ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

متحدہ عرب امارات، اسرائیل معاہدے اور مسئلہ فلسطین | پروفیسر عبدالشکور شاہ

تحریر: پروفیسرعبدالشکور شاہ
اسرائیل عرب ممالک کے خلاف اپنی ہیٹرک مکمل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ مصراور اردن کے بعد اب یو اے ای نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور معاہدوں کا سرعام آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو یو اے ای معاہدوں کے لیے عارضی طور پر مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے منصوبے سے روک دیا ہے۔ اسرائیل ایک تیر سے دو شکار کر رہا ہے۔اسرائیل کے ماضی کے عرب اسرائیل معاہدوں سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ اسرائیل یو اے ای کے مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ نہ بنانے کی شرط کو بھی سابقہ معاہدوں کی طرح پاؤں تلے روند دے گا۔یو اے ای اسرائیل معاہدے عرب لیگ کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو گا۔ اس معاہدے کے زریعے نہ صرف اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اسرائیل عرب معاہدوں پر صیہونی بیانیے کو درست قرار دیا گیا ہے جو دوسرے الفاظ میں آزادی فلسطین کے شہداء، مجاہدین اور غازیوں کی قربانیوں اور جدوجہد پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔۔صیہونی ریاست کے قیام کے بعد اسرائیل نے عرب ممالک کے خلاف جارحیت اور جنگوں کی ایک تاریک تاریخ کا آغاز کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ پہلی اسرائیل عرب جنگ1948-49 میں ہوئی، پھر 1956 میں سویز بحران پیش آیا، 1967 میں سکس ڈے وار، 1967-70 میں ایٹریشن جنگ،اکتوبر 1973 میں یوم کیپور جنگ اور 1982میں اسرائیل لبنان جنگ اور پھر دوسری اسرائیل لبنان جنگ ہوئی۔ اسرائیل نے ان جنگوں کے دوران اپنے مغربی اتحادیوں کی مدد سے عرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ اسرائیل عرب پہلی جنگ میں تقریبا 750,000فلسطینی متاثر ہوئے، 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں 250,000فلسطینی بے گھر ہوئے۔ 2.2 ملین سے زیادہ فلسطینی اسرائیل کی بربریت کا شکار ہو رہے ہیں اور مسلم دنیا تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یو اے ای اسرائیل معاہدوں کا ایک مقصد فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا بھی ہے تا کہ کسی امن معاہدے کی صورت میں اسرائیل زیادہ علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرسکے۔فلسطینیوں کا سہارا عرب ممالک تھے جو اب ایک ایک کر کے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالتے جا رہے ہیں۔ آزادی فلسطین مسلم دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔اگرچہ اسرائیل کی فلسطین پر سفاکیت اور جارحیت کی جڑیں کافی پرانی ہیں، تا ہم عرب اسرائیل تنازعہ انیسوی صدی میں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔عرب دنیا کی موجودہ حالت قابل رحم اور قابل افسوس ہے۔

فلسطین کی آزادی کے بجائے اب عرب ممالک کو اپنے مستقبل کی فکر ستائے جا رہی ہے۔آپس کی لڑائیوں،نااتفاقیوں، مفادات، اندرونی مسائل اور بیرونی سازشوں کی وجہ سے عرب ممالک کافی عرصے سے مسئلہ فلسطین سے روگردانی کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں اور بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اس سے پہلے بھی معاہدے کر رکھے ہیں۔ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے میں ٹرمپ کے داماد نے کام کر دکھایا اور ٹرمپ نے اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ عرب اسرائیل تنازعہ کے حل کے لیے 1993میں اسرائیل نواز امریکہ کی مدد سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا .عرب اسرائیل ڈیل ہوئی جس کو اسرائیل نے ہوا میں اڑا دیا۔ اسرائیل شروع دن سے وقت لینے کی پالیسی پر کاربند ہے اور ہر مرتبہ معاہدوں کو روندتا چلا آیا ہے۔ یو اے ای کی جانب سے یہ بات کہنا کہ اسرائیل مزید اسرائیلی بستیوں کو آباد نہیں کرے گا یہ محض ایک جملے سے زیادہ کوئی معانی نہیں رکھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یو اے ای نے اسرائیل کی اب تک کی قائم کردہ بستیوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ شرائط میں مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بننے سے روکنے کی بات بھی محض کاغذی کاورائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کا مطلب اسرائیل کی ناجائز اور غاصب ریاست کو تسلیم کرنا اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ ایسے معاہدوں کا مشرق وسطی میں امن کا آغاز قرار دینا ایک بہت بڑا مذاق ہے کیونکہ اسرائیل عرب معاہدوں کی ایک تاریخ موجود ہے جن کو اسرائیل نے ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے اپنی سفاکیت اور جارحیت کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دی ہے۔

اسرائیل نواز ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی فلسطینیوں کو ملنے والی امداد کم کر کے اسرائیل کی امداد دگنی کرنے کے ساتھ ساتھ یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی کی ساری حکومتوں سے بڑھ چڑھ کر اسرائیل کی پشت پناہی کی ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے ایسا لگتا ہے یو اے ای کے بعد کچھ دیگر ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ مراسم قائم کریں گے۔ ایران اسرائیل تعلقات پر بھی کافی کام ہو چکا ہے اور ابھی بھی اس منصوبے پر کام جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب فلسطینیوں نے ایران کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے سے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ رابطے اور ملاقاتیں کیں تو عرب ممالک کی ناراضگی مول لینا پڑی۔ ٹرمپ کے داماد کشنر نے تو مسلمانوں کو اسرائیل آنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے جس کا دوسرا مطلب اسرائیل کا بطور ریاست تسلیم کرنے کے اقدامات کی ایک کڑی ہے۔اس ضمن میں مسلم دنیا کی تنظیم او آئی سی جو ایک نام نہاد تنظیم سے بڑھ کر کچھ نہیں وہ سامنے آکر اپنی شقوں پر عمل درآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ او آئی سی کی قراردادوں میں یہ بات شامل ہے کہ کوئی بھی ملک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر ے گا اور نہ ہی اس سے تعلقات قائم کرے گا۔ مگر او آئی سی میں اتنا دم کہاں ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروا سکے۔ آج تک او آئی سی سوائے بوسنیا کے معاملے کے کبھی بھی ایک بلاک کی طرح متحد نہیں ہو سکی۔

یو اے ای اور اسرائیل کے مابین مستقبل کے منصوبوں سے تو یو اے ای بھی مشکل میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔ فلسطین کی جانب سے اس معاہد ے پر شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یقینا یو اے ای نے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اسرائیل کے وزیر اعظم اس معاہدے کو آنے والے الیکشن میں کیش بھی کروائیں گے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے