منگل , 19 جنوری 2021
ensdur

’’قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے‘‘ | نصرت جاوید

صابری برادران کو شہرت کی بلندیوں پر چڑھانے والی -’’تاجدارِ حرم‘‘- قوالی میں الاپ کے طور پر ’’قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے‘‘ والا مصرعہ بھی ہے۔ اسے جب بھی سنا اپنے دل سے نکلی ہوئی دُعا کی صورت محسوس کیا۔ نجانے کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ عمر کے آخری حصے میں یہ قبول ہوگئی ہے۔

ہفتے کی رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب سابق صدر امریکہ- اوبامہ- کی تازہ ترین خودنوشت کے کئی صفحات پڑھنے کے بعد سونے کی تیاری میں تھا تو بتی چلی گئی۔ فرض کرلیا کہ ایک بار پھر ہمارے سیکٹر میں ’’سسٹم اپ گریڈ‘‘ ہو رہا ہے جو عموماََ ہفتے کے آخری دنوں میں بھگتنا ہوتا ہے۔ کتاب بند کرکے رضائی اوڑھ لی۔ تھوڑی ہی دیر بعد میری بیوی اور بچیاں گھبرائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں خبر ملی تھی کہ پورے ملک میں بجلی بند ہوگئی ہے۔

غالباََ انہیں گماں تھا کہ رپورٹر ہونے کا دعوے دار ہوتے ہوئے میں ہڑبڑا کر اُٹھ جائوں گا اور صحافیوں سے منسوب تجسس کو بروئے کار لاتے ہوئے پورے ملک میں خوف کی لہر پھیلاتے بریک ڈائون کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ کامل بے اعتنائی سے لیکن میں نے انہیں ’’گھبرائو نہیں‘‘ کا مشورہ دیا اور کروٹ بدل کر سونے کو منہ موڑ لیا۔ میرا رویہ انہیں بہت عجیب لگا۔ میں نے انہیں قریب بٹھا کر یہ سمجھانے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی کہ ساری عمر صحافیانہ تجسس کی نذرکرنے کے باوجود اپنے کیرئیر کے عروج کے دنوں میں ’’لفافہ‘‘ پکارا گیا ہوں۔ ویسے بھی وطنِ عزیز پر ان دنوں 5th Generation War مسلط ہے۔ ہمارے ازلی دشمن اس کی بدولت ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت کو بے بنیاد افواہیں پھلاتے ہوئے خوف کی زد میں لانا چاہ رہے ہیں۔ ہمارے دلوں میں ریاست اور اس کے اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس تناظر میں ہمیں گھبرانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔

ہفتے کے روز ہی ہمارے حکمرانوں نے کمال استقامت سے کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو مجبور کیا تھا کہ وہ مچھ کی ایک کان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے پیاروں کی لاشوں کو چھ دنوں تک سڑک پر رکھتے ہوئے وزیر اعظم صاحب کو وہاں پہنچنے کے لئے ’’بلیک میل‘‘ نہ کریں۔ عمران خان صاحب کے روبرو فریاد کرنا ہے تو پہلے لاشوں کی تدفین کا فریضہ ادا کریں۔ہزارہ برادری حکم بجالائی تو وزیر اعظم صاحب کوئٹہ پہنچ گئے۔ سانحہ مچھ کے چند متاثرین کے نمائندہ وفد سے انہوں نے ایک ’’محفوظ مقام‘‘ پر ملاقات کی۔ معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

مچھ والا واقعہ گزشتہ ہفتے کے آغاز میں ہوا تھا۔ اس کے بعد پانچ روز تک میں نے یہ کالم لکھا۔ کسی ایک میں بھی اس سانحے کا ذ کر نہیں ہوا۔ اس ضمن میں اجتناب کو خدارا میری سنگ دلی شمار نہ کیا جائے۔

بلوچستان کے حقائق سے 1970 کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی بر سرزمین موجودگی کے ذریعے آگاہ ہونا شروع ہوا تھا۔ آج سے دس برس قبل مشتاق منہاس کے ساتھ مل کر ٹی وی کیمروں کے ذریعے اس صوبے کے ان تمام علاقوں کی صورت حال ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کی تھی جنہیں ’’خطرناک‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ اس سفر میں ہزارہ برادری کی بابت ایک جامع پروگرام بھی تیار کیا تھا۔ ہزارہ کمیونٹی کی اجتماعی اذیتوں سے بخوبی واقف ہوں۔ میری دانست میں بنیادی طورپر افغانستان اور پاکستان میں وہ ’’مسلکی‘‘ نہیں بلکہ ’’نسلی‘‘ تعصب کا شکار رہے ہیں۔ فقط ’’مسلک‘‘ ہی ان کی مشکلات کا سبب ہوتا تو آذربائیجان سے آئے قزلباش اسی ’’مسلک‘‘ سے تعلق رکھنے کے باوجود ’’اشرافیہ‘‘ شمار نہ ہوتے۔

افغانستان میں 1980 سے جاری ’’جہاد‘‘ اور اسی دہائی میں آٹھ برس تک مسلط رہی ایران-عراق جنگ نے ہزارہ کمیونٹی کی مشکلات کو پیچیدہ تر بنا دیا ہے۔ ڈنگ ٹپائو کالموں کے ذریعے انہیں کماحقہ انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا کی فطری محدودات انہیں سمجھنے اور سمجھانے سے ہرگز قاصر ہیں۔

مچھ والا واقعہ ہوا تو اس کے ’’اسباب‘‘ ڈھونڈنے وزیر داخلہ کوئٹہ تشریف لے گئے تھے۔ اسلام آباد لوٹنے کے بعد انہوں نے وفاقی کابینہ کے روبرو اپنے ابتدائی تاثرات گزشتہ منگل کے روز پیش کردئیے تھے۔ ان کی تحقیق نے انکشاف کیا کہ ہلاک شدگان کی اکثریت ’’افغانوں‘‘ پر مشتمل تھی۔ لاشوں سمیت دھرنا دینے والے لواحقین وزیر اعظم کو وہاں بلانے کا تقاضہ بنیادی طورپر حکومت سے بھاری بھر کم ’’امدادی رقوم‘‘ حاصل کرنے کی خواہش میں کر رہے ہیں۔ عام حالات میں شاید وزیر اعظم صاحب کا وہاں جانا مناسب ہوتا۔ انٹیلی جنس اداروں نے مگر عندیہ دیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں وزیر اعظم اگر کوئٹہ تشریف لے گئے تو وہاں کوئی ’’بڑا واقعہ‘‘ بھی رونما ہوسکتا ہے۔ ممکنہ ’’واقعہ‘‘ نہ بھی ہوا تو فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے کی جو سازش ہو رہی ہے اس کے ہوتے ہوئے دہشت گردوں کا نشانہ بنا ہر گروہ لاشوں سمیت دھرنا دے کر وزیر اعظم کو ذاتی طور پر ان سے ملاقات کا تقاضہ کرنا شروع کردے گا۔ ایسی روایت کی موجودہ حالات میں حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔

ذمہ دار ذرائع کی بدولت گزشتہ منگل کے روز ہوئے وفاقی کابینہ میں ہوئی گفتگو سے آگاہ ہونے کے بعد میں نے اپنے تئیں یہ طے کرلیا کہ وزیر اعظم لاشوں کی تدفین سے قبل ہزارہ برادری کے نمائندوں سے ملنے کوئٹہ تشریف نہیں لے جائیں گے۔ چند صحافی دوستوں سے اس رائے کا اظہار کیا تو وہ ناراض ہوگئے۔ بالآخر جمعہ کے دن اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران حکومت نے میرے ذہن میں موجود خدشات کی برملا الفاظ میں تصدیق فرمادی۔

درد دل کی شدت و گہرائی سے ’’سیف الملوک‘‘ لکھنے والے میاں محمد نے ’’لسے دا کی زور‘‘ والا سوال اٹھایا تھا۔ ’’لسا‘‘ پنجابی زبان میں کمزور کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ’’لسے‘‘ کی آہ و بکا طاقت ور اشرافیہ اور حکمرانوں کو جھکنے کو مجبور نہیں کرسکتی۔ ہفتے کے دن ہمارے صوفی شاعر درست ثابت ہوئے ۔ہزارہ برادری کو بالآخر وزیر اعظم صاحب سے ملاقات کئے بغیر ہی اپنے پیاروں کو دفنانا پڑا۔ سوشل میڈیا پر عمران خان صاحب کے مبینہ طور پر ’’سفاک‘‘ رویے کی مذمت میں مبتلا افراد اس حقیقت کو نگاہ ہی میں نہ رکھ پائے کہ ہزارہ برادری کی اکثریت ان دنوں مسلکی بنیادوں پر اٹھائی ایک تنظیم مجلس وحدت المسلمین سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ یہ تنظیم تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کی اسمبلی کے لئے جو انتخاب ہوا اس کے دوران پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے نمائندوں کو شکست سے دو چار کروانے میں اس تنظیم نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز صاحبہ کے ’’تاریخی جلسے‘‘ بھی اسی ضمن میں بارآور ثابت نہیں ہوئے۔ وزیر اعظم کے طاقت ور ترین مصاحبین -زلفی بخاری اور علی زیدی- کو مجلسِ وحدت المسلمین نے ہزارہ برادری کو اطمینان دلانے میں بھرپور معاونت فراہم کی۔ معاملہ عمران حکومت کی ترجیح کے مطابق طے شدہ انداز میں ’’حل‘‘ ہوگیا۔ ثابت ہوگیا کہ ریاست کے تمام ادارے وزیر اعظم کے ساتھ ایک ہی Page پر رہیں تو پیچیدہ ترین دِکھتے مسائل کا حل بآسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔

عجب اتفاق مگر یہ بھی ہوا کہ ہفتے کے دن جب ریاست نے اپنی قوت و اثر کو بھرپور انداز میں ثابت کردیا تو چند ہی گھنٹوں بعد ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات پاکستان بھر میں اندھیرا چھاگیا ۔ ہمیں بجلی فراہم کرنے والا نیشنل گرڈ پُراسرار انداز میں Trip کر گیا۔ بجلی کے وفاقی وزیر عمر ایوب خان صاحب نے ذاتی طورپر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں کھڑے ہوکر بجلی کی بحالی کو ممکن بنایا۔ حکمران جماعت کے ترجمان انتہائی مہارت سے ان کی ہمہ وقت ’’ہوشیاری‘‘ کو سوشل میڈیا پر پھیلائی تصاویر کے ذریعے اجاگر کرتے رہے۔ شاید کسی روز وہ یہ بھی بیان کردیں گے کہ ’’اچانک‘‘ ملک بھر کی بجلی فراہم کرنے والا نظام کئی گھنٹوں تک کن ٹھوس وجوہات کی بدولت قطعاََ مفلوج ہوگیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

تعارف Moderator

یہ بھی چیک کریں

پی ڈی ایم کا پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور پاور شو

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے