جمعرات , 4 مارچ 2021
ensdur

میانمار میں فوجی بغاوت: اساتذہ اور طلبہ سڑکوں پر آگئے

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف اساتذہ اور طلبہ بھی سڑکوں پر آگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت آگئی ہے اور اب اساتذہ سمیت طلبہ بھی فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف میدان میں آگئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے ملک میں فوجی بغاوت اور آنگ سان سوچی سمیت سینئر ڈیموکریٹک رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا، اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں سرخ رنگ کے ربن باندھ رکھے تھے اور  پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

احتجاج میں شامل طلبہ اور اساتذہ نے منتخب حکومت کے خاتمے اور فوج کے اقتدار پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں فوجی بغاوت نہیں دیکھنا چاہتے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں فوجی بغاوت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور اقتدار پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتے۔

واضح رہےکہ میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد آنگ سان سوچی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر مواصلاتی آلات کی غیر قانونی امپورٹ کا الزام عائد کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے سوچی کے گھر سے واکی ٹاکیز برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیاہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 130کے قریب سیاستدانوں اور حکام کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ منتخب کرائیں گے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے