جمعرات , 29 اکتوبر 2020
ensdur

معاشرے میں بڑھتی جرائم کی تعداد | لاریب مشتاق

تحریر: لاریب مشتاق

معاشرہ کیا ہوتا ہے؟
جہاں لوگ مل جل کر اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں معاشرہ کہلاتا ہے اور اگر اسی معاشرے میں لوگ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے لگ جائیں تو انتشار پیدا ہو جاتا ہے. لا اینڈ آرڈر کسی بھی معاشرے کے امن و سکون کے لیے نہایت اہم ہے اور اگر یہ معاشرے میں ہو تو نہ کوئی جرم رہتا ہے اور نہ ہی انتشار اور اگر نہ ہو تو انتشار بھی ہوتا ہے اور جرائم بھی بڑھتے ہیں پھر نہ کوئی قانون کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی احساس ذمہ داری پیدا ہوتی ہے. ہم روز خبروں میں جرائم کی خبریں سنتے اور پڑھتے ہیں. خبرنامہ میں درجن بھر خبریں تو جرائم کی ہوتی ہیں. بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا
ماموں نے بھانجی کو قتل کردیا
بیٹی نے باپ کو قتل کر دیا
والدین نے اولاد کو قتل کر دیا
فلاں جگہ ڈکیتی ہوئی فلاں جگہ چوری چوری ہوئی فلاں جگہ بچہ اغوا ہو گیا.
ایسی خبریں ہم روز سنتے ہیں، دیکھتے ہیں، اور پڑھتے ہیں جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خطرناک ہے ایسا کیوں ہے کہ جیسے جیسے ہم کر رہے ہیں جرائم کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے؟
سب سے پہلے اس کا جواب ہے اسلام سے دوری اسلام میں معاشرے کے خاص اور الگ اصول ہیں. اسلام نے ملت پر زور دیا ہے مگر افسوس ہے کہ ہم نے وہ تمام اصول فراموش کر دیے ہیں
پھر ہمارے اندر برداشت نام کی چیزیں کوئی نہیں ہم کسی کی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے ذرا سی بات پر گولیاں چل جاتی ہے،خون بہنے لگ جاتے ہیں، اور گریبان پکڑے جاتے ہیں مگر جرائم کی دلدل میں ہم سب اس قدر دھنس چکے ہیں کہ نہ سزا کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی جزا کا. پھر ہمارے اندر رشتوں کا احترام نہیں رہا جس معاشرے میں اولاد والدین کی جان کے دشمن ہو جائے اور والدین اولاد کو قتل کرنے لگ جائے اس معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس معاشرے کو ہمیشہ زوال کی طرف لے کر جاتا ہے. پھر تعلیم کی کمی نے بھی جرائم کی شرح میں اضافہ کیا ہے تعلیم کی کمی کی وجہ سے جھوٹ، قتل و غارت، فریب اور چوری، سود اور شراب نوشی اور حق تلفی جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں مگر یہاں پر تو تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس دلدل میں دھنس چکے ہیں. بےروزگاری، غربت اور مہنگائی نے انہیں تاریک رستے میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے. پھر رشتوں کا لحاظ ہی نہیں رہا ہم میں.. نہ چھوٹے کی تمیز نہ ہی بڑے کا ادب بس ذرا سی بات ہوئی اور وہ جی گولیاں چل گءیں..
پھر سوشل میڈیا کا منفی استعمال بھی جرائم میں اضافہ کی خاص وجہ ہے.. جرائم کی دنیا سے جڑے ایسے مواد ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس ناسور میں اضافہ کر رہے ہیں..
پھر والدین کی لاپرواہی جو اپنے بچوں کا خیال یا نظر نہیں رکھتے…. جس کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جرائم میں ملوث ہے. ایک رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں جرائم کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا پنجاب پہلے کے پی دوسرے سے تیسرے جبکہ بلوچستان چوتھے نمبر پر رہا. جو کہ خطرناک ہے. میں یہی کہوں گی کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ہمیں ایسے سنٹرز بنانے چاہیں جو ان مجرموں کی کونسلنگ کریں تاکہ جرائم میں مزید اضافہ نہ ہو.
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وزیراعظم عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے