پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

مسخ شدہ حقائق اُلجھن زدہ قوم | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

ہمارا مزاج ایسا ہو چکا ہے ہم ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں اور ڈھٹائی سے بولے گۓ جھوٹ کو ہی سچ مان کر خاموش ہو جاتے ہیں۔جیسےسابق امریکی صدر بارک ابامہ کی کتاب بحث کا موضوع بنی ، خاص کر ستائیسواں باب جہاں اسامہ بن لادن کے آپریشن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس باب میں دو کالز کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک جو اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو کی گئی۔ اور دوسری جو اس وقت کے صدر مملکت آصف زرداری کو کی گئی۔ اور شور تمام کا تمام صدر مملکت کی اس واقعہ کے بعد نرم گفتاری کا مچایا جا رہا ہے۔ کوئی شخص اس میں جنرل (ر) کیانی کے رویے کو زیر بحث نہیں لانا چاہ رہا کہ انھوں نے بھی احتجاج نہیں کیا۔ کیا وہ پاکستانی نہیں تھے؟ کیا وہ پاکستانی فوج کے اس وقت سربراہ نہیں تھے۔ کیا انھیں احتجاج نہیں کرنا چاہیے تھا؟ اس پر سب میڈیا کے انیکر پرسن خاموش ہیں اور رگید صرف سویلین صدر کو رہے ہیں۔ جنرل (ر) امجد شعیب صاحب نیشنل میڈیا پر بیٹھ کرحقائق و واقعات کو مسخ کر رہے تھے اور انھیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔ جبکہ اس پروگرام میں جنرل صاحب کے ساتھ سلیم بخاری جیسے سینئر صحافی بھی موجود تھے، مگر شاید انھیں بھی یاد نہیں آیا جب جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ سلالہ پر اسمبلی میں فیصلہ ہوا قرارداد لائی گئی، یمن میں فوج بھیجنے پر قرارداد لائی گئی۔ اس پر بھی لے آتے۔ کیوں نہیں لائی گئی یہ سیاسی حکومت کی نااہلی ہے۔

جنرل (ر) امجد شعیب یہ بات کر کے نکل گۓ انہیں یہ یاد نہیں آیا کہ اس وقت چار دن in camera اجلاس ہوا۔ اسی اجلاس میں چوہدری نثار اور مخدوم جاوید ہاشمی اپوزیشن کی جانب سے شامل تھے۔ اور چوہدری نثار کے بقول ان کےپاس ثبوت آ چکے تھے کہ جنرل پاشا پاکستان تحریک انصاف میں لوگوں کو شامل کروا رہے ہیں۔ اور چوہدری نثار کو نواز شریف کی جانب سے ہدایت تھی کہ جنرل پاشا کو آڑھے ہاتھوں لیا جائے۔چوہدری نثار اور جنرل پاشا کے درمیان تلخی اس حد تک بڑھ گیٔ کہ پیپلز پارٹی نے درمیان میں آکر معاملہ ختم کروایا۔ یہ سب باتیں میڈیا میں بھی آتی رہی ہیں۔ اس سب کے بعد قرارداد بھی آئی اور پہلی بار رضا ربانی کی قیادت میں قومی سلامتی کی کمیٹی بھی بنائی گئی ،یادداشت کو تازہ کرنے کے لیے ایک اور بات بتاتا چلوں کہ ایبٹ آباد کمیشن بھی بنایا گیا تھا۔ یہ حکومت جو ہر رپورٹ پبلک کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو ہمت کریں اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی پبلک کر دیں۔ اس تمام معاملے میں پاکستان کی عزت پر جو بٹہ لگا اسے اسی طرح down play کر کے ختم کیا جا سکتا تھا، کیونکہ یہی مناسب تھا، یہی پیپلزپارٹی نے کیا۔ حیرت کی بات ہے کہ شامی صاحب جیسے صحافی بھی جو ہر واقع کی چھوٹی سے چھوٹی بات بیان کرنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں وہ بھی یہ سب بھول گۓ نہ جانے کیوں؟

جنرل (ر) امجد شعیب جس سلالہ کا ذکر کر رہے ہیں اس میں امریکہ نے ہم سے معافی مانگ لی تھی اس لیے ہم اسے بڑھ چڑھ کر بیان کر رہے تھے کہ امریکہ نے پاکستان سے معافی مانگ لی ہے۔ اس لیے ہم اس کا ڈنکا پیٹ رہے تھے۔ اس لیے ہم اس پر شور مچا رہے تھے۔ اور یمن والے پر اس لیے شور مچا رہے تھے کہ دو مسلمان ممالک میں تیسرا مسلمان ملک مذاکرات تو کرائے پر کسی ایک برادر مسلمان ملک کی جانب سے ہو کر دوسرے مسلمان ملک پر گولیاں کیونکر چلائے۔ اس لیے قوم کو ایک پیج پر لانا ضروری تھا۔ اور اس ساتھ نہ دینے کا خمیازہ نوازشریف کو بھگتنا پڑا۔ جیسا نواز شریف کا یو اے ای کے مقابلے میں ترکی کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ تھا۔ اس کے بعد( یو اے ای) نے پاکستان سے ایک مخاصمت ٹھان لی۔ اسی چکر میں (جے آئی ٹی) کو نواز شریف کا اکامہ دیا گیا۔ اور اسی مخالفت میں نواز شریف کے سامان کے دبئی پورٹ کے دستاویزات دیے گئے جو جعلی تھے۔ کیونکہ ان کا سامان شارجہ پورٹ پر آیا تھا اور وہیں سے منتقل ہوا تھا۔ مگر کچھ فیصلوں کی قیمت ہوتی ہے جو ادا کرنی پڑتی ہے۔ بعض مرتبہ یہ قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے بعض مرتبہ کوئی گروپ اور بعض مرتبہ صرف ایک شخص۔

یہی حال ابھی ہوا جب میڈیا کی آزادی کے لیے ہونے والی رٹ کی سماعت ہوئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں۔ اس پٹیشن کو کسی نے پڑھا نہیں، دیکھا نہیں۔ کیونکہ اس میں بات تھی آزادی اظہار رائے کی۔ وہ کسی طاقتور حلقے یا حلقوں کو گوارا نہیں تھی۔ اس لیے اسے نواز شریف سے جوڑ کر ایک وبال مچا دیا گیا۔ جبکہ اس طرح کی بات باقائدہ بحث میں بھی نہیں آئی۔ میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ پیمرا کے جن لیٹرز کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے اس میں نواز شریف کا نام دکھا دیں کہاں لکھا ہے، اس میں مفرور کی بات ہوئی ہے۔ کیونکہ اس پٹیشن کی سماعت سے ایک دن قبل ہی چند صحافتی حلقوں نے پروگرام کر ڈالا اور دوسرا پروگرام اس کی سماعت کے بعد کر دیا گیا، اور اس پٹیشن میں شامل صحافیوں کو نواز شریف کا ساتھی بنا کر پیش کر دیا گیا۔ تو بیچارے وہ سب صحافی جو کہ سینئر، سچایٔ کے پتلے، اصول پرست اور کافی دھڑلے کے مانے جاتے ہیں جو اپنی پروڈکشن ٹیم کو انسان بھی نہیں سمجھتے اور اک چھوٹی سی خطا پر ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں سب کے سب بھیگی بلی بن گئے اور سوری، سوری کرنے لگے، صفائیاں پیش کرنے لگے( ان صحافیوں کی لسٹ میں وہ بھی شامل ہیں جو اس پٹیشن کے خلاف بول رہے ہیں)۔ مزے کی بات ہے دونوں اس پٹیشن کو نہیں پڑھ رہے۔

اگر ہم مفرور کی تعریف لیں تو پھر اس میں اسحاق ڈار، مشرف، ڈاکٹر طاہر القادری ، عمران خان سب آ جاتے ہیں کس پرکتنی قدغنیں لگیں ۔ بس اب ڈر یہ ہے کہ ان سب سینئر صحافیوں کی ملاقاتیں بند نہ ہو جائیں اس لیے یہ سوری سوری کر رہے ہیں۔ ورنہ پیمرا کے رول 1 سے 9 پڑھ لیں سب پتہ چل جائے گا۔ اس پٹیشن کے مخالف صحافتی گروپ پھر سے ایک جھوٹ کا سہار ا لے رہے ہیں اور وہ ہے اس ہفتہ کے آغاز میں شاہد خافان عباسی کی جانب سے صحافیوں کو کو دیا جانے والا ناشتہ ۔ جبکہ اس ناشتے میں ملکی حالات اور (ن) لیگ کے اگلے لائحہ عمل پر بات ہوئی۔ اس ناشتے میں نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی، مرتضیٰ سولنگی یہ سب شامل تھے اوران کے مطابق اس پٹیشن کے حوالے سے اس محفل میں کچھ ذکر نہیں ہوا۔ مگر بس وہ ایک صفحہ جو اس دن کی سماعت کے بعد جاری کیے گئے صفحات میں سے ایک تھا، کسی کی شفقت سے سب اینکرز تک پہنچا۔ اسے یہ خیال کیا گیا کہ مقتدر حلقے اس پٹیشن سے خوش نہیں اس لیے سب سوری سوری کرنے میں لگ گئے۔

ہمارے پیارے صحافی تو اتنے معصوم ہوتے ہیں ابھی نومبر 2020 میں ہونے والی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کورس میں موجود ایک معصوم صحافی اپنے باقی احباب کے ہمراہ جب جنرل قمر باجوہ صاحب سے ملاقات میں موجود تھے۔ اس ملاقات میں بریک کے دوران جب وہ باہر آے تو ان کو ایک صحافی کا فون آیا جو کہ اس کورس میں شامل نہیں تھے مگر اسی شہر میں تھے۔ انھوں نے ان سے پہلا سوال کیا کہ کیا یہ بات ایسے ہوئی ہے۔ اس کا جوا ب انھوں نے دیا کہ اس وقت میں میٹنگ سے باہر تھا۔ دوسرا سوال کیا گیا اچھا یہ بات بھی ہوئی تو کیا ایسے ہی ہوئی ہے۔ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں واش روم میں تھا۔ پھر تیسرا سوال کیا گیا کہ کیا یہ بات ایسے ہوئی ہے تو ان معصوم صحافی نے کہا مجھے ایک کال آئی ہوئی تھی۔ میں حیران بھی ہوا کہ اس دن اگر انھوں نے چیف صاحب کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ نہیں کی اور اپنا سات بجے والا پروگرام بھی نہیں کیا تو آخر کیاکیا۔ بار بار واش روم گئے یا پھر میٹنگ سے اہم کالز آی ہوں گی۔ اس معصوم صحافی نے ایسا اس لیے کیا کہ کہا گیا تھا کہ یہ میٹنگ آف دی ریکارڈ ہے۔

جناب یہ میٹنگز جو پچاس یا اس سے زائد افراد نہیں صحافیوں کے ساتھ ہوتی ہیں یہ ہوتی ہی closable deniability کے لیے یعنی اگر کبھی کسی موضوع پر بات ہو اور ان لوگوں میں سے کوئی بیٹھا ہو تو وہ یہ بول دے گا کہ یہ ایک غلط اپروچ ہے۔ چیف صاحب نے یہ بات اس طرح کی تھی اورمیں اس میٹنگ میں خود بیٹھا ہوا تھا (ویسے closable deniability کے حوالے سے تفصیل بھر کبھی) ۔ جیسے اس میٹنگ میں جس کا ایک معصوم صحافی کے حوالے سے میں عرض کر چکا ہوں۔ اس میں (آر ٹی ایس) سسٹم کے حوالے سے چیف صاحب نے کہا کہ جب یہ سسٹم لایا جا رہا تھا تو میں نے اس میٹنگ میں کہا تھا کہ (آر ٹی ایس) کی وجہ سے آپ کا پورا سسٹم بیٹھ جائے گا مگر الیکشن کمیشن نہ مانا، اور ہوا وہی سسٹم بیٹھ گیا اورپھر الزامات۔

اسی میٹنگ میں چیف صاحب نے یہ فرمایا کہ کراچی سے جو صحافی علی عمران سید اغوا ہوئے ان کے اغوا میں ایک میڈیا ٹائیکون کا ہاتھ تھا انھوں نے اسے اٹھوایا اور انھوں نے ہی اسے چھڑوایا۔ مگر علی عمران کا کہنا ہے کہ انہیں رینجرز ساتھ لے کر گیٔ ، انہیں (ای ،ایس، ای )کے دفتر لےجایا گیا، پھراُنہیں کراچی کے دو شاپنگ مالز میں سادے کپڑوں میں ملبوس لوگ ساتھ لے کر گۓ اور انہیں مختلف برانڈز میں لے جاتے رہے اور تو اور شاپنگ کی آفر بھی کی یہ سب ثبوت بنانے کے لیے تھا تاکہ دو دن کی (سی،سی ،ٹی وی )ویڈیو موجود ہو اور ان کے اُٹھاۓ جانے کا کسی کو یقین نہ آۓ۔ اب یا تو وہ جھوٹ بول رہا ہے جس کے ساتھ بیتی ہے، یا چیف صاحب کو غلط رپورٹ دی گیٔ ہے۔

اسی میٹنگ میں کیپٹن (ر) صفدر والے معاملے پر چیف صاحب نے کہا کہ میڈیا نے اسے اتنا اچھالا میڈیا نے بتایا کہ د ونوں ایک ہی کمرے میں تھے۔ اب ہم یہ بتاتے ہوئے اچھے لگتے ہیں کہ دونوں ایک کمرے میں نہیں تھے۔ جس پر تمام شرکأ قہقہہ لگا کر ہنسے۔ اسی میٹنگ میں بزدار حکومت کے حوالے سے بات ہوئی تو چیف صاحب نے کہا کہ ہم پر الزام ہے حکومت ہم بناتے ہیں اگر پنجاب میں حکومت ہم بناتے تو کیا بزدار کو لگاتے۔

اسی لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ تاریخ کو نہ جھٹلائیں، نہ چھپا ئیں اور نہ ہی مسخ کریں ،کیونکہ ہمیں آنے والی نسل کی تعمیر کرنی ہے ، اسے فوکسڈ قوم بنانا ہے نہ کہ اُلجھن کا شکار قوم، جسے اپنے مسائل کا ادراک نہ ہو اور جو ہر نااہل اور نالائق کے بہکاوے میں آجاۓ اور اپنی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں دے دے۔

مصنف کے فیس بک وال سے لی گئی تحریر۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی راولپنڈی میں انتقال کرگئے

سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خان جمالی انتقال کرگئے۔ میر ظفراللہ خان جمالی دل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے