جمعہ , 23 اکتوبر 2020
ensdur

منٹو اور عورت مارچ | بختاور جاوید

تحریر: بختاور جاوید
تصور کریں ایک لوہے مکان کا جو کھڑکیوں کے بغیر ہو بالکل ناقابل تقسیم, جس کے اندر بہت سے لوگ سو رہے ہیں جو جلد دم گھٹنے سے مر جائیں گے. چونکہ وہ اپنی نیند میں مر جائیں گے لہذا موت کا درد محسوس نہیں کریں گے. اب اگر آپ ان میں سے چند کچی نیند والے افراد کو اونچی آواز سے جگائیں گے تو ان بدنصیب لوگوں کو اٹل موت کی اذیت سے دوچار کرتے ہیں, کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ان سے نیکی کر رہے ہیں. یہ سطریں Lu Hsun کی پاگل آدمی کی ڈائری پڑہتے نظر سے گذریں.
Lu نے تو یہ سطور چینی معاشرے کے لیے لکھیں تھیں مگر میں انہیں موجودہ پاکستانی معاشرے سے ہم آہنگ سمجھتی ہوں. کوئی مذکورہ منظر نامے کو سیاسی ہنگامے یا معاشرتی بگاڑ پہ لاگو کرسکتا ہے جو معاشرے کے تانے بانے میں سرایت کر گیا ہے. میں اس کو مؤخرالذکر پہ عورت مارچ کے خصوصی تناظر میں لاگو کروں گی.

کسی ایسے شخص کا تصور کروں جو اپنی بند مٹھیوں سے آہنی گھر کی دیواروں کو زور سے پیٹ ریا ہے اور کچی نیند میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو صرف ایک نام میرے ذہن میں آتا ہے اور وہ ہے سعادت حسن منٹو.

سعادت حسن منٹو, ایسا نام جس سے آج تک ترقی پسند اور قدامت پسند پیچھا نہیں چھڑا سکے. مختلف لوگوں کیلئے مختلف اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے. مؤرخین اس کے افسانوں سے بٹوارے کے بارے میں مختلف باتیں حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگاتے ہیں. مذہبی لوگوں کیلئے منٹو ایک بدکار, بازاری اور فحاش ہو سکتا ہے. معقول لوگوں کیلئے وہ مستقبل کی خبریں دینے والا ہے جو آج بھی اتنا ہی ہم آہنگ ہے جتنا کل تھا. تاہم میرے لیے منٹو ایک خانہ بدوش, سماج سے ھتکارہ ہوا اور منحرف تھا. میں اسے اس لیے ایسا کہتی ہوں کیونکہ اس نے رائج سماجی اصولوں سے انحراف کیا تھا.

پدرشاہی, عورت بیزاری, منافقت, خودپرستی, ہٹ دھرمی اور قدامت پرستی جیسے اصول جن کی معاشرے میں پیروی کی جاتی ہے. کیسے اس نے سماج کو اس کا اصلی چہرہ دکھانے کی جرأت کی؟ منافقت کا مارا معاشرہ جہاں عورتوں کو متعصب انکھوں سے دیکھا جاتا ہے. جہاں عورت نظم میں رکھنے کیلئے ایک طرف کنوارے پن اور پاکیزگی کے طعنے دیئے جاتے ہیں تو دوسری طرف کمزور خواتین سے جسمانی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں, کیسے اس نے ایسے بصورت معاشرے کے چہرے سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی؟

کیسے اس نے ایک ایسے معاشرے کو بیدار کرنے کی کوشش کی جو انکار کی کیفیت میں رہنا چاہتا ہے؟ کیا ایسے فحش, گمراہ اور ناپاک شخص کو عدالتوں میں نہیں گھسیٹنا چاہیے؟ میرے خیال میں پاک سر زمین کے لوگوں کے خلاف کیے گئے جرائم کی روشنی میں قدامت پسندوں کی طرف سے منٹو کے خلاف مقدمات دائر کرنے کا قطعی جواز تھا. دور جاہلیت میں شعور رکھنے سے بڑا جرم کیا یو سکتا ہے. قطعی ناقابل معافی.

ڈاکٹر علی شریعتی نے درست کہا تھا کہ “ایک جاہل سماج میں شعور رکھنا ناقابل معافی جرم ہے” منٹو نے اس جرم کا ارتکاب کیا اور اس کی مناسب قیمت ادا کی. منٹو کا وجود صاف ستھرے آئینے کے مثل تھا جس میں معاشرہ اپنی غلاظت دیکھ سکتا تھا. ایک ایسا معاشرہ آئینے میں اپنی ناگوار, شرمناک اور فحش تصویر دیکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا جو من گھڑت پروپیگنڈہ پہ پروان چڑھے. گرچہ آئینے کو لاہور کی مٹی میں دفن ہوئے عرصہ بیت گیا مگر پھر بھی وہ خود پرست, پارسا لوگوں کو پریشان کرتا رہتا ہے جو اسے دیکھنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا آئینہ ہے جو حقیقی عکس دکھاتا ہے. معاشرے کا اصل مکروہ عکس جسے دیکھنا نہیں چاہتے.

حال ہی میں آئینہ ایک بار پھر منظر پہ آیا ہے, اس مرتبہ عورت مارچ کی شکل میں جس کو ٹھیک اسی طرح کے ردعمل کا سامنا ہے جیسا منٹو کو تھا اور معاشرے کے ٹھیک انہی جنونی طبقات کی طرف سے جنہوں نے منٹو کو ہراساں کیا تھا ٹھیک اسی جرمنکا ارتکاب کرنے پر جو منٹو سے سرزد ہوا تھا.

عورت مارچ روکنے کیلئے منتظمین کے خلاف اسی طرح کے مقدمے, ناپاک, بازاری اور فحش جیسے وہ ہی القاب, اور اسی طرح کی بےچینی. یہ عورتیں کیسے اتنی بے باک ہو سکتی ہیں کے مردوں کو بلاوجہ مخصوص اعضا کی تصاویر بھیجنے سے منع کریں؟

یہ خواتین اتنی مضحکہ خیز کیسے ہوسکتی ہیں کہ ایک پاکیزہ معاشرے میں کھل کر جسمانی خودمختاری کا مطالبہ کریں؟ کیسے وہ منٹو کی طرح معاشرے کے دہرے معیار کی طرف انگلی اٹھائیں اور اس کے رسم و رواج کے خلاف کھل کر بولیں.

کوئی کیسے پاکباز زیادتی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر سکتا ہے جب ان کو عدالت نے باعزت بری کردیا ہو. ایسی گستاخ عورتیں سڑکوں پر اور دفاتر میں غیر سے ہراساں کئے جانے کی بجائے گھر پہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتی اور اپنے مرد رشتہ داروں کی مارپیٹ سہتیں اور ہراساں ہونا برداشت کرتیں. اس سے چادر اور چاردیواری کا تقدس تو برقرار رہتا ہے. پاکیزہ زمین پر فحش نعرے لگانے والی خواتین بچوں اور جانوروں سے کچھ سبق سیکھیں جو عصمت دری کے بعد خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں.

یہ عورتیں ایسے جرآتمندانہ نعرے لگانے کی ہمت کیسے کر سکتی ہیں جب مرد بہت شائستہ طریقے سے ان کو ہراساں کرتے اور انکی عصمت دری کرتے ہیں کہ کسی کو پتا بھی نہیں چلتا. ان عورتوں کی ہمت کیسے ہوئی کے وہ مردوں کو اپنا کھانا گرم کرنے کیلئے بولیں.. ان کو ہلکی مارپیٹ پڑتی ہے یا انکی ناک ہی تو کاٹی جاتی ہے یہ کام نہ کرنے پر. بیوقوف!!

اس نئے آئینے کا مستبل تو غیر یقینی ہے مگر ایک بات یقینی ہے کہ جب تک معاشرہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں پیدا کرتا یہ ایک یا دوسرے انداز میں ظاہر ہوتا رہے گا.

ایک ایسا معاشرہ جو شناختی بحران کی دلدل میں گم ہو چکا ہو وہ پروپیگنڈہ اور سازشی نظریات سے آسانی سے متاثر ہوتا ہے. ایسا معاشرہ جو خودشناسی سے قاصر ہو اس میں درپیش مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی.

عوام کے حقیقی مسائل, چاہے وہ معاشرتی ہوں یا سیاسی, کو مغربی یا غیر ملکی ایجنڈے بول کر دبانا, اس سے نمٹنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے, بلکہ یہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے کیونکہ متاثرہ فریق خود کو کٹا یوا اور الگ تھلگ محسوس کرتا ہے.

جب تک معاشرے میں ناانصافی کا معاملہ, خصوصاً کمزور طبقات جیسا کہ خواتین وغیرہ, حل نہیں کیا جاتا منٹو کے الفاظ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے. وہ نام جس سے قدامت پسند ہمیشہ جان چھڑانا چاہتے ہیں.

جہاں تک میرے جیسے آدھے سوئے ہوئے لوگوں کا تعلق ہے جن کو منٹو نے جھٹکے دیئے اور بیدار کرنے کی کوشش کی وہ اس بیمار معاشرے میں اذیت ناک اٹل موت کا شکار ہونگے. ہائے, جہالت نعمت ہے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم معاشی روڈ میپ دے | ملک سراج احمد

تحریر: ملک سراج احمد محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک بار انٹرویو دیتے ہوے کہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے