ہفتہ , 31 اکتوبر 2020
ensdur

ففتھ جنریشن وار | کلثوم زیب

تحریر: کلثوم زیب
پرانے وقتوں میں سیاست صاف تھی, کیونکہ سیاستدان صاف تھے اکثریت دانشوروں کی تھی۔ اس دور میں باچا خان، مولانا مودودی، بھاشانی، جی ایم سید ۔ میر غوث بزنجو ۔نوابزادہ نصراللہ خان ۔میر گل خان نصیر ۔ولی خان ۔ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگ اس سرزمین پر سیاست کرتے تھے, اپنے نظریات لیکر چلے ۔سیاست کی اور نبھائی بھی۔
اگرچہ رفتہ رفتہ اس سیاست میں اسٹبشمنٹ نے اپنا رول نبھانے کی کو شش کی جو کبھی کامیاب, تو کبھی ناکام ہوئی, مگر ایک بات سچ ہے کہ پوری طرح انکے راستے کھلے نہ تھے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جیسے جیسے پرانے سیاستدانوں کا رول کم ہونے لگا کچھ زندہ نہ رہے اور کچھ پس پردہ چلے گئے تو ایسے میں نئے چہروں کے ساتھ نئے طریقہُ کار بھی سیاست میں دھرائے۔
۔اور اسی نئیں دور میں ایسا وقت بھی آیا جب اسٹبلشمنٹ نے کبھی پیچھے ہٹ کر اور کبھی آگے بڑھ کر دخل اندازی کی ۔انکی یہ ڈرامہ بازیاں چلتی رہیں ایک دور جس میں سوشل میڈیا پر مختلف سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی رہیں اس طریقہُ کار نے راحیل شریف کے دور میں دوام پایا ,جب سوشل میڈیا کو صرف اس لیے استعمال کیا جانے لگا ,کہ پاکستان میں کسی بھی سیاستدان کے سر پر پگڑی باقی نہ رہے, اس کام کے لیے نوجوان طبقے کو فوج کی طرف سے ہاٸر کیا گیا اور بیس تیس ہزار روپے ماہانہ پر باقاعدہ طور پر انکی نوکریاں لگاٸ گٸیں کام انکا صرف ایک تھا کہ سوشل میڈیا پر تمام سیاستدانوں کے پیچھے یہی لوگ لگے رہیں ان پر الزام تراشیاں اور جھوٹی کہانیاں گڑھ کر انکی تشہیر کرتے رہیں ۔
راحیل شریف کے بعد جنرل باجوہ کا دور أیا اور انھوں نے ففتھ جنریشن وار کے نام پر اس وار کو اپنے ملک میں سیاسی لیڈرز ورکرز کے خلاف استعمال کیا۔اس وار میں عام پالے ہوۓ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سے لے کر فلمی اور غیر فلمی اداکار اور کچھ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی ھاٸر کیا گیا جن سے اس معاملے میں خوب کام لیا گیا جسمیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی بخوبی استعمال کیا گیا ۔اسنے عام قاری پر بے انتہا اثر بھی کیا کہ عام قاری صرف سوشل میڈیا کو فالو کرتا ہے ۔ یہ سیاست کے خلاف ایک پروپیگنڈا تھا جو موثر رہا ۔
اس کام کو بہت بڑے پیمانے پر کیا گیا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور اب تو غیر ملکی میڈیا سے کچھ ایسے لوگوں کو بھی اس ففتھ جنریشن وار میں دھکیلا گیا ہے ۔جو باقاعدہ طور پر پاکستان لاۓ گۓ اور بھاری رقم کے عوض یہ کام کرتے ہیں جیسے سنتیا ڈی رچی نامی خاتون جو موجودہ سیاستدانوں سے لیکر انکو بھی نشانہ بنا رہی ہیں جو اس دنیا میں نہیں رہے بالخصوص محترمہ بے نظیر بھٹو جنکو اس ریاست نے مارا اور أج ایک بااثر ادارے کی ہاٸر شدہ ایک عورت جسکا اس ملک سے کوٸی تعلق ہی نہیں ہے. بے نظیر کو گالیاں دے رہی ہے وہ بے نظیر جو اس ملک کی وزیر اعظم تھیں اور پوری دنیا میں لوگ اسکے نام سے پاکستان کو جانتے ہیں ۔
وہ لیڈرز جنکے نام سے پاکستان کی پہچان ہے چاہے وہ باچا خان ہو بھٹو ہو یا بے نظیر ان شخصیات کو گالیاں دینا غدار کہلوانا اور انکے نام پر بے مطلب کی بحث کرنا ایسا ہی ہے۔ جیسا ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے
۔اس عورت نے نہ تو پی ٹی ایم کو بخشا نہ مسلم لیگ ن کو نہ ہی نیشنل عوامی پارٹی کو ۔اور نہ ہی پیپلز پارٹی کو
,ففتھ جنریشن والوں کو ہوش میں أکر سوچ لینا چاہیے کہ اس ملک پاکستان کا وجود انہی مختلف قومیتوں کی وجہ سے ہے اگر أپ ان قومیتوں کے رہنماوں کو قبر میں بھی معاف نہیں کرینگے تو اس کھیل کا انجام تباھی پر ہوگا ۔
اس ملک میں سندھی پختون کشمیری سراٸیکی بلوچی اتنے ہی قابل عزت و صد احترام ہیں جتنا کہ کوٸ پنجابی ۔
ایک وقت تھا جب عوام کے دلوں میں اپنے اداروں کی تکریم ہوا کرتی تھی مگر وہی قابل تکریم ادارے نفرت کے سمبل بنتے جارہے ہیں ۔نفرت کسی بھی وجود کے بخیے ادھیڑ دیتی ہے اور جب وجود نہ رہے گا تو پھر بادشاہت کیسی اور ففتھ جنریشن وار کہاں کی ؟
یہ نفرت کا بیج اگر اگے گا تو تو یہ صرف ففتھ جنرشن وار کے ایجاد کرنے والوں کی وجہ سے ہوگا ۔
اب بھی وقت ہے سنبھل جاٶ کہ تھوکا ہوا واپس نہیں چاٹا جاتا اگر یاد رہے تو کہ اسمیں أپ کے لیے نشانیاں ہیں ۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

گلگت بلتستان، نوید انقلاب | آفتاب احمد گورائیہ

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ گلگت بلتستان اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش چوٹیوں، خوبصورت وادیوں …

2 تبصرے

  1. بہت شاندار اور خوبصورت مضمون محترمہ کلثوم زیب کی طرح خوبصورت اور دل میں گھر کر جانے والا

  2. سومرو غلام علی

    ففتھ جنریشن وار بظاہر سیاستدانون کو زلیل و رسوا کرنے کی سازش لگتی ہے لیکن اگر ڈیپلی دیکھا جاۓ تو یہ ملک و قوم کے خلاف صیحونی طاقتون کی شازش کا حصا ہے جو نا صرف پاکستانيوں کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہین بلکہ اسلام کابھی منہ کالا کرنا چاہتے ہین افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے جنرلز جنکو عقلمند ہونا چاہیےاپنے ملک و قوم کا مفاد دیکھنا چاہیے ان ملک دشمنون کے ہاتھون مین مہرے بنے ہوۓ ہین اوراسپر فخر بھی کرتے ہین ۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے