منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

قابل ستائش فروری: نو بیس سے نو پینتالییس تک کا فاصلہ | فہمیدہ یوسفی

تحریر: فہمیدہ یوسفی
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ آج کل کے جدید دور میں اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی نے اب دنیا بھر کی جنگی صورتحال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔جبکہ یہ بات بھی غور طلب ہے کوئی بھی ٹکر کی دو طاقتیں کئی عرصے سے فضائی محاذ پر کبھی آمنے سامنے نہیں آئیں۔ تاہم فروری 2019 میں ایک ایسی خطرناک جھڑپ دیکھنے میں آئی جب بھارت اور پاکستان نے اپنی اپنی فضائی طاقتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس فضائی معرکے کو اس صدی کا سب سے پیچیدہ اور گھمبیر معرکہ نہ کہا جائے تو کم ہے ۔
پلوامہ حملے اور اس کے بعد بھارتی جارحیت کیا ہوا تھا ؟؟
اس کی شروعات 14 فروری دوہزار انیس سے ہوئی جب کشمیری مجاہدین نے پلوامہ کے مقام پہر بھارتی فوج کو نشانہ بنایا جس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں شدید اضافہ ہوگیا بھارتی حکومت نے پاکستانی مجاہدین کے مبینہ ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا ارادہ کیا اور چھبیس فروری کی رات کو ایک بج کر تیس منٹ پر بھارتی فضائیہ کی چار فارمیشنز نے پاکستان کے سرکریک رحیم یار خان فضالیکہ اور بالاکوٹ سیکٹر میں گھسنے کی کوشش کی . بھارتی جارحیت کی پہلے سے خبر ہونے کی وجہ سے پاکستانی طیارے حفاطتی نگرانی پر مامور تھے ان طیاروں کو بھارتی در اندازی روکنے کے لیے ان علاقوں کی طرف روانہ کیا گیا بھارتی پلان کے مطابق پاکستانی طیاروں کو مختلف سیکٹرز میں مصروف کیا گیا اور پھر جان بوجھ کر سرکریک رحیم یار خان اور فضالیکہ سیکٹر میں بھارتی جہاز واپس مڑگئے ماسوائے بالاکوٹ سیکٹر کے بھارت کے میراج دوہزار سکوئی تھرٹی لڑاکا طیارے اپنی مدد کے لیے ایندھن فراہم کرنے والے اور خصوصی ریڈار کے طیاروں کو لیکر بالا کوٹ کی طرف بڑھ رہے تھے ان طیاروں میں چھ جہازوں میں اسرائیلی ساختہ اسپائیس 2000 بم لیس تھے اور باقی طیاروں کا مقصد ان طیاروں کی حفاظت تھا فضائی بگرانی پر معمور ایف سولہ اور الرٹ ڈیوٹی پر تعینات جے ایف سیونٹین طیاروں کو بھارت کی اس فارمیشن کی جانب بھیجا گیا اسرائیلی بم کے طویل فاصلے پر مار کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے بھارتی بمبار طیارے پاکستانی طیاروں سے دور رہ کر اپنے بم گراکر بھاگ نکلے ۔
فارمیشن میں موجود تمام بھارتی جہاز واپس چلے گئے لیکن بھارتی طیاروں کی ایک بڑی تعداد پورے بھارت کی فضائی نگرانی پر مامور کردی گئی تاکہ پاکستان کی جوابی کاروائی کا جواب دیا جاسکے پاکستان کے طیارے جوابی کاروائی کے لیے تیار تھے لیکن زمینی حقائق کے سامنے آتے ہی ایک عجیب صورتحال سامنے آئی بھارتی طیاروں نے اپنے جہازوں کے کمپیوٹر میں نشانے کی غلط معلومات ڈالیں جس کے باعث تمام بم اپنی ٹارگٹ سے کئی سو میٹر ددور گرے اور اس طرح بھارتی پائلٹوں کی غلطی کی وجہ سے ماڈرن ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ کہنے کو ایک اچھا پلان کیا گیا حملہ بری طرح ناکام ہوگیا۔
کسی جانب مالی یا جانی نقصان نہ ہونے کے باعث پاک فضائیہ کو جوابی کاروائی سے روک دیا گیا لیکن ایک خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت نے حکومت پاکستان جوابی کاروائی کے لیے مجبور کردیا

9بج کر بیس منٹ پا کستان کا آپریشن سویفٹ ریٹورٹ
تناؤ سے بھرپور چھبیس کا دن اور رات گزارنے کے بعد آخر کار ستائیس فروری کا وہ قابل ستائیش دن آن پہنچا جس کی جتنی بھی ستائیش کی جائے وہ کم ہی ہوگی ۔ ستائیس فروری کی صبح پاکستان نے کیا آپریشن سویفٹ ریٹورٹ کا آغاز صبح نو بجے دن کی روشنی میں بارہ ایف سولہ اور آٹھ جے ایف سیونٹین تھنڈر طیاروں کو بمبار طیاروں کی حفاظت میں مامور کیا گیا جبکہ اصل بمبار فارمیشن میں دو جے ایف سیونٹین اور چار میراج طیارے شامل تھے جن کی رسد کے لیے الیکٹرانک حملے کی قابلیت رکھنے والا P820
اور جدید ریڈار سے لیس SAP2000 کوبھی حملے کا حصہ بنایا گیا ۔ او ر جب گھڑی میں نو بج کر بیس منٹ ہوئے پاکستانی طیاروں نے حملے کے لیے اپنی پوزیشن لے لی جسے اپنے ریڈار میں دیکھتے ہی بھارتی فضائیہ میں بے چینی اور بھگدڑ مچ گئی جبکہ اچانک آئے مہمانوں کو دیکھ کر سرپرائز تو ہونا ہی تھا نو بج کر پچیس منٹ پر پاکستانی طیاروں نے اپنی بمباری کا آغاز کیا دو جے ایف سیونٹین طیارے ہزار پونڈ وزنی طویل فاصلے پر مار کرنے والے بمبوں سے لیس تھے انہوں نے پاکستانی حدود میں رہتے ہوئے اپنے نشانوں پر بم داغے دونوں جے ایف سیونٹین طیاروں نے دو دو بم پونچھ اور ناریان میں بھارتی آرمی کی بریگیڈ ہیڈ کواٹر پر داغے اسی اثنا میں دو میراج طیاروں کی جوڑیاں بھی اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہی تھیں میراج طیاروں نے اپنے اپنے نشانے پر طویل فاصلے پر مار کر نے H4 بموں کا استعمال کیا ان طیاروں میں بیٹھے ہوئے پاکستان کی مشاق پایلٹوں نے ان بموں کو کنٹرول کرکے ایک اور بھارتی بریگیڈ ہیڈ کواٹر اور ایک اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا اس کے بعد ان بموں کو کنٹرول کرتے ہوئے حاصل کی گئی وڈیو کو بطور ثبوت منظر عام پر بھی لایا گیا ۔ اس اچانک بمباری سے بوکھلائی اور بلبلائی بھارتی فضائیہ نے کشمیر میں فضائی گشت پر مامور طیاروں کو پاکستانی طیاروں کو روکنے کے لیے بھیجا پاکستانی بمبار طیارے اپنی جدید حملہ آور صلاحیت کی وجہ سے پہلے ہی ایک طویل فاصلے پر کامیاب نشانے بازی کرکے واپس جاچکے تھے چناچہ بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی نگرانی پر معمور طیاروں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا بھارتی فضائیہ کے دو سب سے جدید SU30 طیاروں کو پاکستانی ایف سولہ اور دو میراج 2000 طیاروں کو پاکستانی جے ایف سیونٹین کے طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا گیا لیکن بھارتی فضائیہ کو شاید پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جانچنے کا اس سے بہتر موقع اب تاریخ کبھی نہیں دیگی جب بھارتی طیارے مقابلے کے لیے پاکستان کی طرف بڑھے تو انہیں معلوم ہوا کہ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کا سارا مواصلاتی اور ریڈیو نظام لاک کردیا تھا اور ان کو ایک ایک بھارتی قدم کی بھرپور آگاہی بھی تھی ریڈیو جام ہونے کی وجہ سے پریشان SU30 طیاروں نے ریڈار کی مدد سے پاکستانی طیاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو جواب میں ہمارے ایف سولہ طیاروں میں لگے جدید نظام کی وجہ سے بھارتی طیاروں کے ناپاک ارادوں کا پتہ چل گیا خطرے کو بھانپتے ہوئے اس ایف سولہ کو جس کو اسکوڈرن لیڈر حسن صدیقی اڑارہے تھے بھارتی طیارے کو مار گرانے کی اجازت دیدی گئی اور حسن صدیقی نے کامیابی سے بھارتی طیاروں کو اپنے ریڈار کے نشانے پر لیا اور نو بج کر چونتیس منٹ پر اپنا جدید ترین طویل فاصلے پر مار کرنے والا ایم ایم میزائل داغ دیا بھارتی SU30 نے میزائل سے بچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کی قسمت میں تباہ ہونا لکھا تھا جبکہ دوسرا SU30طیارہ اپنے ساتھی کا حال دیکھ کر وہاں سے بھاگ نکلا جس کے بعد کشمیر کا بیشتر علاقہ پاک فضائیہ کے رحم و کرم پر تھا بھارتی طیارے کے گرنے کی خبر ملتے ہی بھارتی فضائیہ نے MI-171 ہیلی کاپٹر کو اسکا سراغ لینے بھیجا جبکہ بھارتی فضائیہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو بھی الرٹ کردیا لیکن بوکھلاہٹ میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا ڈالا پاک فضائیہ کی ریڈیو جمینگ کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اپنی شناخت نہ کراسکا اور بھارتی فضائیہ نے جلد بازی میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بناڈالا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کی بھارتی فضائیہ کی پیشہ وارنہ صلاحیتوں کا معیار کیا ہے اس واقعے کو بھارتی فضائیہ کی ان ناقابل معافی غلطیوں میں گنا جاتا ہے جس سے بھارتی فضائیہ کی تاریخ بھری پڑی ہے . یہاں صرف ہیلی کاپٹر نہیں تباہ ہوا تھا بلکہ چھ بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے اور دوسری جانب میراج 2000 طیارے جن کو جے ایف سیونٹین طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ان کو جے ایف سیونٹین طیارے اپنے ریڈار پر نظر نہیں آسکے کیونکہ جے ایف سیونٹین طیاروں کے مجایدین افلاک ان طیاروں کے ریڈاروں کا توڑ بخوبی جانتے تھے اور میراج طیارے بھی دم دباکر بھاگ نکلے بعد میں معلوم ہواکہ پاکستانی ماہرین کے پاس بھارتی طیاروں کے ریڈار ٹھیک ہونے کے ثبوت موجود تھے بھارتی طیارے صرف ریڈار خراب ہونے کا بہانہ بناکر بھاگ نکلے تھے پاک فضائیہ نے نو بج کر پچیس منٹ اپنی بمباری کا آغاز کردیا تھا لیکن بھارت کی فضائی نگرانی پر مامو ر جہازوں کو نو بج کا پینتالیس منٹ پر مطلع کیا گیا اس بیس منٹ کی تاخیر کا جواب بھارتی فضائیہ کے پاس شاید کبھی نہیں ہوگا تاہم یہ اس کے دفاعی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ضرور ہے
پاکستان کی فنٹاسٹک ٹی
اس تباہی کے بعد بھی پانچ مگ اکیس طیارے سری نگر سے اڑ کر لائن آف کنڑول تک آپہنچے جیسے ہی پاکستانی طیارے کی پوزیشن پوچھنے کے لیے ان مگ طیاروں نے اپنا ریڈیو استعمال کیا تو ان مہمانوں کا استقبال پاکستانی جیمرز کے شور نے کیا اور اس وجہ سے ان طیاروں کو کچھ نہیں سنائی دیا اسی شاندار جیمنگ کی وجہ سے یہ مگ طیارے کچھ کرنے کے قابل نہیں تھے بھارتی فضائیہ نے مگ طیاروں کو واپس آنے کا حکم دیدیا لیکن ایک مگ طیارہ جس کا ریڈیو جیم ہونے کی وجہ سے یہ احکامات نہ سن سکا اور لائن آف کنٹرول کی طرف چلاگیا نو بج کر پچاس منٹ پر جیسے ہی اس طیارے نے سرحد پار کی تو پاکستانی فضائیہ نے اپنے ایف سولہ طیارے کو اس کو مار گرانے کا حکم جاری کردیا پاک فضائیہ کے اس ایف سولہ نے ایک اور ایم ایم میزائل چلایا اور وہ سیدھا بھارتی مگ کو جا لگا یہ طیارہ پاکستانی حدود میں جا گرا اور اس کے پائلٹ نے اپنے آپ کو ایجیکٹ کردیا اور اپنی جان بچائی اور اس پایلٹ کو جس کا نام پاک ٖ فضائیہ اپنی وار ٹرافی کے طور پر یاد کریگی وہیں بھارتی فضائیہ یہ نام ہمیشہ شرمندگی سے یاد کریگی چاہے اس پائلٹ کو کتنے ہی میڈل سے نوازدے اور یہ پائلٹ تھا ابھینندن جو پاکستان کے پاس جنگی قیدی کے طور پر رہے اور انکو وہ چائے پلائی جو اب رہتی دنیا تک فنٹاسٹک ٹی کے نام سے جانی جاتی ہے
The Surprise That Made Enemy Bleeds

تیس منٹ کی جنگ جس نے بھارتی فضائیہ کو ہلا کر رکھدیا
دوسری جانب اپنے اس قدر بھاری نقصان کے بعد بھارتی ٖفضائیہ میدان جنگ چھوڑ کر ہیچھے ہٹ گئی جبکہ پاک فضائیہ نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے مزید طیارے گرانے سے اجتناب کیا اس کے باوجود کی اس وقت پورا میدان پاک فضائیہ کے ہاتھ میں تھا کیونکہ حکومت پاکستان حالات کو مزید نہیں بگاڑنا چاہتی تھی یہ جنگ صرف تیس منٹ تک جاری رہی لیکن یہ اکیسویں صدی کا سب سے خطرناک اور پیچیدہ فضائی معرکہ تھا جو پاک فضائیہ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ اگر کبھی کسی نے میلی آنکھ سے ہماری سلامتی کی طرف دیکھا تو اس کا انجام مگ 21 کی تباہی جیسا ہوگا۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے