منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

مدھر اور سریلی آواز کی مالکہ، برصغیر کی معروف گلوکارہ اور فنکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی آج یوم وفات

فن گائیکی کا سرمایہ، موسیقی کا عہد درخشاں، مدھر اور سریلی آواز کی مالکہ، برصغیر کی معروف گلوکارہ اور فنکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی آج یوم وفات ہے، فن گائیکی کا سرمایہ، مدھر اورسریلی آواز کی مالک برصغیر کی معروف گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں، موسیقی کا ایک درخشاں عہد تھیں، 21 ستمبر 1926ء کو قصور میں جو ستارا روشن ہوا وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ نور جہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا، اپنے فن اورمحبت کی بنا پر لوگوں نے انہيں ملکہ ترنم کا خطاب ديا، نورجہاں نے اپنے فنی کیرئر کا آغاز 1935ء میں بطورچائلڈ اسٹار فلم “پنڈ دی کڑیاں” سے کیا جس کے بعد “انمول گھڑی”، “ہیرسیال” اور “سسی پنوں” جیسی مشہور فلموں میں اداکاری کے جوہر آزمائے۔

1941ء میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم “خزانچی” میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941ء میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم “خاندان” ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کر لی۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں “دوست”، “لال حویلی”، “بڑی ماں”، “نادان”، “نوکر”، “زینت”، “انمول گھڑی” اور “جگنو” کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم “چن وے” سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہی نے دی تھی۔ بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں “گلنار”، “دوپٹہ”، “پاٹے خان”، “لخت جگر”، “انتظار”، “نیند”، “کوئل”، “چھومنتر”، “انار کلی” اور “مرزا غالب” کے نام شامل ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کر کے خود کو گلوکاری تک محدود کر لیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم “گبھرو پنجاب دا” تھی جو 2000ء میں ریلیز ہوئی تھی میڈم نے مجموعی طور پر دس ہزار سے زیادہ غزلیں گائیں، میڈم نور جہاں الفاظ کی ادائیگی اور سر کے اتار چڑھاؤ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ بھارت کی مشہور گلوکاروں نے بھی ان کے فن کو خوب سراہا، گلیمر کی دنیا سے لے کر جنگ کے محاذ تک ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنی آواز کے سحر سے سب کو اپنی آواز کے سحر میں جکڑے رکھا۔

برصغیر کی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر نے اپنے آڈیشن میں میڈم کا گایا ہوا گیت گایا، محمد رفیع صاحب کے ساتھ میڈم نور جہاں نے صرف ایک گیت گایا تھا۔ گیتوں کے برعکس غزل میں ملکہ ترنم نورجہاں نے دیگر شعری صنفوں سے الگ اپنا جداگانہ رنگ اپنایا، غالب، اقبال، فیض، احمد فراز، امجد اسلام امجد اور ناصر کاظمی کی غزلوں میں وہ سماں و سحر باندھا کہ غزل عام آدمی تک سننے کا شوقین ہو گیا، لوگ آج بھی جب نور جہاں کے مدھر اور سریلے گیتوں کو سنتے ہیں تو مسحور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران قومی نغمے بھی گائے جو ہماری قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارگردگی اور نشان امتیاز سے نوازا۔

قیام پاکستان کے بعد نورجہاں اپنے شوہر جو ایک خوبصورت نوجوان فلم ڈائریکٹر تھے، سید شوکت حسین کے ہمراہ پاکستان آ گئیں، ابتدائی ایام کراچی میں گزارے، 23 دسمبر 2000 بمطابق 26 رمضان المبارک کو کراچی میں سر کی یہ میٹھی تان ٹوٹ کر پیوند خاک ہو گئی، لیکن ان کے گائے لازوال گیت ہمیشہ ان کے نام اور فن کو زندہ رکھیں گے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے