جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

مونیکا اور ہمارہ زوال پذیر معاشرہ | بختاور جاوید

تحریر: بختاور جاوید

ہمارے معاشرے میں کیا کیا برائیاں ہیں، اس کی عکاسی سندھ کے ضلع خیرپور میں سات سالہ گھریلو ملازمہ مونیکا لاڑک کے ساتھ عصمت دری اور قتل ہے۔ غریب بچی اپنے گھر سے ایک کلو میٹر دور محل نما حویلی میں کام کرنے گئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئی۔ چونکہ لڑکی اکثر راتیں کام کی جگہ گزارتی تھیں، لہٰذا گھر والے دو دن اس کی تلاش میں نہیں گئے، کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ وہ کام پر ہے۔ دو دن بعد، جب آخر کار بچی کے گھر والے اس کی تلاش کے لئے حویلی گئے تو وہ حواس باختہ ہوگئے جب معلوم ہوا کہ بچی وہاں نہیں ہے۔ اس خاندان نے کچھ رشتہ داروں کی مدد سے خود ہی بچی کی تلاش شروع کی اور آخر کار اس کی بے جان لاش کیلے کے باغ میں ملی۔

اس بھیانک واقعہ کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا گیا اور کچھ دنوں تک صدمہ اور غم اور غصہ رہا، لیکن اسی طرح کے بہت سے معاملات کی طرح جلد ہی فراموش کردیا گیا۔ تاہم یہ واقعہ ملک میں موجود آپس میں جڑے ہوئے بہت سے امور کو. سامنے لایا ہے جیسے: بھیانک ہوا غربت کا مسئلہ ، انصاف کے نظام کی حالت زار، طبقاتی نظام اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، حکومت کی بے حسی اور مذہبی رہنماؤں کی منافقت۔ مونیکا کی مختصر زندگی کی المناک کہانی کا ایک مختصر جائزہ روشنی ڈالتا ہے اور ان امور کے بارے میں بہت سارے سوالات اٹھاتا ہے۔

سات سال کی عمر میں غربت نے مونیکا کو گھریلو کام کرنے پر مجبور کیا۔ اس کا کنبہ انتہائی غریب تھا۔ اس کا والد موٹر سائیکل پر لوگوں کو ٹیکسی سروس فراہم کرکے زندگی کی گاڑی کو چلا رہا تھا۔ قومی غربت کا تناسب قریب قریب 40 فیصد ہے اور 80 ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ظاہر ہے کہ بہت سارے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے انہیں ملازمت کے لئے بھیجنے پر مجبور ہیں۔ اپنی غربت کے پیش نظر، ان کے پاس اکثر ناقص حالات میں اپنے بچوں کو ملازمت کے لئے بھیجنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ معاشی اور بہت سے معاملات میں جنسی استحصال کا شکار بنتے ہیں۔ افراط زر کی بڑہتی ہوئی شرح نے غریب اور متوسط ​​طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اور خدشہ ہے کہ بہت سے بچوں کا انجام بھی غریب مونیکا کی طرح کا ہو۔

مونیکا کی کہانی معاشرے میں طبقات کے مابین دولت کی غیر مساوی تقسیم پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ مونیکا جہاں پر گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتی تھیں وہ اسے اکثر زیادہ دیر تک اپنے گھر پر رکھتے تھے اور بونس کے طور پر روزانہ تین چپاتیوں کے ساتھ ہر ماہ صرف 300 روپیہ اجرت دیتے تھے۔ لہذا مونیکا نہ صرف گھر میں تھوڑی رقم لے کر آتی تھیں بلکہ کچھ کھانا بھی آتا تھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ برتن جس میں وہ گھر کا کھانا لے کر آئے تھے وہ بھی اس کی لاش کے پاس پڑے ہوئے تھے۔

یہ یقین سے بالاتر ہے کہ ایک سات سال کی بچی کو، جس کو بسا اوقات اس محل میں رات بھی گزارنی پڑتی تھی، کو ماہوار اجرت کے طور پر صرف تین سو دیئے جاتے تھے. آجکل کی اس مہنگائی میں 300 روپے کی قدر ہی کیا ہے؟ یہ سراسر استحصال ہے اور کچھ نہیں۔

دریں اثنا، ہر سال پہلی مئی کو مزدوروں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن قومی تعطیل بھی ہوتی ہے۔ لیکن مونیکا جیسے لاکھوں افراد کے لئے یوم مئی کی کیا معنی اور اہمیت ہے؟ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق پاکستان میں ساڑھے آٹھ لاکھ افراد گھریلو ملازم کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ گھریلو ملازمت سب سے کم اجرت والی روزگار کی بدترین شکل ہے. نہ تو کام کے اوقات کار کی کوئی پابندی ہے اور نہ کوئی قانونی تحفظ. نہ ای او بی آئی اور نہ ہی کوئی انشورنس۔ سوال یہ ہے پاکستان میں گھریلو کاموں سے متعلق کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ یہاں تک کہ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا. گھریلو کام کرنے والے لوگ، آجر اور یہاں تک کہ پولیس بھی بڑے پیمانے پر اس کے وجود سے لاعلم ہے۔

جہاں تک پولیس کا تعلق ہے تو، ان معاملات میں ان کی کارکردگی اکثر انتہائی مایوس کن ہوتی ہے۔ مونیکا کے عصمت دری اور قتل کیس میں معمول کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا۔ بالآخر انہوں نے ایف آئی آر درج کی اور نو مشتبہ افراد کو صرف اس وقت گرفتار کرلیا جب ان پر سیاسی دباؤ ڈالا گیا۔ یہ کیوں ہے کہ ایک پولیس فورس جو اکثر غیرضروری طور پر تشدد کا سہارا لیتی ہے اس کو اپنا کام سرانجام دینے کے لئے عوامی دباؤ کے ذریعہ کوڑے مارنے پڑتے ہیں؟ پولیس نے شروع میں مونیکا کے والد کو نظرانداز کیا کیونکہ وہ غریب تھا۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک اعلی ٹرینڈ بن جائے گا اور سیاسی رہنماؤں پر دباؤ بڑھ جائے گا، جس کے نتیجے میں وہ پولیس پر اپنا کام کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔

اگرچہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہیں مگر وہ بڑے پیمانے پر غیر فعال رہتے ہیں۔ اگر کوئی پولیس افسران سے سندھ چائلڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے بارے میں پوچھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ پولیس افسران کی اکثریت اس کے وجود سے لاعلم ہے۔ بچوں سے جنسی زیادتی یا بچوں کی مشقت کے معاملے کو ختم کرنے کے لئے صرف قانون سازی ہی کافی نہیں۔ پورے فوجداری نظام کو ازسر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ مونیکا کے معاملے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا تھا، لیکن اس معاملے کو میڈیا کی مناسب توجہ نہیں ملی۔ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتی تھی اور سندھ کے ضلع خیرپور کے چھوٹے شہر پیر جو گوٹھ میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں لانگ خان لاڑک میں رہتی تھیں؟ یہاں ایک عنصر ہے جس پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ سندھ کے چھوٹے اور دور دراز کے گاؤں اور غریب خاندان سے تعلق کی وجہ سے اس کے معاملے کو وہ اہمیت نہیں ملی جو ایسے معاملے میں شہری علاقوں میں رہنے والوں کو ملتی ہے۔ اگر مونیکا کا تعلق کسی بڑے شہر کے کسی بااثر خاندان سے ہوتا تو اس معاملے پر توجہ بھی بالکل مختلف ہوتی۔

اس معاملے میں ناانصافیوں کی فہرست میں اضافہ صوبائی حکومت کی بے حسی بھی تھی۔ سندھ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے اور سوشل میڈیا پر پولیس کی نا اہلی کے متعلق سوال اٹھانے کے بعد ہی حکومت بالآخر کچھ کارروائی کرنے پر مجبور ہوئی۔ آخر کار وزیر اعلی کے معاون خصوصی نے پولیس پر ایف آئی آر درج کرنے کے لئے دباؤ ڈالا۔ کچھ سرکاری عہدیداروں نے بھی غمزدہ اہل خانہ سے ملاقات کی اور معاوضے کے طور پر کچھ رقم ادا کی اور مانیکا کے والد کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا۔ کیا ہم حکومت اور ریاست سے یہی توقع کرتے ہیں؟ کیا غمزدہ خاندانوں کو عصمت دری اور قتل کا معاوضہ ادا کرنا ان کا واحد کام ہے؟ کیا اس سے بچوں کی مزدوری کا مسئلہ حل ہوتا ہے؟ کیا حکومتوں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ موجود قوانین کو موثر طریقے سے نافذ کرے؟ کیا سات سالہ مونیکا کو کسی کے گھر میں کام کرنے کے بجائے اسکول میں نہیں ہونا چاہئے تھا؟ یہ ممکن بنانا کس کا فرض ہے؟

اس معاملے میں مذہبی رہنماؤں کی خاموشی بھی قابل ذکر ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی جیسے امور کو اٹھانے پر یہ لوگ ہر وقت آواز اٹھانے اور رونے کے لئے سب سے آگے رہتے ہیں، اور جب محدود وسائل والے بڑے خاندان زندہ رہنے کے لئے بچوں کی مزدوری کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں تو یہ خاموش رہتے ہیں۔ مونیکا آٹھ بہن بھائیوں میں سے ایک تھی۔ اس کے والدین سمیت 10 افراد کا گھرانے تھا۔ اس کا وحشیانہ قتل، افسوسناک اور بھیانک تو تھا ہی، مگر یہ ہمارے معاشرے کے بہت سے بنیادی مسائل کو بھی منظر عام پر لایا ہے۔ اس سے پہلے کہ معاشرے کو ایک اور چھوٹا سا بھاری تابوت اٹھانے کا بوجھ اٹھانے پڑے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو آگے آنا چاہئے اور بچوں سے مزدوری اور اس سے وابستہ دیگر برائیوں کے معاملے کو فوری طور پر حل کرنا چاہئے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے