اتوار , 28 فروری 2021
ensdur

مہنگائی چھونے لگی آسمان۔۔! | قادر خان یوسف زئی

تحریر: قادر خان یوسف زئی
مہنگائی ختم کرنے کی حکومتی کوششوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اشیا ء خوردونوش کی قیمتوں کے ہوش ربا اضافے سے عوام کی کمر مزید ٹوٹ چکی، مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں تواتر سے ملتی رہتی ہیں، کچھ ہفتے قبل وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی معاشی ٹیم کی تعریف کی تھی تاہم ابھی ستائش، داد و تحسین سمیٹ بھی نہیں پائے تھے کہ چینی، آٹے، گھی سمیت اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو دوبارہ پَر لگ گئے، وفاق و صوبہ سندھ نے ایک دوسرے پر شدید نوعیت کے الزامات عاید کئے، لیکن عوام کو ان الزامات، بیانات اور پریس کانفرنسوں سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ روز افزوں مہنگائی کے مسئلے کا باقاعدہ حل چاہتے ہیں۔
مہنگائی صرف اسلام آباد یا کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے ملک میں عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی با آسانی میسر نہیں، مہنگائی پر قابو پانے کے لئے ڈیزل، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کئے جانا ضروری تصور کیا جاتا ہے، لیکن ہر ماہ،دو بار پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی روش سے مہنگائی کا جن، بوتل میں بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ عوام کا سمجھنا سو فیصد درست ہے کہ مہنگائی یا کوئی اور مسئلہ حکومت کے لئے حل کرنا مشکل نہیں ہوتا، اس سلسلے میں صرف خلوص نیت کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن جس تیزی سے اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومتی ترجیحات میں، مہنگائی سمیت عوام کے مسائل کا حل شامل نہ ہو۔ڈھائی برس میں 20ا رب ڈالر قرض اتارنے کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن اس وقت اربوں ڈالر کا قرض کا بوجھ عوام کی گردن پر موجود ہے۔ حکومت اپنے تمام تر دعوؤں میں مہنگائی و عوامی مسائل کا ذمے دار حزب اختلاف کو  قرار دیتی آ رہی ہے، لیکن یہ بھی  عوام بخوبی جانتی ہے کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے قرض لینے کے بھی تمام ریکارڈز توڑ ڈالے ہیں۔ پاکستان کے ذمے واجب الادا مجموعی رقم اس وقت 115 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2020 تک ملک کا مجموعی قرض 115.756 ارب ڈالر تھا۔ایک سال پہلے یعنی 31 دسمبر 2019 کو 110.719 ارب ڈالر تھا، یعنی پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الادا قرض میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اشیاء ضروریہ کی تمام بنیادی ضروریات پر وہ اپنے ذمے ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں، حکومتی دعوؤں کے مطابق ٹیکس اہداف بھی حاصل ہو رہے ہیں، وزرا ء روزانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معیشت درست سمت جا رہی ہے، قرض بھی لئے جا رہے ہیں، ملکی و بیرونی قرض بھی اتارے جا رہے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں کم قیمتوں کے باوجود ٹیکسوں میں اضافہ معمول بن گیا ہے، عوام کو بہلادیا جاتا ہے کہ پندرہ روپے قیمت بڑھانی تھی لیکن مفاد عامہ کے خاطر صرف پانچ روپے بڑھائے گئے، پہلے تو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مہینے میں ایک بار ہوا کرتا تھا، اب مہینے میں دو بار ہونے سے، قیمتوں میں اضافہ بھی  بڑھتا چلا جاتا ہے، حکومت نے ابھی تک کوئی میگا پراجیکٹ بھی شروع نہیں کیا کہ کہا جاسکے کہ مفاد عامہ کے لئے بڑے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اقدامات کہاں کئے جا رہے ہیں، اس سے عام آدمی کو فائدہ کیوں نہیں پہنچ رہا، حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
چھ سے آٹھ افراد پر مشتمل ایک متوسط گھرانے کے کھانے پینے کے اخراجات میں اضافہ کنبے کے لئے بھاری بوجھ بنتا جارہا ہے، کیا اقتدار میں بیٹھے صاحب اختیار اندازہ کرسکتے ہیں کہ حکومت کے ناکافی اقدامات سے گھرانے کو برائے نام ریلیف بھی نہیں مل رہا، حکومت کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کا کوئی قابل عمل حل ابھی تک سامنے نہیں آسکا، عوامی مسائل سے غفلت برتنے والے عناصر کے خلاف اگر موثر کاروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو عوام ایسے نمائندوں کو مسترد کرنے کی خواہش بھی کرنے لگے ہیں کہ انہیں سبز باغ دکھا کر دھوکا دیا جاتا ہے۔
حکومت اگر واقعی مہنگائی کو کم کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کاروائیاں رسمی کرنے کے بجائے اُن عوامل کو دور کرے و دراصل مہنگائی بڑھنے کے بڑھنے کا باعث ہیں اور یہ عوامل پٹرول، گیس اور بجلی کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی قیمتیں ہیں، بھاری ٹیکس کی شرح کم کرنے کے بجائے نرخوں میں سال بھر میں ایڈجسمنٹ کے نام پر سال بھر میں کئی بار اضافہ کرنے کی روش کوختم کیا جائے۔ پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخوں میں متواتر اضافے سے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ عوام کو اپنے مالی معاملات کے حوالے سے جھٹکے برداشت کرنا پڑتے ہیں، ملک اور قوم کو ان اقتصادی جھٹکوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اگر پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں کو کچھ عرصے کے لئے منجمد کردیا جائے۔
صوبائی حکومتوں کے پاس مہنگائی کو کم کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن بعض ایسے قانونی و آئینی معاملات ہیں، جن کا مکمل اختیار وفاق کے پاس ہے، مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے وفاق و صوبو ں کے اشتراک سے میکرو اکنامک مینجمنٹ بہتر کرنے کی ضرورت ہے،  پٹرول، بجلی اور گیس  کے نرخوں کو منجمد کرنے سے عوامی طبقہ اپنے مالی معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، صنعتوں، تعمیرات اور زرعی شعبے کی شرح پیداوار میں تیزی آسکتی ہے اور کسانوں سمیت محنت کشوں کو سہولیات فراہم کرنے سے مہنگائی کم کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوسکتا ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ہمارے ملک میں برسراقتدار آنے والی حکومت عوام سے قربانیاں ہی طلب کرتی رہی اور انہیں سہانے خواب دکھاتی رہی، جن کی بڑی بھیانک تعبیر سامنے دیکھنے کے بعد اس صورتحال کو قبول کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نظر نہیں آتا۔ عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، اب حکومت کی ذمے داری ہے وہ روزمرہ استعمال خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کم نرخوں پر فراہم کرنے کے ٹھوس اقدامات کرے، وقتی طور پر عوام کو دلاسے دینے کے بجائے ایسے مستقل اقدامات کرے کہ لوگوں کی حقیقی اشک شوئی ہوسکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرض لے کر قرض اتارو کی مہم کا تمام بوجھ عوام پر منتقل نہ کیا جائے۔ بلکہ مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنے کے لئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے؟ | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد فروری میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے ملک کی سیاسی فضاء …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے