ہفتہ , 23 جنوری 2021
ensdur

موروثی سیاست اور پاکستان پیپلز پارٹی | زوہیب حسن ایڈوکیٹ

تحریر: زوہیب حسن ایڈوکیٹ

سیاست اور جمہوریت میں عام طور یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ سیاست شخصیات پر نہیں نظریات پر ہونی چاہیئے۔

مگر دوسری طرف ایک تسلیم شدہ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیاۓ سیاست و نظریات میں نظریات ہو یا حکومتیں وہ شخصیات یا خاندانوں کے گرد ہی گھومتی رہی ہیں۔۔ جیسے !

مارکس سے مارکسزم
باچا خان سے باچا خانی
بھٹو سے بھٹوازم۔

آپ کسی سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ دنیا میں بہترین سیاسی و جمہوری نظام کہاں پر ہے ؟

آپ کو ان چند یا ان میں سے کسی ایک کا ملک نام ضرور سننے کو ملے گا۔

کینیڈا ‘ امریکہ ‘ ہندوستان اور کئ کئ پر آپ کو بنگلہ دیش کا نام بھی سننے کو مل سکتا ہے۔

اب کینڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا والد بھی کینیڈا کا وزیراعظم تھا۔

امریکہ میں باپ بیٹا دونوں بش صدر رہ چکے ہیں۔

ہندستان کے سیاست و جمہوریت سے آپ گاندھی خاندان کا نام نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

بنگلہ دیش میں شیخ مجیب اور شیخ حسینہ واجد خاندان کو آپ مائنس کر نہیں سکتے۔

ان ممالک میں آپ کو جمہوری و سیاسی نظام پر بحث کے دوران آپ کو واہ واہ ہی ملی گی مگر جب یہی براۓ نام مبصرین و تجزیہ نگار پاکستان کا رخ کرتے ہیں تو پاکستان پیپلز پارٹی پر یہی وار کرتے ہیں کہ یہ موروثی سیاست ہے۔

بات موروثیت کی نہیں بلکہ مظلوم محروم محکوم کے ساتھ تسلسل سے کھڑا ہونے اور اسی طبقہ کے لئے سیاسی جدوجہد کا نام بھٹوازم ہے۔

جن کے لیئے بھٹو ایک فرد کا نام ہے انکے لئے بھٹو مر چکا ہے لیکن جن کے لئے بھٹو ایک نظریہ کا نام ہے انکے لئے بھٹوازم آج بھی زندہ ہے۔۔

بھٹوازم نام ہے رنگ نسل مذہب مسلک عقیدہ و عہدہ سے بالاتر انسانی خدمت کا۔۔

بھٹو خاندان کو کوئ ضرورت نہیں اقتدار کی پیسے کی یا نام و شہرت بنانے کی۔

زوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑہایا گیا تو نصرت بھٹو بیچ سڑک ریاستی جبر کے ڈنڈے سر پر کھاتی رہی عمر کا طویل عرصہ بستر پر پڑے نیم بے ہوشی کی حالت میں گزارا جبکہ ایک بیٹے کے سینے میں ریاست کی خونی گولیاں پیوست کی گئ تو بیٹی بینظیر کے سر پر گولیاں برسا کر ایک ایک کر کے اس خاندان کے افراد کو دنیا سے رخصت کر دئے گئے۔

جو زندہ ہے انکو بدترین کردار کشی میڈیا ٹرائل جھوٹے مقدمات قید وبند کے صعوبتوں کا سامنا ہے۔

سنا ہے دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کو ہمیشہ ہر دور میں انتہائ اعلی درجہ کا کمینہ اور گھٹیا ترین دشمن ملا جو اخلاق کی حدوں کو بھی پار کر کے اسکو اپنی سیاسی فتح مانتا رہا ہے بلکہ ریاستی میڈیا کے جانب سے بھی اس کو ہر دور میں خوب پزیرائ ملتی ہے۔

53 سال قبل اس ملک کے محروم محکوموں اور مظلوموں کی آہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کو جنم دیا تھا اسی دن سے لیکر آج تک یعنی 53 سال بعد بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو اسی غلیظ غیر جمہوری سوچ ‘ براہ راست آمریت کا یا آمریت کا لباس اوڑے سیاسی نما چہروں کا سامنا ہے جس کا سامنا زوالفقار علی بھٹو کو تھا انکی بیوی نصرت بھٹو کو تھا انکی بیٹی بینظیر بھٹو کو تھا اور انکے نواسے بلاول بھٹو زرداری کو ہے اور آصفہ بھٹو زرداری کو آج کے بعد کرنا پڑیگا۔۔ مگر یہ خاندان ثابت قدمی سے انکا مقابلہ کرتا چلا آ رہا ہے۔

اس خاندان کو ہر دور میں چند صحیح مگر نظریاتی اور سیاسی عقل و شعور سے لیس ورکران کا ساتھ ہمیشہ ہر دور میں رہا جو بھٹو خاندان کے ساتھ کندے سے کندہ ملاۓ ملک میں سیاسی جمہوری اور آئینی استحکام کی خاطر پھانسیاں چڑتے رہے کوڑے کھاتے رہے جیلیں کاٹتے رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو لیڈ کرنے والی بھٹو خاندان کے ساتھ ساتھ انہی ورکرز جیالوں کے ہی قربانیوں کا صلہ ہے کہ آج 53 سال بعد بھی پاکستان پیپلز پارٹی اس ملک کے ہر مظلوم محروم اور محکوم کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ کل بھٹو تھا آج بلاول ہے۔ کل بینظیر تھی آج آصفہ ہے۔۔
لفظ بھٹو عوام مخالف قوتوں کے لئے 53 سال سے خوف کی علامت تھی ہے اور رہے گی۔

جب تک سورج چاند رہے گا۔
بھٹو تیرا نام رہے گا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

دن نثار کیے جا ، سب پے وار کیے جا | وسعت اللہ خان

تحریر: وسعت اللہ خان جھے واقعی سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومتوں کو گڈگورننس کی …

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے