بدھ , 25 نومبر 2020
ensdur

فواد عالم کا قصور | حسنین جمیل

تحریر: حسنین جمیل

پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں شکیت کے بعد کپتان اظہر علی اور ہیڈ کوچ مصباح الحق پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ فواد عالم کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں چانس دیں فواد عالم کو دس سال بعد قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے مگر مسلسل چار ٹیسٹوں مچوں میں وہ باہر بینچ پر بیٹھے ہیں انکی جگہ اب تک حارث سہیل افحتار احمد اور اب شاداب خان کو کھلایا گیا ان میں کوہی بھی فور ڈاؤن کی پوزیشن پر بڑا سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

فور ڈون کی پوزیشن پچھلے 7 سالوں اسد شفیق فور ڈاؤن کے مسند ترپن بلے باز تھے مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسد شفیق کو اوپر کے نمبروں پر بلے بازی کے بھیجا جاتا ہے ۔فور ڈوان کی پوزیشن پر اب تک کوئی بلے باز سیٹ نہیں ہو سکا ۔اب ایک بہترین موقع ہے کہ فواد عالم کو موقع دیا جاے اگر چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کی کوئی ذاتی آنا ہے تو انکو بالائے طاق رکھ کر فواد عالم کو موقع دینا چاہیے فواد عالم کی بد قسمتی دیکھیں کہ ان کا تعلق کراچی سے ہے مگر کراچی کے سرفراز احمد 3 سال کپتان رہے مگر فواد عالم کو موقع نہیں ملا ۔اہک نظرذرا فواد عالم کے کرکٹ کیریر کے اعداد وشمار پر نظر ڈال لیں ۔پچھلے دس سالوں سے فسٹ کلاس کرکٹ میں وہ مسلسل سکور کر رہے ہیں ۔اب تک 145 میچوں میں 10742 رنز بنائے جن میں 27 سنچریاں اور 57 نصف سنچریاں شامل ہیں 296 ان کا بہترین سکورہے اوسط انکی 55 کی بنتی ہے 46 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔۔۔اب تک فواد عالم کو صرف 3 ٹیسٹ میچ کھلاے گہے ۔جس انہوں نے 250 رنز بنائے 40 کی اوسط رہی ایک سنچری اور 3 نصف سنچریاں بنائی۔بتہرہن سکور 168 تھا جو ڈیبیو پر بنایا۔۔ون سے کرکٹ میں فواد عالم نے 38 میچ کھیلے جن میں 996 رنز بنائے اوسط 40 کی بنتی ہے ایک سنچری اور 6 نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوے بہترین سکور114 رہا اور 5 وکٹیں حاصل کیں۔

ان سارے اعداد وشمار کو مدنظر رکھیں کہ فواد عالم کو جب بھی فسٹ کلاس کرکٹ ون ڈے کرکٹ ٹیسٹ کرکٹ میں موقع ملا انہوں نے سکور کیا وہ اس وقت نشیل بنیک کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی ہیں اور قومی ٹی ٹونٹی کپ میں کراچی ڈولفنز کی نمائندگی کرتے ہیں ۔اس میں کوہی شک مصباح الحق اور یونس خان کی موجودگی میں فور ڈاؤن پر اسد شفیق سیٹ تھے اور مسلسل سکور کر رہے تھے مگر اب مصباح اور یونس کی ریٹائر ہوئے 3 سال ہو گہے ہیں مصباح الحق کی جگہ پہلے ٹیسٹ میں اظہر علی بعد میں سرفراز احمد کپتان بنے اب پھر اظہر علی کپتان بن چکے ۔مگر فواد عالم کو موقع نہیں دیا جا رہا آخر کیا وجہ ہے اگر کراچی شہر کا مسلہ ہے انکو اس وجہ سے چانس نہیں مل رہا تو سرفراز احمد اور شاہد آفریدی نے اپنی کپتانی میں بھی فواد کو موقع نہیں ملا اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچ میں انکو فور ڈاؤن پوزیشن پر کھلنے کا چانس دیا جاے کپتان اظہر علی ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بیٹنگ کوچ یونس خان فواد کو موقع دیں اور انکی مکمل حوصلہ افزائی کریں اور کمااز کم تین ٹیسٹ میچوں میں انکو کھلایا جاے وہ دس سالوں بعد کم بیک کر رہے ہیں کپتان اور کوچ کے اظہار اعتماد کی بہت ضرورت ہے.

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

سیاسیات، ذاتیات اور پاکستان پیپلز پارٹی | زوہیب حسن ایڈوکیٹ

تحریر: زوہیب حسن ایڈوکیٹ (سوات پختونخوا) سیاسیات سماج اور جنتا کو درپیش مسائل کا حل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے