پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

مُجھے ایکسٹینشن کیوں دی؟ | انجینئر وقار احمد

تحریر: انجینئر وقار احمد

بات شروع ہوتی ہے دو ہزار تیرہ میں ایک تاریخ سے سیکھے ہوئے اور دو مرتبہ اپنی بھاری اکثریت سے حکومت گنوانے اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے نئے نوازشریف کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے .اسطبلشمنٹ جس نے ایک اپنی ہی پیرالل حکومت قائم کی ہوئی تھی جسکا اظہار سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ کی موجودگی کے طور پر کیاتھا.
نوازشریف جوکہ دوہزار تیرہکے الیکشنز میں اپنی ایک مضبوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے اور اسطبلشمنٹ جس میں مشرف کی سوچ کی حامل باقیات اور دس سالہ مارشل لاء میں اپنی من مانیاں اور اقتدار کے مزے لوٹنے والے کثرت سے موجود تھے حالانکہ پانچ سالہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں کچھ سدھر گئے اور کچھ نے طریقہ واردات تبدیل کرکے پیرالل حکومت چلانے اور چلوانے کا بندوبست جاری و ساری رکھا اور انکو لگام دینے اور اپنی انیس سو تیرانوے کی تقریر ‘کہ میں اب مزید ڈکٹیشن نہیں لونگا’ کو عملی جامہ پہنانے کیلیے نوازشریف نے طاقتور کی طاقت کو ماننے سے انکارکیا اور وقت کے ظالموں کے خونی ہاتھوں پر بیعت کرنے سے انکارکیا اور پھر حالات کس طرح سے بدلتے ہیں وہ سب تاریخ کا حصہ ہیں.
جب آج کے جنرلز کاکول میں اپنی ٹریننگ میں مصروف تھے تو نوازشریف انکے بڑوں کیساتھ کھیل کی بساط بجھا رہا تھا.(اعزازسید)
‘مُجھے کیوں نکالا’ سے جو بات چل نکلی تھی وہ آج آن پہنچی ہے ‘مُجھے ایکسٹینشن کیوں دی’.
ہم دشمن کو ووٹ کی طاقت سے شکست دیں گے. ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈان لیکس ملکی سالمیت پر حملہ ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر
وَ تُعزُّ مَن تَشاءُ وَاتُزُلُّ مَن تَشاءُ. ڈی جی آئی ایس پی آر
اور اب ‘حکومت اور فوج ایک ہی صفحے پر ہیں. ڈی آئی ایس پی آر
میں بطور متفقہ ایکسٹینڈد چیف آف آرمی اسٹاف کُچھ معصومانہ سوالات عوام اور اسکے نمائندوں سے کرنے کا حق بجانب ہوں اور ہمیشہ کیطرح آپ کے تعاون اور حقیقت پر مبنی جوابات کا منتظر رہونگا.
کیا مجھے ایکسٹینشن اس لیے دی گئی کہ جلسے جلوسوں میں میرا نام لیکر مجھ سے دوہزار اٹھارہ کے الیکشنز کی دھاندلی کا سوال کیا جائے؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اس لیے دی گئی کہ اڑھائی سال کی مدت گزرجانے کے باوجود ہماری لائی گئی حکومت کی ناکامیامیوں کا حساب سرعام مجھ سے ہی پوچھا جائے؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اس لیے دی گئی کہ اعلٰی عدلیہ جسکے کچھ ججز حضرات پر ہم کنٹرول نہیں کرسکے انکی ججمنٹ کو بنیاد بناکر ہماری جگ ہنسائی کی جائے؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ ہماری لائی گئی حکومت کی ناکامیوں اور کرپشن کے نتیجے میں پائے جانےیوالے غُصہ کا رُخ وقت آنے پر میری طرف مبذول کرایا جائے اور انہیں ایجوکیٹ کیاجائے کہ اسکے قصور وار اصل میں اس نااہل اور سلیکٹیڈ حکومت کو لانے والے ہیں؟.
کیا مُجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ وقت آنے پر عوام کو بتایا جاے کہ ابھینندن کا بوجھ ہم اور ہماری لائی گئی انسٹالڈ حکومت اُٹھانے سے قاصر تھی اور حقیقتََا ہماری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور پسینے سے شرابور تھے کہ بات چیت سے پہلے ہی ابھینندن سے جان چُھڑائی گئی؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ وقت آنے پر عوام کو بتایا جائے کہ مادرِملت زندہ باد کا نعرہ لگانے سے اصل میں کس ادارے کو تکلیف اور ہزیمت کا سامنا ہوتا ہے؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ عوام کو باور کرایا جائے کہ ضرورت پڑنے پر ہمارا ایک سیکٹر کمانڈر صوبے کے آئی جی تک تو اغواہ کرسکتا ہے اور اسٹیٹ ابووو اسٹیٹ کا بیانیہ صحیح معنوں میں درست بیانیہ ہے؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ عوام کو کامل یقین ہوجاوے کہ ہمارے خلاف بولنے والے صحافی اور دیگر اشخاص کو اُٹھا کر شمالی علاقہ جات کی سیرکرانے کا بندوبست بھی محکمہِ زراعت کے پاس ہے؟
کیا مُجھے ایکسٹینشن اس لیے دی گئی کہ وقت آنے پر عوام کو بتایا جائے کہ سقوطِ کشمیر بھی ہمارے لائے گئے حکومتی سیٹ اپ کے دور میں ہوا لہٰذا سوال بھی ہم ہی سے ہوگا؟؟
کیا مُجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ ہمارا نام لے لیکر عوامی اجتماعات میں ہم سے ہماری لائی گئی حکومت کی ناکامایوں,مہنگائی,کرپشن,گرتی ہوئی معیشت,ریاست کی ناکامیوں کے سوالات کیے جائیں؟؟.
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ ہمارے طریقہ واردات ہر سیویلین ادارے میں اپنے حاضر و ریٹائرڈ افسران کو بٹھا کر اداروں کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا جائے؟؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ گیارہ جماعتی اجتماع اور عوام کے جمِ غفیر کے سامنے جنرل عاصم غفور باجوہ کی بلوچستان حکومت گرانے اور سینیٹ پر قبضہ کرنے کی کامیاب سازش کا پوچھا جائے؟
کیا مجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر کے تاریخی الفاظ’ جس دن جرنیلوں کی کرپشن سامنے آئے گی تو لوگ سیاستدانوں کو بھول جائیں گے اور کانوں کو ہاتھ لگائیں گے’ کو صحیح ثابت کرنے کیلیے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کی ننانوے کمپنیوں اور پاپاجونز کے لارج پیزے پر ڈسکائونٹ بھی مجھ سے مانگا جائے؟؟
کیا مُجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ آج ڈی جی آئی ایس پی آر کے اپرووڈ ڈیفنس جرنلسٹ (جنرل مصطفٰی) ٹالک شوز میں کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ سیاستدانوں کو آرمی چیف کیساتھ بیٹھ کر ڈائیلاگ کرناچاہیے جبکہ ہمارا تو سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا؟؟
کیامجھے ایکسٹینشن اسلیے دی کہ میں ہی اپنی اسلیکٹیڈ حکومت کو چلائوں اور عوام کو جواب دوں؟؟
کیا مُجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ جو راز کے گفت و شُنید پرائیویٹلی ہوتی تھی وہ آج عام عوام,ریڑھی بان,پان کے کھوکھے اور ڈھابوں پہ بیٹھے افراد چائے کی چُسکی لگاکر مجھے اور جنرل فیض کو ہماری اسلیکشن پر کوسیں؟؟
کیا مُجھے ایکسٹینشن اسلیے دی گئی کہ اصل کھیل کے کھلاڑیوں کو گیم میں رکھاجاوے اور وقت آنے پر عوام کے سامنے جواب طلب کیاجائے؟؟
یہ ایک ڈیولپنگ اسٹوری ہے اور مزید پُوچھے جانیوالے سوالات آپ وقتََا فوقتََا اس میں شامل کرسکتے ہیں.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی راولپنڈی میں انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی انتقال کرگئے۔ میر ظفراللہ خان جمالی دل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے