ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

قصور میں پانی کے ٹیوب ویل سے نہانے پر تشدد کرکے اقلیتی نوجوان قتل کرنے والے چاروں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

قصور کے علائقے چونیاں میں گزشتہ ہفتے ایک مسیحی نوجوان سلیم مسیح کو ٹیوب ویل میں نہانے پر تشدد کرکے ہلاک کرنے والے چاروں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

واضح رہے کچھ روز قبل پنجاب کے ضلع قصور کے شہر چونیاں میں 22 سالہ کرسچن نوجوان سلیم مسیح کو ٹیوب میں نہانے پر بدترین تشدد کرکے زخمی کردیا جسے ہسپتال لے جایا گیا اور جانبر نہ ہوسکا تھا۔
خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ نوجوان سلیم مسیح نے جمعرات 27 فروری کو بھوسے سے بھری گاڑی اتارنے کے بعد گاؤں بگیانا میں ٹیوب ویل پر نہانے گیا وہاں گاؤں کے کچھ افراد نے اسے مارنا شروع کردیا اور کہا کہ تم نے ہمارا ٹیوب ویل پلید (ناپاک) کردیا ہے۔

خاندان کے افراد کا کہنا تھا کہ گاؤں کے لوگ اسے ایک جانوروں کے باڑے میں لے گئے جہاں سلیم کے ہاتھ پائوں باندھ کر اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اسے لوہے کے اہنی راڈ سے پیٹتے رہے، اسے زخمی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے، پولیس نے چار گھنٹے بعد زخمی کو ہسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، لواحقین نے شیر ڈوگر، اقبال، الطاف، جبار اور حاجی محمد کو نامزد کیا ہے، لواحقین کے مطابق پولیس قاتلوں کی پشت پناہی کررہی ہے اور قاتلوں کو پکڑنے کے بعد انہیں شخصی ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
واضح رہے قصور میں 2014 میں کنوئیں سے پانی پینے پر حاملہ شمع مسیح اور اس کے شوہر شہزاد مسیح کو زندہ جلادیا گیا تھا

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے