پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

ماضی کے اتحاد، پی ڈی ایم، حکمران جماعت اور آنے والا وقت | کندن مالہی

تحریر: کندن مالہی

درحقیقت پوری دنیا میں سیاست کے اندر چھوٹے بڑے سیاسی اتحاد ہوتے رہتے ہیں، جو وقت اور حالات پر مبنی ہوتے ہیں، کیونکہ اتحاد وقت اور حالات کی پیداوار ہے۔ جو کبھی ملکوں کے درمیان یا پھر کبھی ملکوں کے اندر سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوتے ہیں، جو اکثر حکومتوں کی مخالفت اور حمایت میں تشکیل دیے جاتے ہیں۔ اس وقت پی ڈی ایم کے نام سے ایک بار پھر پاکستان کی سیاست میں ایک نئے اتحاد کا قیام ہوا ہے۔ لیکن موجودہ اتحاد پر لکھنے سے پہلے ماضی کی تاریخ پر سرسری جائزہ لیتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں قومی سطح پر پہلا اتحاد پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کے نام سے تشکیل پایا تھا، جس کی بنیاد 11 جنوری 1977ع کو رکھی گئی تھی۔ اس کا انعقاد لاہور میں ہوا تھا، جس میں تحریک استقلال اور جمیعت علماء پاکستان سمیت نو (9) جماعتیں اتحاد کا حصہ تھیں، جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت مخالف اتحاد تھا۔ پھر اسی کی دہائی (80) میں 5 فروری 1981 کو ستر کلفٹن کراچی پہ بحالی تحریک جمہوریت (ایم آر ڈی) کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا گیا، جس کی سربراہی پاکستان پیپلز پارٹی سمیت ملک کی دیگر جماعتوں نے کی۔ جس میں دس کے قریب سیاسی جماعتیں شامل تھیں، جو آمر جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف تھا۔ اور اس کے بعد پہر آل پاکستان جمہوری تحریک (اے پی ڈی ایم) 2006/07ع میں پی پی پی کی میزبانی میں ہونے والی لندن میں آل پارٹیز کانفرنس کے نتیجے میں وجود میں آیا، جو آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تھا اور اب 20 ستمبر 2020 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ہونے والی اے پی سی کے نتیجے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا گیا ہے جو وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف ہے۔ ماضی کے جن چند اتحادوں کا ذکر کیا ہے وہ اتحاد اپنے جوہر میں تھوڑے بہت کامیاب اتحاد رہیں ہے۔ موجودہ اتحاد پی ڈی ایم اپنے مقاصد میں کتنے قدر کامیاب ہوسکتا ہے یہ آنے والے وقت پہ چھوڑتے ہیں۔ لیکن اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد ہونا ضروری تھا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) پاکستان میں گیارہ (11) سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے، جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر قومی سطح کی جماعتوں کا ہے۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جی آئی ایف، نیشنل وطن پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، اے این پی، جمعیت علماء پاکستان نورانی، مرکز جمعیت اہلحدیث، پشتون نیشنل ملی پارٹی، نیشنل پارٹی شیر پائو، پشتون موومنٹ تحریک شامل ہیں۔ اس میں ایک دو تنظیموں کو چھوڑ کر باقی سب ماضی کے اتحادوں کا حصہ رہنے کے ساتھ سرگرم اور متحرک بھی رہیں ہیں۔ پی ڈی ایم میں ملک کے تمام صوبوں اور قوموں کی نمائندگی شامل ہے، لیکن افسوس کہ سندھ کی کوئی بھی قوم پرست جماعت پی ڈی ایم میں شامل نہیں ہے، جس کی متعدد وجوہات ہو سکتے ہیں۔ لیکن میری نظر میں سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے والے دو قومی دھارے ہیں، جن میں سے ایک دھارے تو ملکی سیاست سے خود کو الگ تھلگ کرکے کھڑا ہے، لیکن دوسرا جو قومی ڈھانچے میں رہے کر انتخابی سیاست کر رہے ہیں، وہ انتخابی سیاست کے پیچیدگیوں اور محرکات کو سمجھنے سے کئی دور کھڑا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آج ملک گیر اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔ کچھ دوست سوال کرتے ہیں کہ اس اتحاد میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی قوم پرست جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے لیکن سندھ کی قوم پرست جماعتوں کو نہیں دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان اور کے پی کے کے قوم پرستوں نے نہ صرف قومی سطح پر ملک کی سیاست سے خود کو منسلک کیا ہے بلکہ اپنے صوبے کے عوام میں اپنی حیثیت اور اہمیت جتانے کے ساتھ ملک کے ایوان بالا تک پہنچ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم اپنے عوام، صوبوں اور وسائل کی مالکی کر سکتے ہیں، اور وہاں کی عوام نے پارلیمنٹ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان قوم پرست جماعتوں کو ہمیشہ ووٹ دیا ہے۔ نتیجے میں سندھ کی نمائندگی پاکستان پیپلز پارٹی کرتی ہے، جسے سندھ کے عوام کا مینڈیٹ بھی حاصل ہے۔ ویسے بھی سندھ کے اجتماعی مسائل پر پی پی پی ہمیشہ سے آگے رہی ہے، پھر کالاباغ ڈیم کا مسئلہ ہو یا گریٹر تھل کینال کا، یا سندھی کو قومی زبان دینے کا مسئلہ ہو یا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا مسئلہ ہو، یا حالیہ سندھ کے جزیروں کی ملکیت کا مسئلہ ہو، پیپلز پارٹی نے نہ صرف سندھ کے اجتماعی مفادات پہ واضح مؤقف اپنایا ہے بلکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ لہذا اس لئے سندھ کی عوام پی پی پی پہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہمیشہ انتخابات میں ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں بھیجنے کے ساتھ فیصلے کرنے کا مینڈیٹ دیتا ہے۔ ہاں البتہ یہ الگ بات یا بحث ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں غلط فیصلے اور پالیسیاں بھی ہوسکتی ہیں، ان پر بھی تنقید اور بحث کی جاسکتی ہے۔

پی ڈی ایم اتحاد وقت اور حالات کی پیداوار ہے کیونکہ اس وقت ملک بڑے سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہے۔ عمران خان اور ملک کی حکمران جماعت کے وزیر، مشیر سیاسی اور اخلاقی طور پر اس حد تک بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ حکمران جماعت اور ان کا ملک اور عوام کے لئے کیا کردار اور کام ہونا چاہئے۔ ملک کی معیشت کا یہ حال ہے کہ حکمرانوں کا کسی بھی چیز پر کنٹرول نہیں ہے، جس پہ بھی کامیٹی بناتے ہیں، اس کی قیمت میں دو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ عمران خان اور ان کی حکومت کا نتیجہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار بیضہ کی قیمت 200 روپے دزن ہو گی ہے۔ حکمران جماعت کے سرمایہ داروں نے گندم، آٹا، چینی، تیل اور روز مرہ کی بنیادی اشیا کا ذخیرہ کرکے ملک کے اندر مہنگائی کا طوفان برپا کرکے ہر طبقے کے لئے رہنا اور سانس لینا مشکل کر دیا ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ملک میں اتنی مہنگائی نہیں ہے کہ جتنی اپوزیشن نے پروپیگنڈا کیا ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان سے غیر سیاسی اور نابالغی کی انتہا ظاہر ہوتی ہے، اگر یہ ہی برتاؤ رہا تو وزیراعظم اور ان کی حکومت کے لئے آنے والا ہر دن مشکلات سے بھرپور ہوگا۔ کیونکہ اس وقت عام آدمی کا مسئلہ نہ صرف کرپشن ہے بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری بھی ہے، جو عام آدمی کی زندگی میں مشکلات کا باعث ہے اور عمران خان اور ان کی حکومت دہائی سال کے عرصے میں عوام کو کوئی بھی ریلیف نہیں دے سکی ہے اور نہیں آنے والے وقت میں عام لوگوں کے لئے کوئی پیکیج یا پروگرام نظر آتا ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی میں کوئی آسانیاں پیدا ہوسکے۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کو کون سمجھائے کہ صرف کرپشن کا بیانیہ پیش کرنا اور اپوزیشن کے خلاف پکڑ دھکڑ کرنے سے عام لوگوں کی زندگی میں بڑھتے ہوئے مسائل کو کم نہیں کر سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت کا بچاؤ کر سکتے ہیں۔ اس وقت حکومت اور حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے بیانیہ سے پی ڈی ایم کا بیانیہ عوام میں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کی جانب سے ملک کے تین صوبوں میں کامیاب جلسوں کے بعد عمران خان اور حکومت کے لئے پریشانیوں میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ وزیراعظم، وزیر، مشیر اور اتحادی عوام کو کوئی ریلیف دینے پہ سوچنے کے بجائے پی ڈی ایم کے خلاف پریس کانفرنسیں کرنے اور اتحاد میں اختلافات ہوجانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ماضی میں جو بھی اتحاد بنے ہیں، انہوں نے اپنے اہداف میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے، لہذا یہ اتحاد بھی پورے ملکی سیاست پر اپنا گہرا اثر چھوڑنے کے ساتھ ہی ملکی سیاست کی غیر واضح صورتحال کو واضح کر دے گا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

علی قاسم گیلانی کی ضمانت منظور، 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ بھی خارج

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف گیلانی کے صاحبزادے علی قاسم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے