میں نے اندازہ لگایا کہ اسے گرمی، حبس یا پسینے سے کوئی شکایت نہیں بلکہ وہ کہنا چاہتا ہے کہ گرمی سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہی موسم مناسب ہے۔ باتوں کے دوران وہ وقفے وقفے سے کوئی ایسا نامانوس لفظ بول دیتا تھا جس کے مفہوم کا مجھے صرف اندازہ لگانا پڑتا تھا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام ” نذیر بوٹا” بتایا اور کہا کہ وہ حکومت کا کچا ملازم ہے جسے اپنے کام کے عوض مہینے کے آٹھ ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ عرصہ بارہ سال سے یہی کام کر رہا ہے لیکن سرکار نے اس کی نوکری پکی نہیں کی اور اب اس کی نوکری پکی ہونے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی نوکری پکی ہونے کا چانس اب کیوں نہیں ہے تو اس نے برجستہ جواب دیا کہ “اب میری عمر واہ واہ ہوگئی ہے” میں نے مطلب نہ سمجھتے ہوئے قدرے حیرت سے پوچھا کہ آپ کی عمر کو کیا ہو گیا ہے؟ اس نے پھر وہی الفاظ دہرائے  “اب میری عمر واہ واہ ہوگئ ہے” میں نے دوبارہ وضاحت مانگنا مناسب نہیں سمجھا اور خود ہی اندازہ لگایا کہ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اب اس کی عمر زیادہ ہو گئی ہے یا پھر وہ “اوور ایج” ہو گیا ہے۔

سورج تھوڑی دیر پہلے غروب ہو چکا تھا اور شام کے سائے پھیل چکے تھے۔ پرندے سراسیمگی کے عالم میں چہچہانے کی بجائے اب باقاعدہ شور کر رہے تھے۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس خوبصورت بچے اب گھروں کے لیے واپسی کی تیاری کر رہے تھے جبکہ زیادہ چھوٹے بچے والدین کی گود میں آ چکے تھے۔ بوٹا صاحب خلاؤں میں کچھ تلاش کر رہے تھے۔ اس نے مجھ سے ڈبڈباتی آنکھوں سے پوچھا “میرے بعد  میرے پانچ بچوں کا  کیا بنے گا؟ سرکار نے کیوں میرا وقت ضائع کیا؟ کیا میری نوکری پکی نہیں ہونی چاہیے تھی؟ انہوں نے کیوں میرا وقت ضائع کیا؟” وہ ہر بات کے آخر میں اپنا سوال دہراتا تھا کہ سرکار نے کیوں میرا وقت ضائع کیا۔

بوٹا صاحب جیسے لوگ مجھے بہت جلد بور کر دیتے ہیں  میں اگر سنگدل نہ بھی ہوں تو سخت جان ضرور ہوں اس لیے مجھے کسی سے زیادہ ہمدردی نہیں ہوتی۔ یہ تو شاعر لوگ ہیں جو ہم میں غیر ضروری طور پر ہمدردی جیسے فضول جذبات ابھارتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “اک غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا/  اک نمی سی میرے دیوار میں آ جاتی ہے”۔ اس لیے میں نے ہر بار منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ بوٹا صاحب نے اپنی آنکھیں پونچھیں اور کل کے لئیے ابھی سے پارک کی صفائی شروع کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے جانے کے بعد میں بھی سیٹی بجاتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑا ہوا اور بڑبڑاتے ہوئے دھن ترتیب دینے کی کوشش کی “عمر تیری واہ واہ ہو گئی اور ۔۔۔تیرا وقت ہوا ضائع۔”

اس بات کو گزرے کافی سال بیت چکے ہیں۔ بوٹا صاحب نے اپنے واجبی علم و فہم سے اندازہ لگا لیا تھا کہ سرکار نے اس کا قیمتی وقت ضائع کر کے اس کے خاندان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ اسی طرح بطور قوم ہمیں بھی اپنے وقت اور کاکردگی کا حساب رکھنا چاہیے۔ سوال بڑا آسان اور واضح ہے کہ کیا ہم نے بہتر سالوں میں ایک پختہ جمہوری نظام، یکساں نظام تعلیم اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کی منزل کی طرف خاطر خواہ پیش قدمی کی ہے یا محض کولہو کے بیل کی طرح دائرے کا سفر کرتے رہے ہیں۔ شاعر حضرات گل و بلبل کے قصوں کے لیے بدنام ہیں لیکن بعض اوقات وہ آئینے میں ہماری اصل شکل دکھلا جاتے ہیں۔ اختر شیرانی کی نظم “اے دیس سے آنے والے بتا” کی زمین پر ایک اور شاعر نے کیا بہترین اشعار جوڑے ہیں۔ میں ان چند اشعار کے محاسن پر بات نہیں کر رہا بلکہ آپ کی مدد سے شاعر کے سوالات کے جوابات تلاش کر رہا ہوں جو غالباً ہمیں کولہو کا بیل ہی سمجھ بیٹھا ہے ورنہ وہ ہم سے نہ پوچھتا کہ

“کیا اب بھی بجلی جاتی ہے اور ساری رات جگاتی ہے؟

کیا اب بھی مسجد جاتے ہیں تو ننگے پاؤں آتے ہیں؟

کیا اب بھی پرچہ ہوتا ہے تو کافی خرچہ ہوتا ہے؟”

سقراط نے کہا تھا کہ جانوروں کی دو قسمیں ہیں۔قانون پر عمل کرنے والے اور قانون پر عمل نہ کرنے والے۔ کیا ہم بحیثیت شہری قانون کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم سچ اور حق کا ساتھ دیتے ہیں یا پھر اپنے اپنے مفاد کو سچ کا نام دے کر اسے حاصل کرنے میں جت جاتے ہیں۔ کامیابی کے لیے منزل کی طرف قدم اُٹھانے پڑ تے ہیں۔ تمام برائیوں کو ترک کرنے کا پختہ ارادہ کرنا پڑتا ہے۔ دکھ، تکالیف، صبر آزما مراحل اور صعوبتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

اگر ہم نے بحیثیت قوم عزت اور آبرو سے جینا ہے تو ہمیں خود ہی ہمت سے کام لے کر اپنی تقدیر بدلنی ہوگی ورنہ خدا نخواستہ ہمارا انجام جنگل کے ان خرگوشوں کی طرح ہوگا جنہیں ایک “رحمدل شخص” نے جنگل کی آگ سے بچایا اور انہیں گھر لا کر ذبح کر کے کھا لیا تھا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے