منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

“قرارداد پولینڈ, سقوطِ ڈھاکہ اور بھٹو” | زاہدہ رحیم

 

تحریر: زاہدہ رحیم

سارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم تاریخی واقعے کا مکمل علم نہیں رکھتے، خاص طور پر ملکی تاریخ کا چنانچہ آدھے سچ سے اپنی مرضی کے قصے گھڑ کر نادانستہ یا بدنیتی کےطور پر مخالفین کو مجرم بنانے والوں کی سازشوں کا شکار رہتے ہیں۔ اسی نتاظر میں آج ہم 1971 پولینڈ قرارداد پر تفصیل سے بات کرتے ہیں کیونکہ اس سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں یا کم علمی ہر خاص و عام میں بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے۔

امریکی یونیورسٹی پرنسٹن کے پروفیسرگیری جے باس، جو صحافی بھی رہ چکے ہیں، نے اپنی کتاب’’بلڈ ٹیلی گرام‘‘میں اقوام متحدہ میں دسمبر 1971 کے دوران ہندوستان اور پاکستان کےدرمیان ہونے والے معاملات کو کچھ یوں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے ریکارڈز پر مبنی ہے اور 1971 میں مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے واقعات پر سَند کا درجہ رکھتی ہے۔ اس دوران ڈھاکہ، اسلام آباد اور دہلی کے علاوہ پیکنگ (اب بیجنگ)، ماسکو، واشنگٹن اور نیو یارک میں جو کچھ ہو رہا تھا، اسکا لمحہ بہ لمحہ احوال بھی اس کتاب میں ملتا ہے۔ کتاب کے اندراجات (صفحہ283 تا 286) کیمطابق “ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ 3 دسمبر 1971 کو شروع ہو چکی تھی۔ ہندوستان نےمشرقی پاکستان میں(جہاں وہ پہلےسےدخل اندازی کر رہا تھا) تیزی سےآگے بڑھنا شروع کر دیا تھا اور اسے آگے بڑھنے کے لئے مزید وقت درکار تھا جو روس اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو بار بار ویٹو کر کے اسے فراہم کر رہا تھا جبکہ امریکہ چین کی مدد سے یہ قراردیں منظور کرانےکے لئیے کوشاں تھا۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب جارج ڈبلیو بش نے (جو بعدمیں امریکہ کےصدربنے) امریکی صدر نکسن کے ایما پر سلامتی کونسل میں فوری جنگ بندی اور فوجوں کی واپسی کی قرارداد پیش کی جسکے منظور ہو جانے سے بنگلہ دیش کیلئے ہندوستان کی سقوطِ ڈھاکہ کی کوشش کا خاتمہ ہو جاتا۔ امریکہ کاموقف تھا کہ ہندوستان کا مشرقی پاکستان پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ امریکی قرارداد کےحق میں 11 جبکہ مخالفت میں صرف دو ووٹ آئے، ایک روس اور دوسرا اسکی طفیلی ریاست پولینڈ کا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر روس نے اسے ویٹو کر دیا۔ اس پر صدر نکسن کے کہنے پر جارج بش نے 4 دسمبر کو ایک اور ملتی جلتی قرار داد پیش کر دی جس پر ایک بار پھر ہندوستان کے لئے وہی شرمناک صورتِ حال پیدا ہوگئی، یعنی حمایت میں 11 اور مخالفت میں دو ووٹ آئے۔ روس نےاسے بھی ویٹو کر دیا۔ اس پر امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے روس کو خبردار کیا کہ اسکے رویے سے دونوں ممالک کے درمیان خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ خود نکسن نے روس کے وزیر خارجہ کو ایک خط میں سختی سے لکھا کہ روس پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کےخلاف ہندوستان کی جارحیت کی حمایت کررہاہے۔

سلامتی کونسل میں تعطل کی صورتِ حال سے نکلنے کے لئے مراکش، تنزانیہ اور زیمبیا نے مشورہ دیا کہ معاملہ جنرل اسمبلی میں لے جایا جائے جہاں اسے بھاری اکثریت حاصل ہو گئی چنانچہ7 دسمبر 1971 کو 104 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور ہونے والی اس قرارداد کے وقت بھی ہندوستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جس میں جنگ بندی اور فوجیں واپس بلانےکا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دیگر الفاظ میں اس قرارداد کے ذریعے بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کے بھارتی موقف کو تقریباً پوری دنیا کیطرف سے رد کر دیا گیا تھا۔

قرار داد کی مخالفت میں روس کی طفیلی ریاستوں کو ملا کر صرف 11 ووٹ آئے تھے۔ اِس دوران ہندوستان نے عالمی رائے عامہ کو پس پشت ڈال کر بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ اُدھر دو قرار دادیں مسترد کر دیئے جانے کے باعث امریکہ اور روس کے تعلقات میں شدید تناؤ آ گیا تھا۔ نکسن نےساتویں بحری بیڑے کو بنگال کا رخ کرنےکی ہدایات جاری کردی تھیں جس کےجواب میں ولادی واسٹک سے روس کا بحری بیڑہ بھی بحر ہند کیجانب روانہ ہو چکا تھا۔ جبکہ چین کی طرف سے لداخ پر حملے کے امکانات کے پیش نظر روس نے چین کیساتھ اپنی سرحدوں پر بھاری تعداد میں فوجیں لگا دی تھیں۔

پاکستان نے امریکہ سے بحیرہ عرب اور خلیج بنگال میں بحری بیڑہ بھیجنے کی باضابطہ درخواست 13 دسمبر 1971 کو امریکہ میں اپنے سفیر جنرل رضا کی معرفت کی تھی۔ خود یحییٰ خان نے بھی ذاتی طور پر نکسن سے یہی درخواست کی تھی جس کے جواب میں بتایا گیا کہ بحری بیڑہ 16 دسمبر کو خلیج بنگال پہنچ جائےگا۔ یہ وہ تناظر تھا جس میں 15 دسمبر کو پولینڈ کی قرارداد پیش کی گئی۔ یاد رہے پولینڈ اُسوقت وارسا پیکٹ کا ممبر اور روس کی پالیسیوں کا تابع تھا۔ پولینڈ کی قرارداد میں فوری جنگ بندی شامل تھی اور جسکے خاص خاص نکات i) شیخ مجیب الرحمن کی فوری رہائی اور اسکی سربراہی میں اقتدار قانونی طور پر منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے. ii) پاکستانی فوج کو مشرقی پاکستان سے ہٹا لیا جائے۔iii) مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان سےتعلق رکھنے والے تمام افراد کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں مشرقی پاکستان منتقل کر دیا جائے وغیرہ تھے۔

اس وقت کے سیکرٹری خارجہ سلطان محمد خان اپنی کتاب”ایک سفارت کار کی یاد داشتیں” میں لکھتے ہیں “قرارداد کی منظوری ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھی” جبکہ معروف سفارت کار جمشید مارکر نے اپنی کتاب ’’کوائٹ ڈپلومیسی‘‘ میں لکھا ہے کہ اس قرارداد کا مطلب اپنی زمین کے بڑے حصے پر قبضےکو ایک بین الاقوامی فورم پر قبول و منظور کرنا تھا، جس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کی نظر میں خود مختاری کے حق سے دستبرداری کا تقاضا کرنے والی یہ قرارداد جس قدر ذلت آمیز تھی اسی قدر نا قابلِ تصور اور نا قابل منظور بھی تھی۔ مارکر نے لکھا ہے کہ قرارداد کو مسترد کرنے کا فیصلہ سلامتی کونسل کے چیمبر میں داخل ہونے سے قبل ہی کر لیا گیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو نے جو کچھ پھاڑا وہ قرار داد کی نقل نہیں بلکہ انکے اپنے نوٹس اور دیگر فالتو کاغذات تھے۔ دلچسپ بات ہے کہ پولینڈ کی قرارداد کو بھٹو سے پھڑوانے والوں سے آج تک کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کا طریق کار کیا ہے؟ کیا ہی مزے کی بات ہے ناں, جب پولینڈ کی قرارداد پر اجلاس طلب ہوا تو سیکریٹری جنرل نے مجوزہ قرارداد کا مسودہ بھٹو صاحب کو تھما دیا کہ وہ اسے نمائشی جوش جذبات سےپھاڑ ڈالیں۔

جمشید مارکر نے معاملے کے ایک اور مضحکہ خیز پہلو کیطرف بھی توجہ دلائی ہے کہ ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے پر رضا مندی اور اسکے نتیجے میں سلامتی کونسل کے اراکین جب قرارداد پر غور کرنے کے لئے اپنی نشستوں پر براجمان ہو رہے تھے تو وہ اِس بات سے ناواقف تھے کہ زیرِ بحث پاکستان کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ مارکر مزید لکھتے ہیں کہ اس پس منظر میں بھٹو صاحب کا قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کرنا قرارداد کی بے سودگی اور قومی وقار پر مرتکز تھا۔ اسی طرح صدیق سالک نے اپنی کتاب “میں نے ڈھاکہ جلتے دیکھا” میں صدر جنرل یحییٰ کے اُس ٹیلی گرام کا متن بھی شائع کیا ہے جو جنرل نیازی کو 14 دسمبر شام ساڑھے پانچ بجے موصول ہوا تھا۔ اس میں تحریر تھا کہ

“گورنر کا پیغام مجھے مل گیا ہے، آپ نے نہایت کٹھن حالات میں نہایت دلیرانہ جنگ لڑی ہے۔ قوم کو آپ پر فخر ہے، دنیا آپکی تعریف کر رہی ہے۔ اب آپ ایسے مرحلے میں ہیں جہاں نہ مزید مزاحمت ممکن ہے اور نہ اِس مزاحمت سے کوئی سود مند مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ آپ کو اِن حالات میں مسلح افواج، مغربی پاکستان کے رہنے والوں اور دوسرےوفادار لوگوں کی سلامتی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئیے۔ میں نے اِس اثنا میں اقوام متحدہ سے درخواست کی یے کہ ہندوستان سے مشرقی پاکستان میں جنگ بندی کیلئےکہے اور اِس سے ہماری مسلح افواج کے علاوہ ان تمام لوگوں کے تحفظ کی ضمانت مانگے جو شر پسندوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔”

یقینا یہ ہتھیار ڈالنے کا حکمنامہ نہیں تھا جسے لیکر جنرل نیازی، جنرل فرمان کے ہمراہ فوری طور پر امریکی قونصل جنرل کے دفتر میں پہنچ گئے تا کہ بھارتی جنرل مانک شاہ سے رابطہ قائم کر سکیں۔ حیرت ہے کہ انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ ڈھاکہ میں بھارتی فوجیں دور دور تک موجود نہیں تھیں۔ جنرل نیازی نے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے افراد اور دیگر وفادار شہریوں کے تحفظ کی بجائے جنرل مانک شاہ سے فوری رابطہ کرنے اور ہتھیار ڈالنے پر باقاعدہ مصر رہے۔

یہ تھے پولینڈ کی قرارداد کے حوالے سے وہ حقائق جن میں کسی کمی بیشی کی شاید ہی گنجائش ہو۔ اب قاری یہ ضرور سوچے کہ پاکستان بھٹو نے توڑا یا ہمارے شیر جوانوں نے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے