منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

موبائل نیٹ ورک کے لیے پہاڑیوں پہ چڑھنے  والےنواجون کو دہشت گرد نہ ٹہرادیا جائے؟ | گہرام اسلم بلوچ 

تحریر: گہرام اسلم بلوچ

نول کوویڈ 19کے پیش نظر ملک بھر میں معمولات زندگی ، کاروبار سمیت درس و تدریس کا عمل بھی معطل ہے۔ ملک میں جاری کئی مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن کے پیش نظر دیگر شعبوں کی طرح شعبہ تعلیم بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ طلبا و طالبات کے تعلیمی سال کا ضیاع ہونے کو مد نظر کر ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ( ایچ ای سی ) نے اپنے تمام ماتحت جامعات کو آن لائن کلاسز شروع کرانے کا حکم صادر کیا۔ اسی طرح ایچ سی کا یہ حکم اپنے ماتحت بلوچستان کے یونیورسیٹز پہ بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب سے تمام جامعات نے ایچ ای سی کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی شروعات کی تو ملک بھر طلبا و طالبات کے تحفظات سامنے آنا شروع ہوگئے۔ اسی طرح صوبہ بلوچستان کے طلبا و طالبات نے متعلقہ ادارے کی اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سراپا احتجاج ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوڑا اور رقبے کے لحاظ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور پسماندگی و مظلومیت کی ہر نشانی یہاں مل جاتی ہے۔ اس وقت بلوچستان کے مواصلاتی نظام کا یہ عالم ہے کہ ما سوائے کوئٹہ اور چند دیگر کے سٹی میں انٹرنیٹ دور کی بات ہے معیاری موبائل سروسز نہیں ہے۔ اسوقت بلوچستان کے سب سے بڑا اضلاح میں شامل تربت کیچ، گوادر ، پنجگور ، آواران سمیٹ کہی اضلاع میں کہی سالوں سے انٹرنیٹ موبائل تھری جی اور فورتھ جی منقطع ہے۔ اسی طرح بلوچستان کا دوسرا بڑا ڈسٹرکٹ تربت کیچ بھی اس مشکلات میں پسماندہ ترین صفوں میں شامل ہے۔دس لاکھ سے زائد کی آبادی والا  ضلع    نا صرف انٹرنیٹ بلکہ بجلی و دیگر مواصلاتی سہولیات سے بھی محروم ہے ۔ اگر آن لائن کلاسس کے حوالے سے ملک میں بھر کے پسماندہ علاقوں کے طلبا و طالبات اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے دوسری جانب اسوقت تربت  کے  سے تعلق رکھے والے 700 سے زائد طلبا و طالبات بلوچستان سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے جامعات میں زیرتعلیم ہیں ۔کرونا وبا کی وجہ سے  وہ اپنے علاقوں میں ہیں  اور دوسری جانب ہائر  ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے آن لائن کلاسس کی اجرا کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبا آن لائن کلاسز کے اجرا کے بعد نیٹ ورک کی تلاش کے لیے پہاڑیوں کو رک کرتے ہوئے۔

اس بارے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا موقف : اسلام آباد میں ہائرایجوکیشن کے ترجمان طارق بونیری کے مطابق آن لائن کلاسز تک رسائی نہ ہونے کی وجوہات جو بھی ہوں ہائر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹیوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ متبادل ذرائع اختیار کریں۔یہ متبال  ذرائع میل، کوریئر سروس، واٹس ایپ، ٹیکسٹ یا کوئی شراکت دار ادارے مثلاً کالجز وغیرہ ہو سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کا بڑا مقصد معیاری تعلیم کو یقینی بنانا اور فروغ دینا ہے اور کورونا وائرس کے بحران کے دوران آن لائن کلاسز کے ذریعے طالب علموں کے سمیسٹرز کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ دنوں  تربت میں وہ طلبا و طالبات جو کہ ملک کے مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں   انٹرنیٹ  کی بندش اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ اپنی کلاسزز جاری نہیں کر سکیں گے کے خلاف تربت میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں مطالبہ کیا گگیا کہ  ایچ ای سی  آنلائن کلاسز کی اجرا سے قبل  متعلقہ اداروں کو پابند کریں کہ جہاں انٹرنیٹ سروسز منقطع ہیں  پوری طور پر بحال کی جائے۔ ( واضع رہے آج سے کچھ عرصہ قبل تربت کے تمام گاؤں میں 3جی،4جی موبائل انٹرنیٹ سروسز بحالی تھی 2015 کے آواخر میں منقطع کر دی گئی) اس بارے میں متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ سیکوریٹی کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ سروسز کو بند کردیا گیا ہے۔ آج پانچ سال ہوگیا ہے کہ اس جدید دور میں تربت انٹرنیٹ ،اور بجلی جیسی آج کے دور میں بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔

انٹرنیٹ کی بندش اور اسٹوڈنٹس کے مشکلات و مسائل کے حوالے سے میں تربت کیچ کے ایک  گاؤں سے تعلق رکھنے والے ۔ ایم ،فل   اسکالر سے اس  حوالے سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ   اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا گلوبل  ولیج  ہے مگر ہمارے پسماندہ علاقوں کے لیے آن لائن کلاسز بلکل نئی چیز ہے کیونکہ ہم ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ہمیں اپنے دوستوں سے رابطہ کرنے کے موبائل سنگنلز کا یہ عالم ہے کہ ہمیں ایک میسج سنڈ کرنے کے لئے  یا تو کسی چڑھائی پہ چڑنا پڑتا ہے یا گھروں کے چھتوں پہ  موبائل 3 جی 4 جی دور کی بات ہے۔اللہ نہ کرے کہ  آنلائن کلاسز کی آڑ میں موبائل سنگنلز کے متلاشی نیٹ ورک کے لیے پہاڑیوں کا  رُک کرتے ہیں انہیں کل پھر یہی  سزا نہ ملے کہ آپ پہاڑوں میں دہشت گردی کرنے یا کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اس بارے  پارلیمنٹیرین کا کردار، گزشتہ دنوں نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر میر کبیر محمد شہی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش کے سلسلے میں چیئرمین سنیٹ میر صادق سنجرانی کو درخواست دی ہے جس میں 7 اضلاع شامل ہے، تاہم اسکی مثبت جواب کا انتظار ہے۔  اس ضمن میں اپریل کے مہینے میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جدید برانڈ بینڈ  کی منظوری تو دے دی مگر اس ابھی کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہا ۔

حکومت بلوچستان کا موقف:  

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے گزشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بمشکل 30 سے 35 فیصد علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جب انٹرنیٹ نہیں ہو گا تو پھر آن لائن کلاسز کے حوالے سے مشکلات ہوں گی ،صرف انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ اس کے لیے لیپ ٹاپ اور دیگر ضروری ڈیوائسز کی بھی ضرورت ہو گی اور جن طلبہ کے پاس وسائل ہوں گے وہ تو یہ لے سکتے ہیں لیکن جو غریب ہوں وہ یہ ڈیوائسز کہاں سے لائیں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی کے مسائل بھی ہیں۔لیاقت شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان میں طلبا کے جو مسائل ہیں حکومت بلوچستان ان کا جائزہ لے رہی ہے ہم کوشش کررہے ہیں کہ ان کا کوئی بہتر حل نکلے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے