ہفتہ , 23 جنوری 2021
ensdur

ماؤں کے لال اور ماں کے جیسی ریاست!

تحریر: اسد نائچ

 

ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے اور بچے ماں کو عزیز تر ہوتے ہیں، ماں وہ واحد رشتہ ہے جسے اپنے لخت جگر جس حال میں ہوں جیسے بھی ہوں لیکن اپنی دل کے نزدیک تر اور عزیز تر ہوتے ہیں، اور ماں اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب اس کے لخت جگر گم ہوجاتے یا گم کردیئے جاتے ہیں، اسکی تڑپ کا اندازہ لگانا شائد انسانی تصور کہ ترازو میں ناپنا مشکل ہوجائے اور نہ ہی اس احساس کو کہیں ناپ اور تول کر سکتا ہے، یہ حساس احساس ہے ایک ماں کا اپنے بچوں کے لئے کیونکہ وہ تکلیف کہ عمل سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے.

 

سوچئیے…

 

ماں کو خبر ملتی ہے کے اس کے بچے کو اٹھا لیا گیا ہے اور وہ بچہ کس کی قید میں ہے کس حالت میں ہے؟ کہاں ہے؟ کس جرم میں اٹھایا گیا ہے؟ کب تلک لوٹے گا؟ یا پھر لوٹ کر آئیگا بھی کہ نہیں…؟

 

اس دوران اس ماں پر کیا گزرتی ہوگی اس کیفیت کو الفاظ میں ڈھالنا بہت مشکل عمل ہے بلکہ ناممکن ہے، کیونکہ وہ خالص ایک ماں کا حساس احساس ہے، اپنے لال کہ لئے جس کو اس نے بہت ساری تکلیفوں سے گزر کر جنم دیا ہوتا ہے.

 

ٹھیک دوسری طرف ایک دوسری ماں ہے جس کو “ریاست” کہ نام سے اپنے بچے پکارا کرتے ہیں، وہ اس کے الٹ میں سوتیلی ماں جیسا سلوک کر جاتی ہے، بھلا بچے کونسی ماں کو عزیز نہیں ہوتے؟ یا بچوں کو کونسی ماں عزیز نہیں ہوتی؟ تو پھر بچوں کی پیاری ماں “ریاست” کیوں اپنی خاطر ایک اس ماں سے جدا کر دیتی ہے جس ماں نے کٹھن راتیں گزار کر اپنے بچوں کو پال پوس کر بڑا کیا ہوتا ہے

کیا یہ درد احساس ماں جیسی ریاست کو نہیں ہوتا…..؟

 

اور سوال ہے یہ کیسی ماں ہے؟ ایک ماں سے ایک ماں کس طرح کوئی بچہ جدا کرسکتی ہے؟ بچہ اگر گناہگار ہے، بچے نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ قابل سزا ہے جو ریاست کے عین آئین اور قانون کے مطابق اسکو دینی چاہیے.

 

مگر سزا کے تقاضوں کو پورا ضرور کیا جائے، جو کے اس بچے کا آئینی اور قانونی حق ہے

تاکہ کچھ تسلی اس ماں کو ضرور ہو ملے کے اس کے بچے کو ریاست نے سوتیلی ماں نہیں بلکہ اپنا بچہ سمجھ کر اس کی غلطی کی سزا سنائی ہے، لیکن سزا وہ جو آئین اور قانون مرتب کرے!

ہماری یہ خواہش اور دعا ہے کہ

سلامت رہیں مائیں، ریاست اور ماؤں کے لال

اللہ پاک ہمارے دیس کو بری نظر سے بچائے

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

وفاقی حکومت نے گزشتہ 2سال میں 5 ارب ڈالر قرض لیا، سینیٹ میں آگاہی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے دو سال میں  5 ارب ڈالرز کے بیرونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے