منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

لاپتہ افراد اور ان کی مائیں | سعدیہ معظم

تحریر: سعدیہ معظم
سن دوہزار چودہ چھبیس اپریل کو مستونگ تھانے میں دو افراد سعید احمد اور عبداللہ جو کہ لیویز میں ملازم تھے کوئٹہ سے واپس مستونگ جاتے ہو لاپتہ ہونے پہ ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔
لاپتہ سعید احمد کے والد صاحب نے کئی جگہ درخواست دی اور اپنی درخواست میں انہوں نے تفصیلا بتایا کہ کس طرح کوئٹہ سے واپسی پر راستے میں اسے غائب کردیا گیا ۔بیٹے کی جدائی میں ماں کو دو مرتبہ دل کا دورہ پڑ چکا ہے وہ اس وقت بھی شدید بیمار ہے ۔
متعدد بار کمشنر مستونگ کو سعید احمد کے والد نے درخواتیں دیں اور یہی التجا کی کہ اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔
اس سلسلے میں سعیداحمد کے والد نے ایک درخواست وزیراعلی بلوچستان کو بھی دی جس میں انتیس اگست دوہزار تیرہ میں سعید احمد کی گمشدگی کابتایا گیا اور اس کے غائب ہونے کے بعد اس کی ماں کا غم سے بیمار پڑنے کی روداد بتائی گئی اور التجا کی کہ اسے بازیاب کرایا جائے ۔
سعیداحمد کے والد بھی لیویز کے ریٹائر ملازم ہیں اور خود سعیداحمد اور اس کے ساتھ غائب ہونے والا اس کا کزن بھی لیویز کے ملازم تھے اور آن ڈیوٹی تھے ۔
سعید احمد کے والد نے ایک درخواست مورخہ بیس فروری دوہزار اٹھارہ کو جناب میجر جنرل ندیم انجم صاحب جو کہ فرنٹیئرکور کے سدرن کمانڈر کو بھی دی اور انہیں یہ یقین بھی دلایا کہ ان کے بچے بازیاب ہوگئے تو وہ ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کومحب وطن بنا کرچھوڑیں گے ،جو غداری کے بجائےوطن کے لئے اپنا سر تن سے جدا کردیں گے۔انہیں بس ایک موقع فراہم کیا جائے ۔
اس کیمپ میں یہ غمزدہ ماں اکیلی نہیں تھیں ۔ان کے ساتھ ریاض احمد کی والدہ بھی انصاف کے لئے چھولی بہلائے بیٹھی تھی ۔
انہیں خواتین میں ایک باوفا خاتون حانی گل بھی تھی ۔جو اپنے مگیتر کے واپس آنے کا انتظار کررہی تھی۔وہ خود بھی تین مہینے لاپتہ کردی گئی تھی۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بلوچستانن کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بلوچستان کے قبائل سے اسی سال کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں بلوچستان اسی سال تک پاکستان کاحصہ رہتا ،بعد میں کیا وجوہات ہوئی کہ یہ معاہدہ پس پشت چلا گیا ۔
بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے ،وہاں تعلیم کا فقدان ہے لوگ زیادہ تر محنت مزدوری کرتے ہیں ۔جغرافیائی طور پر دیکھیں تو بلوچستان چٹانی علاقہ ہے اور علاقائی لوگ بھی بالکل چٹانوں کی طرح سخت جان اور محنت کش ہیں ۔
پسماندہ صوبہ ہونے کی وجہ سے باقی دنیا سے کافی پیچھے ہے ،نا وہاں انٹر نیٹ کی سہولت ہے نا لائبریاں اور نا ہی اچھے اسکول کالجز ۔
ایسے میں ستم یہ ہے کہ وہاں کے نوجوانوں کو ایک اندھی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے ۔اور یہ جنگ خودساختہ ہے ۔آپ زبردستی نوجوان نسل کو غدار بنادیتے ہیں ،جبکہ وہ جوان اپنی جملہ ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے ۔
بلوچستان خود ایک امیر صوبہ ہے اس کے پاس معدنیات کی کمی نہیں ۔سوئی جہاں سے گیس نکلتی ہے اور پورا پاکستان مستفید ہوتا ہے وہاں کے لوگ لکڑیاں جلانے پہ مجبور ہیں ۔
بلوچستان ایک سورش زدہ علاقہ بن چکا ہے وہاں ایک نا سمجھ میں آنے والی جنگ چل رہی ہے ۔
بلوچستان کا تھانہ ہو کمشنر ہو وزیراعلی ہو یا کوئی جنرل سب کسی قوت کے آگے بے بس ہیں ۔
بلوچستان کی سورش اور وہاں لگی آگ کی لپیٹ میں کتنے لوگ آتے ہیں ۔اس کا اندازہ ان مائوں بہنوں کو دیکھ کر ہوتا ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سردی گرمی دیکھے بغیر کیمپ لگا کر بیٹھتی ہیں ۔ان کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ ان کے پیارے کہاں ہے کم از کم انہیں بتایا جائے ۔
اس وقت بھی اسلام آباد پریس کلب کے باہر بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین اپنی فریاد لے کر بیٹھے ہیں ان کی یہی استدعا ہے کہ خدارا ان کے لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے ان پہ اگر کوئی جرم ثابت ہو تو سزا دی جائے ،لیکن اس طرح سالوں انہیں غائب نا رکھا جائے ۔
ایسی کون سی قوت ہمارے ملک پہ قابض ہے جس کے آگے کسی کی نہیں چلتی ۔اگر ہمارے ملک کی عدلیہ آزاد ہے تو بلوچستان کے یہ لوگ بھی مملکت پاکستان کے شہری ہیں انہیں ان عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جزا وسزا کا اختیار عدالتوں کو سونپا جائے ۔
عدالتیں منصفانہ فیصلہ کریں ،ان کمیشن کی رپورٹ کا بھی آڈٹ کریں جو عدالت میں جمع کرائی جاتی ہے ۔ کیا اعداد و شمار کی جانچ صحیح طریقے سے ہورہی ہے ۔عدالتی کاروائی سے کچھ لوگ بازیاب ہوئے ہیں لیکن لاپتہ ہونے کا سلسلہ بھی بددستور جارہی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے ۔انسانیت اور ملک کی نیک نامی اسی میں ہے کہ ملک میں قانون کی پاسداری کی جائے اور پوری دنیا میں پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے