بدھ , 20 جنوری 2021
ensdur

مونیکا کے ساتھ گھر میں غربت رہتی تھی | سعید سانگری

تحریر: سعید سانگری

الودع مونیکا لاڑک، مونیکا کو پیار سے گھر مین “ مونا “ بلاتے تھے، مونا سندھ کے بدنصیب گائوں لونگ لاڑک کی وہ بدنصیب بچی تھی ، جس کے گائوں میں پکا راستہ بھی نہیں جاتا۔
مونا تین دن پہلے گھر سے پڑوس مین ہادل شاھ ماں کے ساتھ گئی تھی، ماں کام مصروف تھی، مونا اکیلی نکلی تھی، راستہ مین گم ہوئی، اک رات گزری ، دوسری رات گزری مونا گھر واپس نہیں آئی، گھر والوں نے سوچا “مونا اپنی چچی یا خالہ زاد کے پاس ہوگی، کیوں کہ حسب معمول وہ آتی جاتی رہتی تھی، کبھی کبھی ان کے پاس رات کو ٹھرتی تھی”، جب تیسرے دن واپس نہیں آئی، تو گھر والوں نے ڈھونڈنا شروع کیا، وہیں اطلاع ملی “ بچی کی لاش کیلے کی باغ سے ملی ہے، لاش کے قریب وہ برتن بھی پڑے تھے، جس میں رات کا بچا ہوا کھانہ بھی پڑا تھا، جو اکثر وہ کام کے بعد گھر لے کر جاتی تھی، یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، یہ خبر مونا کے گھر والوں تک بھی پہنچی، والد باغ مین پہنچا، مونا کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، سات سال بچی کو درندوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا ، اس کے بعد ہاتھوں سے گلا دبایا اسے قتل کیا گیا۔

مونیکا (مونا) کے گھر میں غربت رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ صبح کو اپنے گائوں سے ماں کے ساتھ نکلتی تھی، اک کلومیٹر دور جا کر گھروں میں کام کرتی تھی، مونا اپنے گائوں کے اسکول میں دوسری جماعت میں پڑھتی تھی، کرونا کی وجہ سے اسکول نہیں جا رہی تھی، مونا کی چھے بہنین ہے، اور تین بھائی، ان کے ساتھ گھر میں غربت ہی رہتی تھی۔

مونا کا والد کمرے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، جس کو سر پے رومال ، پہٹی قمیص، اور دھوتی (جس کو سندھی مین گوڈ کہا جاتا ہے) پہنی ہوئی تھی۔
اور مونا کے چچا زوروشور سے اپنے منہ پے ہاتھ رکھ کے رو رو رہے تھے
اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا سارا گائوں (سندھ) رو رہا ہے۔

مونا کے والد سے جب سوال کیا “ کیا مونا پڑھتی تھی”
جواب اسے آنکھو سے آنسو کی صورت مین ٹپک رہا تھا، جب
‏ورثاء سے دعا کے لئیے پہنچا تو پرائمری ⁧‫اسکول‬⁩ کے کمرے میں بیٹھے تھے، آنسو بھاتے اس کا والد پوری داستان سنا رہا تھا، میرے بھی آنکھو مین آنسو آگئے،!
والد جو دن کو مزدور کرتا ہے اور کرائے پے موٹرسائیکل چلاتا ہے، اور مونا غربت کی وجہ سے کسی گھر میں کام کرتی تھی،
جب یے خبر سوشل اور الیکٹرانک میڈیا چلی تو ٹوئیٹر پے ٹرینڈ جسٹس فار مومینا بن گیا لیکن اس کا نام مونیکا (مونا) تھا، ۔

یہ ننھی پیاری معصوم مونا کی لاش نہیں سندھ کی لاش تھی
یہ کفن مونا کو نہیں سماج کو پہنا ہوا تھا
یہ امیر سندھ کے غربت کا جنازہ تھا، جس کے بچیوں کو اغوا کیا جا رہا، زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا، اور اس کے بعد قتل کیا جا ہورہا،

آئو مونا بچی کے درجات بلند کرے دعا کریں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

ایک تبصرہ

  1. ‏کاش کوئی توھین حرمت انسان کے خلاف بھی میدان میں نکلے
    کاش کسی منبر سے ان وحشیوں کے خلاف بھی فتوے جاری ہوں
    💔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے