ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

مریم بی بی، ہم آپ کی سیزنل سیاست سے تنگ آ چکے ہیں | ماہم سندھی

تحریر: ماہم سندھی
سابق وزیراعظم نواز شریف کی دختر نیک اختر مریم نواز صاحبہ ہمیں تب تب ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سرگرم نظر آتی ہیں، جب اس کے اباجان پہ حکومتِ وقت کی جانب سے سختی برتنے کی خبریں میڈیا پہ گردش کر رہی ہوں، ورنہ وہ ریسٹنگ پیریڈ میں چلی جاتی ہیں۔ اب کہ خبر آئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 22 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، اور اسے تمام میڈیکل رپورٹس جمع کروانے کا بھی کہا ہے۔ اس کے ناقابل ضمانت گرفتاری کہ وارنٹ بھی جاری کیے ہیں، اور اس کہ پیش نظر دفتر خارجہ کی طرف سے برطانیہ میں موجود پاکستانی سفارتخانے کو لیٹر بھی بھیج دیا گیا ہے۔
ایسی خبرہں کیا نشر ہونی تھی کہ مریم بی بی بھی جھٹ سے رونما ہوگئیں، اور اپنی زبان کی تیزی، لہجے کی تلخی ، اور شکایات سے بھرپور تقاریر بھی ساتھ لائیں ۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں، جب بھی مسلم لیگ ن پہ کوئی کڑا وقت آیا، مریم صاحبہ پردے سے ہٹ کر سامنے آجاتی ہے، چاہے وہ پاناما لیکس کے نتیجے میں نواز شریف کی وزارت اعظمی سے سبکدوشی ہو، گرفتاری ہو یا کوئی اور معمہ۔ ایک وفادار بیٹی کی طرح مریم صاحبہ اپنا فرض ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بیشک وہ ایک وفادار بیٹی ہے، اور اس کو اپنے والد کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دینا چاہئے، اس پہ کوئی دو رائے نہیں۔ پر سیاست میں عوام کو ایک وفادار بیٹی نہیں چاہئے، جو صرف اپنے خاندان سے مخلص ہو، عوام کو ایک لیڈر بھی چاہئے ہوتا ہے، جو موسموں کا محتاج نہ ہو، جس کا بیانیہ وقت کہ ساتھ بدلتا نہ ہو، اور وہ لیڈر ہر وقت عوام کہ ساتھ ایک ہی مقصد کے ساتھ ڈٹ کہ کھڑا ہو۔ مریم بی بی کا اسٹیبلشمنٹ اور بقول ان کہ خلائی مخلوق کے خلاف موقف کبھی کبھار بہت ہی سخت ہوجاتا ہے، اور کبھی وہ بیان بازی سے پرہیز کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔  کبھی “ووٹ کو عزت دو”  کا نعرہ بڑی ہی زور سے لگایا جاتا ہے، کبھی پی ٹی آء حکومت کہ خلاف مولانا فضل الرحمان کہ دھرنے پہ بھرپور شمولیت کا راگ آلاپا جاتا ہے، تو کبھی سینیٹ الیکشن ہو، یا پارلیامینٹ سے بل منظور کروانا ہو، بجیٹ کی کامیابی کا مسئلہ ہو یا کوئی اور بات، مسلم لیگ کے ہی کچھ ارکان پتا نہیں کس مصلت کے تحت پی ٹی آء کی حکومت کو ووٹ دے کر آتے ہیں۔ جو میڈیا کہ سامنے پی ٹی آئی کو اتنا برا بھلا کہا جاتا ہے، اصل میں ان کہ ساتھ دوستی بنائے رکھنا بھی شاید کسی خفیہ منشور کا حصہ ہے، جو عوام سے چھپایا ہوئا ہے۔ جب قید و بند کی صعوبتیں ختم ہوئیں، مریم نواز کہ ابا کو لندن کوچ کرنے کی اجازت ملی، تو ہم سب نے دیکھا کہ لفظی وار کرتی مریم بی بی جھٹ سے  پردے کے پیچھے چھپ گئی،  یہاں تک کہ اس کا ٹوئٹر اکائونٹ بھی بند رہا۔
ایسا محسوس ہونے لگا ، وہ سیاست صرف اپنے خاندان کے تحفظ کہ لیے کرتی ہے۔ اس کی زبان میں تیزی صرف تب آتی  ہے جب اس کے ابا کسی مصیبت میں مبتلا ہو، ان کہ چچا شہباز شریف یا چچازاد بھائیوں پہ کوئی کڑا وقت آیا ہو۔ پر جب ان سب کو رلیف مل جاتا ہے، تو وہ خاموش ہوجاتی ہے۔ ایسا ایک بیٹی کرے تو ٹھیک، پر ایک سیاستدان کی حیثیت سے کرے تو انتہائی برا لگتا ہے۔ پاکستان کہ اندر سیاست کی وصف چاہے جو بھی ہو، پر سیاست کی اصلیت اپنے خاندان کے مفادات تک محدود قطئی طور پہ نہیں ہے ۔ سیاست کا بلاواسطہ اور باواسطہ تعالق عوام سے ہوتا ہے، ان کی خدمت کرنا، ان کے جائز حقوق کہ لیے لڑنا، اور ان کو وہ تمام سہولیات فراہم کرنے کہ لیے جدوجہد جاری رکھنے کا نام ہی سیاست ہے۔ پر افسوس مریم صاحبہ ان سب کہ ہٹ کر کام کر رہی ہے۔ وقتی طور پہ سامنے آنا، عوام سے ہمدردی جتانا، پھر لمبے عرصے تک غائب ہوجانا، کسی سیاستدان کا یہ کام ہرگز نہیں ہے۔ جب کبھی اپنا کڑا موقف لے کر مریم ظاہر ہوئی ہے، تو عوام نے ان کو خوب سراہا ہے، ان کی جرئت کو سلام پیش کیا ہے ، ان کہ ساتھ کھڑے ہونا کا عزم کیا ہے۔ یہاں تک کہ پیپلزپارٹی ہو یا کوئی اور اپوزیشن کی جماعت، انہوں نے مریم صاحبہ کی لیڈرشپ کو خوش آمدید کہا ہے، پر یوں چھپا چھپی والی سیاست تو کسی کو بھی قابل قبول نہ ہوگی۔ اب کہ اتوار کے دن ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں مریم صاحبہ نہ صرف پارٹی ممبران کہ شریک ہوئی، پر ان کا موقف بھی کافی کڑا تھا۔ وہ اپنے والد کی تقریر کی حمایت کرتے ہوئے، پی ٹی آئی حکومت لانے والوں پر ناراضگی بھی ظاہر کر رہی تھیں۔ پر اب مریم بی بی کو یہ طئہ کر کے فیصلہ کرنا ہوگا، کہ اسے لمبے عرصے تک سیاست میں رہنا ہے، یہ گھریلو مصروفیات کی وجہ سے ان کو پارٹی کے عہدے سے استعفی دے کر، تمام تر پارٹی کارکنان سے روابط ختم کرنا ہیں ؟ یہ کوئی خاندانی کاروبار نہیں ہے، جو اپنی مرضی سے آفیس جوائن کرلی، اور تھکاوٹ ہونے پر اسے چھوڑدیا۔ سیاست ایک فل ٹائیم ڈیوٹی ہے، جس میں عوام کے ساتھ کھڑا ہوکہ، اپنی سیاسی پارٹی کے موقف کو ان کے سامنے لانا اور ان کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ پر یہ آنا جانا، آ کر جانا، جا کر آنا، یہ تو جیسے کوئی کھیل ہو، اور یہ رویہ عوامی جذبات سے کھیلنے کہ مترادف ہے۔ ہم مریم بی بی کی صلاحیتوں کو قطئی طور پہ جھٹلا نہیں رہے ، ان میں وہ تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں، وہ جرآت اور وہ دلیری موجود ہے، جو کہ ایک سیاستدان میں ہونی چاہئے۔ اس کی لیڈرشپ کو اس کے پارٹی کارکنان پسند بھی کرتے ہیں، اور نواز شریف کی غیر موجودگی میں، وہ مریم نواز کو اپنا لیڈر مان بھی رہے ہیں۔ پر مریم بی بی کا رلیف ملتے ہی غائب ہوجانا ، ان کے کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں کے لیے بڑا ہی مایوس کن ہے۔ وہ ایک ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو بڑے عرصے تک ان کی رہنمائی کرتا رہے ۔ پر محترمہ کا اچانک غائب ہوجانا، اپنے موقف میں نرمی لانا، نہ صرف ان کی ذات کے لیے، پر پارٹی کے لیے بھی کسی حد تک نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔  اس سے پارٹی مخالف سیاستدانوں کو بات بنانے کا موقعہ مل جائے گا اور وہ کھل کر تنقید کے تیر پھینکے گے۔ بھئی مخالفین ایسا کریں بھی کیوں نہ، تمام سیاستدان اس موقعہ کی تلاش میں تو ہوتے ہیں، کہ سامنے والا کوئی غلطی کرے، اور ہم غلطی کا فائدہ لیں۔
پاکستان میں ایک خاتون کا سیاست میں آنا بڑا ہی خوش آئند، اور تمام تر خواتین کو حوصلہ دیتا ہے، کہ وہ آگے بڑھنے کے لیے کچھ کر سکیں۔ پاکستان کی مادر ملت فاطمہ جناح سے لے کر ، پہلی خاتون وزیراعظم، محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا سیاست میں سرگرم رہنا ، عوام کی لیڈرشپ کرنا، بڑا ہی کامیاب رہا ہے۔ ان کے مخالفین بھی ان کی خداداد صلاحیتوں کو جھٹلانے سے قاصر تھے۔ حالانکہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید وقتی طور پہ  جلاوطن بھی ہوئی، پر انہوں نے سیاست کو خیر آباد کبھی نہیں کہا، اور وہ بیرون ملک رہہ کر بھی، اپنی پارٹی کو لیڈ کر رہی تھیں، ہدایات جاری کر رہی تھیں۔ ہم کسی طور پہ بھی کوئی مشابہت نہیں کر رہے، بس اتنی سے توقع رکھتے ہیں کہ، مریم بی بی سیاست کرنا چاہتی ہے تو اب فل ٹائیم سیاست کرے۔ اس کی سیزنل سیاست سے تمام لوگوں کے دل میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں، تو بہتر یہی ہوگا ، وہ سیاست اور گھریلو زندگی میں سے کوئی ایک راستہ چن لے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے