منگل , 4 اگست 2020
ensdur
اہم خبریں

فسطائیت کیا ہے؟ کیا پاکستانی ریاست فاشسٹ ریاست بن چکی ہے؟ | زاہدہ رحیم

تحریر: زاہدہ رحیم
فاشزم یعنی فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ “فاشیو” (Fascio) سےنکلا ہےجس کےمعنی ڈنڈوں کا گٹھہ یا مجموعہ ہےجواس زمانے کے سول مجسٹریٹ کے پاس ہوتےتھےجو بازاروں میں گھومتے وقت وہ اپنے ہاتھ میں یا سپاہیوں کےہاتھوں میں لےکر پھرتےتھے۔ اور اس وقت بازاروں سڑکوں پر انہیں کوئی بھی ایسا شخص جو خلاف قانون ملتا تو وہیں پر اس کو پکڑ کر ان ڈنڈوں سے سزا دیتے تھے، یہ ڈنڈوں کا مجموعہ Fascio اس سول مجسٹریٹ کا نشان تھا۔جو بعد میں وقت کی تبدیلی کےساتھ فاشزم بنا۔ فاشزم کی اگر سیاسی تفہیم کی جائے تو یہ ایک ریڈیکل اتھاریٹیرین نیشنلزم Radical Authoritarian Nationalism ہے. یعنی یہ ایک ایسی قوم پرستی ہے جو آمریت کا رحجان رکھتی تھی، آمریت کی سادہ فہم تعریف یہی ہےکہ اپنے مخالفین کو طاقت کی بنیاد پر دبایا جائے۔

فاشزم یا فسطائیت (Facism) سیاسیات کی اصطلاح میں طاقت کےبل بوتے پرکسی معاشرے یاقوم پر استبداد اور آمریت مسلط کرنا ’’فاشزم‘‘ ہے۔ فاشسٹ یا فسطائی اس فردیا قوم کو کہیں گے جو دوسروں پر آمریت مسلط کرے۔
اٹلی میں فاشزم کا آغاز مشہور ڈکٹیٹر ’’مسولینی‘‘ نےکیا دلچسپ بات یہ ہے کہ مسولینی پہلےخودسوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا،مگر وہ سوشلسٹ پارٹی سے اس بات پر خفا تھاکہ سوشلسٹ پارٹی نے اٹلی کےحکمران طبقے کا جنگ عظیم اول میں ساتھ دینے کے بجائےان کی مخالفت کی تھی، اسی بنیاد پر اس نے اپنی فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، اس کادعوی تھا کہ ہم اٹلی کو عظیم ملک بنائیں گے، انہوں نے اپنا سب سے بڑا مخالف کمیونزم اور سوشلزم کو قرار دیا۔

فسطائیت کی پہلی بنیادہی دائیں بازو کے حق اور بائیں بازو کی تحریکوں کی مخالفت میں تھی، آہستہ آہستہ مسولینی نے طاقت حاصل کرنی شروع کردی تھی، اور اس کےخیالات اٹلی سے نکل کرجرمنی اور دوسرے یورپین ممالک تک پہنچنےلگے، چونکہ جرمنی بھی جنگ عظیم اول کے بعد سماجی اور معاشی انتشار کا سامنا کررہا تھا۔ وہاں پر ایک لبرل حکومت ” Weimar Republic” قائم تھی، اس کےخلاف ایڈوولف ہٹلر نے اپنی پارٹی بنائی جس کانام “National Socialist German Workers Party” تھا، اسی کامختلف ” نازی” Nazi Political Party ہے۔
ہٹلرکےفوجی دستوں نے چیکوسلواکیہ، پولینڈ اور یورپ کےکئی حصوں تک کامیابی حاصل کرلی۔ پھر فرانس پر حملہ کرکے مکمل کنٹرول حاصل کیا اور برطانیہ پر حملہ کردیا ابھی مکمل طور پر برطانیہ کا کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے ہی ہٹلر نے سوویت یونین پر بھی حملہ کردیا، اور تاریخ کی سب سے بڑی جنگ، جنگ عظیم دوئم ہوئی، جس میں لگ بھگ 50،000 لوگ مارے گئے، مگر جنگ عظیم دوئم کی تباہ کاریوں کو دیکھ کریورپ کےتمام ہی ممالک اس بات پر یکجا ہوئےکہ نظریہ فسطائیت ایک برا نظریہ ہےاورآئندہ کبھی ایسی فسطائیت کی قوتوں کونہ تو پنپنے دیاجائےگا اور نہ ہی ان کو اقتدار کا راستہ دکھایا جائے گا، حتی کہ یہ لفظ “Fascist”یورپ میں ایک گالی بن گیا، کیونکہ یورپ نے فسطائی تحریک کو ہی جنگ عظیم دوئم کا ذمہ دار اور اس جنگ کی تمام جانی اور مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اور آج کا یورپ جمہوریت اور سوشلزم کے موجودہ نظام کی کامیابی کوجنگ عظیم دوئم کے ان 50،000 انسانوں کی جانوں کی قربانی کامرہون منت سمجھتاہے۔

فاشزم کی مختصر تاریخ کاجائزہ لینے کے بعد دیکھتے ہیں ایک فاشسٹ ریاست میں فسطائی قوتیں کس طرح کام کرتی ہے۔اور ایک فسطائی ریاست کی اس تعریف کو اگرہم پاکستان کےتناظرمیں دیکھیں تو پاکستان کےادارے،اورسیاسی جماعتیں کس حدتک فسطائیت کا شکار ہیں۔؟
فسطایت کی بنیاد ایسی قومیت پرستی پر ہےجوآمریت کی طاقت سے مخالف کو ختم کرنےکے اقدام کرے۔ فسطائی طاقت سب سے پہلے ان خیالات کو کچلنے کی کوشش کرتی ہےجوخیالات اس کو چیلنج کررہے ہوں،جوآمریت کے غاصبانہ قبضےاور اپنی محکومی پر سوالات اٹھائےفسطائیت اپنی طاقت سےان تمام خیالات اورسوالات کوکچلنے کی کوشش کرتی ہےجن کووہ اپنےلیئے خطرہ یامشکل سمجھتی ہے۔ ایک فاشسٹ نظام کے آلہ کاروں نےجو خود کرنا ہوتا ہے، اس کا الزام دوسرے پہ لگا دیتے ہیں پھر اسی کو بنیاد بنا کر ان تمام قوتوں کو نِیست ونابود کرنے کی کوشش کرتےہیں، جو قوتیں، خیالات اور سوچیں ان کے لیئے مشکل کا سبب بن رہی ہوتی ہیں یا بن سکتی ہیں۔

ریاست میں فاشزم کا جائزہ ان امور سے با اسانی لگایاجا سکتا ہے کہ ریاست کس طرح پورے معاشی اور سیاسی معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں اس کےلیئے کیاقوانین بناتے ہیں اور کیسےاس پرعمل درآمدکرتےہیں۔فسطائی نظام کی ایک واضح علامت اندھی قوم پرستی کوتشکیل دینا ہے جو جھنڈوں، قومی نغموں نعروں اور مخصوص لباس کا بے تحاشہ استعمال کرتا ہےتاکہ لوگوں میں حب الوطنی کےشدید جزبات پیدا کر کے ان کا لہو مسلسل گرمایاجا سکے۔ فسطائی نظام فرضی دشمن کو تخلیق کرتاہےتاکہ لوگوں پر مسلسل خوف طاری رکھاجاسکے کہ قومی سلامتی خطرے میں ہےتاکہ ریاست کے تحفظ اورحب الوطنی کےنام پر لوگوں کوان کےحقوق سے محروم کیاجاسکے۔ فسطائیت اپنی فرض کی ہوئی حب الوطنی کواپنے مخصوص معنی پہناکراس شدت سے اس کا پرچارکرتی ہےکہ معاشرے کے تمام طبقات اس سے متاثر ہوتےہیں جس کا مقصدیہ ہوتاہےکہ لوگ نہ صرف فسطائیت کے ہاتھوں ایذا رسانی، سزاؤں،قتل یا لوگوں کولاپتہ اور قید کرکے ماردینےکو درست تسلیم کریں بلکہ اس کو ایک جائز عمل تصور کرکے انسانی حقوق سے دستبردار ہوجائیں۔

فاشزم میں فوجی اداروں کی کارکردگی اور کردار کو مخصوص انداز میں ابھارا جاتا ہے تاکہ عوامی وسائل ان کے لیئے وقف کیے جائیں اور فوج فسطائیت کی شان و شوکت اور ہیبت بنی رہے جبکہ عوام اپنی مفلوک حالی سے آگے نہ بڑھ سکیں، اپنے مسائل میں سرگرداں رہیں اور کوئی سوال نہ اٹھاسکیں فسطائیت میں (patriarchy synonym ) مردانہ برتری کواہمت دی جاتی ہے، ریاست کے معاشرے کوسیاسی طبقاتی نسلی اور مذہبی تقسیم سے کمزور بنایا جاتا ہے۔ یہ کہ ذرائع ابلاغ کے تمام میڈیم کو اپنے زرخرید گماشتوں کے ذریعے کنٹرول کرکے نظریاتی اختلاف رکھنے والے ذہنوں کومسلسل خوفزدہ رکھ کر ان کو خوف کی اذیت میں مبتلارکھتی ہے تا کہ ان کے خیالات معاشرے اور عوام کو متاثر نہ کر سکیں اور مقبول عام کا درجہ پاکر عوامی رجحان نہ بن سکیں۔
فسطائی ریاست صرف طاقت کے بل بوتے پر اپنا اقتدار قائم رکھتی ہے، چناچہ اس کی طاقت کو چیلنج کرنے والوں کا اٹھالیا جانا، ماردیا جانا ایک عام سی بات ہوتی ہے۔ فسطائیت پر مبنی ریاست مذہب کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔اور مذہبی جزبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے سے بلکل دریغ نہیں کرتی ۔اس ریاست میں تخلیقی تجربات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ایسی کسی تخلیقی جرات کرنے والوں کو براہ راست یا چھپے انداز میں خاموش ہوجانے کےلئیے نہ صرف دھمکایا جاتا ہے بلکہ غداری اور مذہب دشمنی کے بہتان لگائے جاتے ہیں اور جس کے نتیجےمیں سزائےموت، جلاوطنی یا ہمیشہ کےلئیے لاپتہ کر دیاجاتا ہے۔
فاشسٹ ریاست میں روزگار اور کاروبار کےلئیے مخصوص منظور نظر گروہ کےلئیے مواقعے فراہم کئیےجاتے ہیں قابلیت اوراہلیت کےبجائے طاقتور قوتوں سے وفاداری اولین شرط ہوتی ہے۔ مخالف بیانیے اور نظریات کو کچلنے کےلیئےاختیارات کا ناجائز استعمال عام ہوتاہے۔ غیر قانونی اقدامات کو جائز سمجھا جاتاہے۔ انسانی حقوق کےتحفظ کےبجائے طاقتور قوتوں اور گروہوں کی اپنی خواہش اور مفاد پہلی ترجیح ہوتا ہے۔ اگر کسی ریاست میں مذکورہ علامات موجود ہوں تو سمجھ لیجئے کہ یہ فاشسٹ یعنی فسطائی ریاست ہے ان علامات کی روشنی میں پاکستان جیسی ریاستوں کودیکھاجائےتو بدقسمتی سے یہ فاشزم کی ایک مکمل اوربھیانک تصویر نظرآتی ہے۔

ریاست کے باشعور انسان دوست پڑھےلکھے، دانشوروں، قلمکاروں اور اساتذہ پراس وقت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں اپنے حقوق کا شعور پیدا کریں۔ اور عوام کو فسطائیت کی اس بھیانک قید سے آزادی دلائیں۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم ہیڈ عمران غزالی وزارت اطلاعات کے ‘ڈیجیٹل میڈیا ونگ’ کے جنرل مینجر مقرر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے میرٹ پر تعیناتیوں کے دعوے اقربا پروری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے