منگل , 22 ستمبر 2020
ensdur

مستند لکھاری اور “دو ٹکے” کی سوچ | صائمہ جعفری

تحریر: صائمہ جعفری
کل سے جیو چینل کے آفیشل لکھاری خلیل الرحمن قمر کی ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ ایک معتبر خاتون ایکٹیوسٹ کو مبلغات بک رہے ہیں۔
“تیرے جسم پے تھوکتا کون ہے” “الو کی پٹھی” وغیرہ
قمر صاحب جہاں اپنے ڈراموں میں مشرقی تہذیب کے گن گاتے نظر آتے ہیں وہیں اخلاقیات کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں ذرا ان کی ایسی ننگی اخلاقیات کا جائزہ لیں۔
خلیل قمر کا رویہ زبان اور لہجہ ایک بیمار ذہن اور Twisted Mindset کی پیداوار ہیں، گالی سب سے پہلے اپنے دینے والے کو برہنا کرتی ہے، “میرا جسم میری مرضی” کے ایک نعرے پر بھڑک اور بھٹک جانے والے ایسے مرد حضرات کی مرضی پر پاکستانی خواتین خود کو چھوڑ دیں تو ذرا سوچیں کہ یہ معاشرے کو کس سمت میں دھکیل دیں گے۔
عورت مارچ کے نعروں میں الفاظ کے چناؤ میں اتارچڑھاؤ اپنی جگہ مگر جس عورت دشمنی اور فحش کلامی کا مظاہرہ خلیل الرحمٰن قمر نے کیا وہ بھی ایک پبلک پلیٹ فارم پر انتہائی تشویشناک عمل ہے، ایسا وریہ انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ معاشرتی مسئلہ بلکہ جرم ہے ۔
حیرت انگیز طور پر جب یہ صاحب لائیو شو میں گالیاں بک رہے تھے تو خاتون اینکر نے انہیں چپ کرانے کی کوشش تک نہیں کی۔
میرے خیال سے پاکستان کے تمام باشعور مرد اور عورتوں کو نہ صرف خلیل الرحمٰن قمر بلکہ ہر اس چینل کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو کہ خواتین کے خلاف جارحیت اور انتہا پسندی کی ترویج کرتے ہیں۔
عورت مارچ نے دراصل معاشرے کے بدبودار سوچ کو برہنہ کیا ہے جس کے علمبردار بلکہ سرغنہ خلیل صاحب ہیں۔ سندھی میں کہاوت ہے “کتے بھونکتے رہیں گے جوگی چلتے رہیں گے”
جو معاشرہ محض جسم کی بنیاد پر عورت کو ثانوی درجے کا شہری سمجھے جیسے کہ مشہور فیمنسٹ رائٹر سمن ڈی بووا کی اپنی کتاب دی سیکنڈ سیکس میں کہتی ہیں، کہ “عورت کو سماج عورت بناتا ہے اس کی جسمانی ساخت کے مطابق” بھلا ایسے معاشرے میں عورت میرا جسم میری مرضی کا نعرہ نہ لگائیں تو کیا “میرا جسم تیری مرضی” کا نعرہ بلند کرے؟
اس نعرے کا مفہوم صاف ہے کہ مرد اپنی نظر آتا اور سوچ کو قابو میں رکھے۔
عورت کا جسم پدرسی سماج کے ضابطے نہیں جانتا جو عورت کو کر کاروکاری اور ونی کرتے ہیں محض اس جسم کی بنیاد پر۔
میں مرد کا احترام اس لیئے کرتی ہوں کیونکہ وہ ایک انسان ہے، فرد ہے آزاد شہری ہے۔
اس لیے نہیں کیونکہ وہ باپ بیٹا ہے، اس لیے ہمیں معاشرے میں سے یہ توقع رکھنی ہوگی کہ میرا اور ہر عورت کا احترام بقول ایک فرد ہی کریں، نہ کہ “ماں بہن” کے روپ میں.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

نواز شریف اتنے بھی “بھولے” نہیں | نصرت جاوید

بسااوقات واقعتا گھبرا جاتا ہوں۔ چند مہربان پڑھنے والے بہت اشتیاق سے اہم ترین سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے