منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

قائد اعظم کی روح آزردہ ہوگی؟ | انجم فاروق

تحریر: انجم فاروق
میر انیس زندہ ہوتے تو سانحہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا نوحہ لکھتے ۔ اگر میر تقی میر ہوتے تو قانون وانصاف کی پامالی کا درد بیان کرتے ۔غالب حیات ہوتے توشعروں کو آنسووں سے بھگودیتے اور اگر علامہ اقبال آج “شکوہ “لکھتے توچند وکلاءکی” عالی مرتبی” کی شکایت ضرور لگاتے ۔ کون ہے جو اپنے گھر کے شیشے توڑتا ہے ، دروازے اور کھڑکیاں بھی ؟ کون ہے جو سرِ عام اپنے “بزرگوں “کو بے آبرو کرتا ہے ؟ کون ہے جو اپنا منہ نوچتا ہے اور سر دیواروں سے پیٹتا ہے ؟خدا کی پناہ ! اتنی لاقانونیت ، اتنی اندھیر نگری ۔جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ، کوئی ضابطہ اور کوئی اخلاقیات بھی مگر یہاں ، قانون کا ڈر نہ قانون کے رکھوالوں کالحاظ ۔ انصاف کا خوف نہ منصفوں کی حیاء۔علامہ اقبال نے کہا تھا۔
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سینکڑوں میں نے بنا کے پھونک ڈالے ہیں
وکلاءکی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ پر جس طرح دھاوا بولاگیا، محترم چیف جسٹس کوتین گھنٹے سے زائد محصور رکھاگیا اور ان کے آفس کی حرمت کوبے آبرو کیا گیا ، کیا یہ کسی مہذب معاشرے کا عکس ہے یا پتھر کے زمانے کی کوئی کہانی ۔ کس ملک میں ہوتا ہے کہ ایک عدالت کے چیف جسٹس کے دروازے کو ٹھوکریں ماری جائیں ؟عملے کے ساتھ گالم گلوچ اور مار پیٹ کی جائے ؟معزز ججزکے خلاف نعرے بازی کی جائے ؟ اور اگر کہیں بھولے سے ہو بھی جائے تو کیا وہاںحکومتی رد ِ عمل ایسا ہوتا ہے جو ہماری وفاقی حکومت نے دیا ؟ پریس کانفرنس نہ سہی ، مذمتی بیان ہی جاری کردیتے ۔ملوث افراد کو مجرم نہ سہی قانون شکن ہی کہہ دیتے ۔شرپسند نہ سہی شدت پسند ہی بول دیتے مگر افسوس ! حکومت اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی ۔ کیوں ؟ کیا ریاست کے رکھوالے ایسے ہوتے ہیں جو مٹھی بھر عناصر کو لگام بھی نہ دے سکیں ، ظالم کا ہاتھ نہ روک سکیں اور اشتعال دلاتے قانون کے مجرموں کو بے نقاب نہ کرسکیں ۔
وکلاءکی اس حرکت سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ۔ پاکستان کی دنیا بھرمیں بدنامی ہوئی مگر مجال ہے وکلاءبرادری کو اپنے کیے پر ندامت ہو۔سینئیر ترین وکلاءبھی اس واقعے کاپوری “دیدہ دلیری “سے دفاع کررہے ہیں ۔بار اور بینچ کا تعلق تو بہن بھائی جیسا ہوتا ہے ۔ ایک کو چوٹ آئے تو درد دوسرے کو ہوتا ہے ۔ایک کی عزت پرآنچ آئے تو دوسرے کا سر خود بخود جھک جاتا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم ، پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ لوگوں میں اتنا غصہ اور گرانی کہاں سے آئی؟ کوئی تو بتائے! قانون کے رکھوالوں کوکس بات کا زعم ہے ؟ انہیں کیا لگتا ہے کہ قانون دان، قانون سے مبرا ہوتے ہیں ؟ وہ غیر قانونی چیمبرز بنائیں تو ان پر ریاست کا قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ ایک معزز عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے تو وہ ملزم سے مجرم کا سفر طے نہیں کرتے ؟ وکلاءبرادری کیا ثابت کرنا چاہتی ہے کہ چوکیدار کو چوری کرنے کا حق ہوتا ہے ؟ ڈاکٹر کو مسیحائی نہ کرنے کی آزادی ہوتی ہے ؟تھانیدار کے پاس قتل کرنے کا لائسنس ہوتا ہے ؟قومی خزانے پر بیٹھے شخص کے پاس لوٹ مار کرنے کا جوازہوتا ہے ؟کیا قانون کی گرفت صرف سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور عام آدمی کے لیے ہوتی ہے ؟ یاد رکھیں !یہ حملہ عدالت پر نہیں ریاست پر تھااور ریاست پر حملے کی سزا ہوتی ہے معافی نہیں ، مقدمہ چلتا ہے دادوتحسین نہیں ملتی۔ آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں ، انصاف ہوگا ۔ ضرور انصاف ہو گا ۔
وکلاءگردی کا یہ واقعہ حادثہ نہیں سانحہ ہے ۔ ایساسانحہ جو قوموں کو برباد بھی کر سکتا ہے اور آبادبھی ۔ ناانصافی برتی جائے تو بربادی مقدر ہوتی ہے اور اگر انصاف ہواتو پوری قوم شاد ۔ ایسے واقعات زندہ قوموں کا امتحان ہوتے ہیں اور اب وقت بتائے گا ہم امتحان میں پاس ہوئے یافیل ، قانون شکن سرخرو ہوئے یا قانون پسند۔آپ زیادہ دورمت جائیں ! 2019ءمیں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک سینئر وکیل کو تین ماہ کے لیے جیل کی سیر کروائی کیونکہ اس نے ایک کیس کی سماعت کے دوران جج پر ذاتی جملہ کسا تھا ۔ کوئی بار ایسوسی ایشن آڑے آئی نہ کوئی بار کونسل ۔ وکیل گرفتار ہوا، جیل گیا اور اپنے جرم کی سزا مکمل کی ۔ امریکہ میں گزرے سال جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہنگامے ہوئے ۔ دو وکلاءنے پولیس کی گاڑی پر پیڑول بم پھینکا جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا ۔ دونوں وکلاءکو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے وکیلوں کو مخاطب کرکے تاریخی الفاظ بولے :” اگروکلاءجرائم اور قانون کی پامالی میں ملوث ہوں تو ظالم کو بے نقاب کون کرے گا ؟ قاتل کو سزا کون دلوائے گا ؟ ناانصافی کے ڈسے ہووں کو آب ِ شفا ءکون پلائے گا ؟ قانون کے محافظوں کی دوہری سزاہوتی ہے ۔ ایک قانونی اور دوسری اخلاقی”۔ترکی میں ستمبر 2020ءمیں 47 وکلاءکو خوف پھیلانے اور اشتعال انگیزی کو ہوا دینے پر نہ صرف گرفتارکیا گیا بلکہ ان کو مقدمات کی چکی میںبھی پیسا گیا ۔ کسی وکلاءتنظیم نے دباوڈالا نہ حکومت اور عدلیہ نے شرپسندوں کو معاف کیا ۔ یہ ہوتی ہے قانون کی علملداری اور یہ ہوتا ہے انصاف ۔
ہمارے وکلا ءکے ماضی سے چادر اٹھائی جائے تو جہاں بہت کچھ اچھا نظر آئے گا وہیں سانحہ اسلام ہائیکورٹ جیسے واقعات کی فراوانی بھی ملتی ہے ۔جب جب ایسے افسوس ناک اور دل دہلا دینے والے واقعات ہوئے کسی نے کبھی بھی وکلاءکا ہاتھ روکنے کی کوشش نہیں کی ۔وکلاءایک کے بعد ایک” کارنامے” سر انجام دیتے رہے مگر قانون بھی خاموش رہا اور انصاف بھی ۔ دسمبر 2019 میں وکلاءنے جس طرح لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ کیا تھا ، اگرانہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جاتا تو آج یہ سیاہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ اگست 2017 ءمیں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان بینچ کے صدر ایڈووکیٹ شیر زمان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلنے پر لاہور ہائیکورٹ پر جس طرح وکلاءکے جتھوں نے دھاوا بولا تھا اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف نعرے بازی کی تھی ۔ اگراس وقت ریاست مناسب کارروائی کرتی تو شاید آج کوئی بھی قانون کو اتنا بے بس نہ سمجھتا۔اگر نومبر 2016ءمیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی سے استعفٰی مانگنے اور ان کے خلاف الزام تراشی کرنے والے وکلاءکو قانون کے مطابق سبق سکھایا جاتاتو شاید یہ گھناونا واقعہ بھی رونما نہ ہوتا ۔ اگر نومبر 2019ءمیں شکر گڑھ کی رہائشی امرت بی بی کو تشدد کرنے اور کپڑے پھاڑ کر بے حرمتی کرنے پر وکلاءکے گروہ نشانِ عبرت بنایا جاتا تو آج ایک عدالت کی بے توقیری نہ کی جاتی ۔ صرف یہی نہیں، گزشتہ دس سالوں میں صرف پنجاب میں تشدد اور مار پیٹ کرنے پر انتیس سو کے قریب وکلاءپر ڈھائی سو سے زائد مقدمات درج ہوئے ۔ وکلاءگردی ہر مکتبہ فکر اور شعبے کے خلاف ہوئی ۔ پولیس، سول ایڈمنسٹریشن ، ڈاکٹرز، ججز اور عدالتی عملہ ، کوئی بھی نہ بچ سکا ۔
وکلاءکو سوچنا ہوگا کہ انہوں نے قائداعظم کے پروفیشن کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔کیا ان کے اس عمل سے قائداعظم کی روح آزردہ نہیں ہوئی ہو گی ۔ دنیا بھر میں کتنے بڑے بڑے لو گ اس شعبے کے ساتھ وابسطہ رہے اور انہوں نے انسانیت کے لیے کیا کیا خدمات سر انجام دیں ۔ نیلسن مینڈیلا، ابراہم لنکن ، گاندھی ، نہرو ، ذوالفقار علی بھٹو ،فیڈل کاسترو، باراک اوباما اور بل کلنٹن جیسے لیڈرز وکالت کے سر کا ہی تاج ہیں ۔عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرداور اعتزاز احسن کو کون بھول سکتا ہے ۔جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف اور آئین و قانون کی حاکمیت کے لیے وکلا ءکی جدوجہد کی مثال آج بھی دی جاتی ہے مگر کیا کریں اب کچھ لوگ اس شعبے کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔ ریاست اس ہولناک واقعے میں ملوث افراد کو سزاد ے کر اپنی رِٹ قائم کرسکتی ہے ورنہ قوم کے دل ودماغ میں بنا سٹیچو آف جسٹس اوندھے منہ گر پڑے گا اور ان کو لگے گا کہ وکلاءگردی ایک ایسی کہانی ہے جس میں کبھی روزِحساب نہیں آتا۔

مصنف کے فیس بک وال سے لی گئی تحریر

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے