اتوار , 20 ستمبر 2020
ensdur

فروغ نسیم: را، فوج اور بھارتی جاسوس کلبھوشن کی وکالت تک کا سفر | طیب بلوچ

تحریر: طیب بلوچ

ویسے چھوٹے شریف الدین پیرزادہ کہلانے والے فروغ نسیم نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ یہ واحد وزیر ہیں، جن کو کوئی بھی سیاسی پارٹی اون نہیں کرتی۔ بظاہر جس ایم کیو ایم نامی سیاسی جماعت کے کوٹے سے وزیر قانون بنے، انہوں نے اس سے یکسر انکار کیا، وہ کہتے ہیں یہ ہمارا بندہ نہیں ہے۔ اس لیے ان کی حکومتی کابینہ میں شمولیت میں ابہام ہی رہا کہ وہ کراچی والی ایم کیو ایم (جسے اب محب وطن کہا جاتا ہے) کے کوٹے پر وزیر بنے یا لندن والی ایم کیو ایم جسے را کا پاکستانی ونگ کہا جاتا ہے۔ ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عمران نیازی کی کابینہ کا حصہ بننے کے بعد موصوف سے متعدد مرتبہ ان کی سیاسی وابستگی سے متعلق کریدا بھی گیا، جواب ندارد۔

آج کل موصوف جزوقتی وکیل اور کل وقتی نیازی کابینہ کے وزیر قانون ہیں۔ ‘نیازی اینڈ کو’ کے لوٹ مافیا کے نہ  صرف خفیہ آرڈینسز جاری کرتے ہیں بلکہ آئین پاکستان کے درپئے ہیں۔

فروغ نسیم کی ساری وکالت اور سیاست را کے کراچی میں سیاسی کم عسکری دہشتگردوں کو بچانے میں صرف ہوئی۔ شاید نوازنے کے لیے سینٹ میں لایا گیا۔

ایم کیو ایم کو ضیاع مردود نے را کی فنڈنگ سے کراچی میں سیاسی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف انسٹال کیا۔ سینکڑوں کارکنان انڈیا سے تربیت لے کر روشنی کے شہر کراچی میں بدامنی پھیلانے کے لیے لانچ کیے گئے۔  ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے موقع پر آئین شکن ضیاع کی بدترین آمریت میں کراچی کا دل لیاری سراپا احتجاج رہا تو اہل لیاری کو سزا دینے کے لیے ایم کیو ایم کے غنڈوں کو ہتھیار دے کر کُھلا چھوڑ دیا گیا۔ نتیجے میں لیاری کے غیور بلوچ اُٹھ کھڑے ہوئے اور نہ صرف لیاری بلکہ پورے کراچی میں را کی جانب سے کراچی کا امن تباہ کرنے کی سازشوں کے خلاف مزاحم ہوئے ۔

الطاف حسین جو آج کل پاکستان کے قومی بیانیے کے مطابق را کے ایجنٹ ہیں، کو نیلسن منڈیلا کہنے والے فروغ نسیم کو تعلیم و تربیت ہی الطاف حسین نے کی۔ جونہی وکالت کا لائسنس لیا تو موصوف کو ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کے مقدمات لڑنے کا ٹاسک دے دیا۔ را کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو اب وکیل میسر تھا۔ جب کبھی فوجی دباؤ کے برخلاف پولیس اور انتظامیہ انہیں پکڑتی تو موصوف عدالتوں میں قانونی پیچدگیوں اور کمزور شہادتوں کی وجہ سے انہیں عدالت سے ریلیف دلوا دیتے۔ کمزور شہادتیں اس لیے کہ ایم کیو ایم کی دہشت گردی کے خلاف گواہوں کو بوری بند لاشوں سے ڈرایا جاتا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بغض میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو کس نے زبردستی را کی فنڈنگ اور اس کے دہشتگردوں کو کراچی میں ہر ممکن سہولت دینے پر مجبور کیا؟ اِس کے علاوہ عدالتوں میں فروغ نسیم ایسے وکلاء کی بھی معاونت کیوں کی گئی؟ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اِن ملک دُشمن  حرکتوں کی وجہ سے کراچی کا امن بگڑا لیکن پی پی پی کراچی میں سیاسی طور پر کمزور ہو گئی اور اس شہر میں ایم کیو ایم ہر طرف چھا گئی۔ ایم کیو ایم کو انتخابات میں سرعام دھاندلی اور ٹھپے لگانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ طریقہ واردات بالکل ایسے تھا جیسا کہ 2018ء میں تبدیلی سرکار کو لانے کے لیے عوامی مینڈیٹ چوری کر کے اس کی جگہ عسکری مینڈیٹ بکسوں میں بھر دیا گیا۔

اس لیے تو 2018ء میں جب عسکری سائے میں پروان چڑھنے والے عمران نیازی کی مانگے تانگے کی حکومت ایجنسیوں نے بنائی تو فروغ نسیم کو ایوارڈ کے طور پر وزارت قانون کا قلمدان دیا گیا۔ آخر وزارت کیوں نہ ملتی موصوف نے آمر پرویز مشرف کا غداری کا مقدمہ جو لڑا تھا۔ وہی پرویز مشرف جس نے طاقت کے نشے میں مکا لہراتے ہوۓ بدمست ہو کر کراچی میں را یعنی ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کے ذریعے خون کی ہولی کھیلی اور متعدد وکلاء کو جان کی بازی ہارنی پڑی۔ وکلاء برادری اسے سانحہ بارہ مئی کے نام سے یاد کرتے ہوۓ ہر سال اسے سیاہ دن کے طور پر مناتی ہے۔

مشرف کی حکومت کے بعد 2012ء سے فروغ نسیم ٹیکنوکریٹ سیٹ سے سنیٹر منتخب کراۓ گئے، تب سے لے کر اب تک وہ سینٹر بنتے آ رہے ہیں۔ ویسے موصوف 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے پہلے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ تاہم ان کی سیاسی وکالتی زندگی کا پہلا بڑا کیس بے نظیر بھٹو کی 1996ء میں حکومت کو گرانے میں فعال کردار ہے۔ سیاسی تاریخ سے بلد لوگوں کو پتہ ہو گا کہ بی بی شہید کی حکومت کو گرانے کا جواز ڈھونڈنے کے لیے را (دوسرے لفظوں میں ایم کیو ایم) کو کراچی میں لسانی و صوبائی تعصب پھیلانے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی لیکن بات نہ بنی۔ بدعنوانی اور طرح طرح کے مفروضوں کے ہوائی قلعے تعمیر کر کے صدر فاروق لغاری کے ذریعے سازشیں کی گئیں۔ تب بھی بات نہ بنی تو عدالتوں کے ذریعے اسمبلیاں تحلیل کرا دی گئیں۔

اپنے باجوہ صاحب کی تبدیلی سرکار میں موصوف آج کل وزیر اور ریاستی وکیل دونوں کا فریضہ با احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں جب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل فوج کے سالار اور تبدیلی سرکار کے سپانسر قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے نوٹیفکیشن کو اڑا کے رکھ دیا تو فروغ نسیم  نے فوری استعفٰی دے کر ان کر مقدمہ لڑا۔ معاملہ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کو بھیجا گیا تو فوری صدر سے حلف لے کر پھر سے وزیر قانون بن گئے اور قمر جاوید باجوہ کی فوجی مدت  ملازمت میں توسیع کا بل ڈارفٹ کرا کے عسکری لاٹھی کے ذریعے بے چاری اپوزیشن کو ہانک کر بل منظور کرا کر اپنے موکل باجوہ صاحب کو تین سال کے لیے توسیع دلا دی۔

فیض آباد دھرنے میں عسکری سپانسر شپ کو بے نقاب کرنے پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے بناۓ گئے ریفرنس میں مغز ماری بھی فروغ نسیم کی ہی تھی۔ صرف چند باخبر لوگوں کو ہی ادارک ہوگا کہ پاک فوج کے سالار قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ اگر فوج کا ہاتھ دھرنے میں ثابت ہوا تو میں مستعفی ہو جاؤں گا لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس نے توسیع کے لیے پاپڑ بیلے اور کیسے دھرنا کیس میں ایجنسیوں کے کردار کو بے نقاب کرنے والے جج کو گھر بھیجنے کے لیے کیسے پورے نظام انصاف کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی۔

قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران ایک جج نے کہا کہ ہمیں اس روشن دماغ کی تلاش ہے، جس نے ٹیکس کے معاملے پر جج کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی ہدایت کی۔ صحافیوں کی ڈیسک سے آواز آئی کہ جج صاحب نیچے دیکھو روسٹرم پہ۔ اُس وقت روسٹرم پہ فروغ نسیم صاحب ایک مرتبہ پھر وزارت چھوڑ کے قاضی فائز عیسیٰ کو گھر بھیجنے پر دلائل دے رہے تھے،

ویسے فروغ نسیم کے وزیر اور وکیل بننے کے چکر میں پاکستان بار کونسل کو بہت محنت کرنی پڑی۔ قاعدے کے مطابق وزیر بطور وکیل پیش نہیں ہو سکتا، اس لیے جب وہ وزیر بنتے تو ان کا لائسنس منسوخ کرنا پڑتا اور پھر جب وہ استعفیٰ دے کر وکالت کرنے آتے تو ان کا لائسنس پاکستان بار کونسل کو بحال کرنا پڑتا۔ ایک دفعہ تو پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین امجد شاہ ڈٹ ہی گئے اور کہا کہ یہ کیا ڈرامہ ہے تاہم بعد میں انہوں نے لائسنس بحال کر دیا۔

اب پھر فروغ نسیم نے وزارت کا حلف لے کر بھارتی جاسوس کلبھوشن کو اپنے آبا کے گھر بھیجنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نفیس وزیر کہلانے جانے والے نے انتہائی نفیس طریقے سے واردات ڈالتے ہوۓ کلبھوشن یادیو کے لیے خفیہ آرڈینس اُس وقت جاری کروایا جب پارلیمنٹ کا اجلاس بھی چل رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کلبھوشن آرڈنینس کو منظر عام پر لاتے ہوۓ اس اقدام کو انتہائی شرمناک قرار دیا اور کہا کہ عوام اور پارلیمنٹ سے اسے چھپانا حکومت کے کلبھوشن کو رہا کرنے کے مذموم مقاصد کا غماز ہے۔

فروغ نسیم نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے را کے جاسوس کلبھوشن کے لیے خفیہ آرڈنینس کا دفاع کرتے ہوۓ خود کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی پیچھے چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔ کہتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کرتے تو بھارت پھر معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جاتا۔ اگر سچ پوچھو تو عالمی عدالت انصاف کوئی توپ چیز نہیں، جب تک دونوں فریقین راضی نہ ہوں تو وہ مقدمہ سن ہی نہیں سکتی۔ جب پاکستان نے برملا کہا کہ کلبھوشن ہمارے ملک میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو منظم کرنے میں ملوث ہے تو پھر پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں فریق ہی خود کو نہیں بنانا چاہیے تھا۔

اگر بھارتی جاسوسی کے معاملے پر ہیگ میں قائم اس  عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کر لیا تو پھر فیصلے کے مطابق آپ نے تو عملدرآمد کیا تو پھر کوئی حد سے تجاوز کرتے ہوۓ بھارتی جاسوس پر اتنی مہربانیاں کیوں؟ پل بھر مان لیتے ہیں کہ پاکستان کی مجبوری ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کرے تو اس کے لیے تو پاکستان نے یکے بعد دیگرے قونصلر رسائی اور پھر اسے اپیل کا حق بھی دیا۔

قانونی طور پر اور فیصلے کے مطابق تو پاکستان نے عمل کیا اب اگر کلبھوشن یا بھارت سرکار نے خود اپیل کا حق استعمال کرنے سے معذرت کر لی تو پھر کونسی مجبوری تھی کہ پاکستان کی حکومت خود ہی اس کی وکیل ہو گئی اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں نہ صرف اپیل بلکہ کلبھوشن آرڈنینس میں توسیع کے لیے اپوزیشن کو بھی دباؤ میں لایا گیا تاکہ اس کی پارلیمنٹ سے توسیع ہو جاۓ۔

دال میں نہ صرف کالا ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود جس نے کبھی ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر سیاست کرتے ہوۓ ملبہ صدر آصف علی زرداری پر ڈالنے کی ہر ممکن سعی کی لیکن بھلا ہو اس ریمنڈ ڈیوس کا جس نے نذر و نیاز پہ اپنے غریب مریدوں کو لوٹنے والے ملتانی پیر شاہ محمود کو جھوٹا قرار دیتے ہوۓ اپنی کتاب دی کنٹریکٹر میں لکھتے ہیں کہ اس وقت فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے انہیں رہائی دلائی۔

اب وہی ملتانی پیر فروغ نسیم کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کبھی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی ہمیں قونصلر رسائی کے لیے مودی سرکار کے ترلے کرتے نظر آتے ہیں۔ موصوف نے تو اتنا ہی کہہ دیا کہ اگر کلبھوشن کے بدلے بھارت سے کشیدہ تعلقات بحال ہو جاتے ہیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ لیکن اس سارے معاملے میں حائل قانونی پیچدگیاں دور کرنے کا سہرا را (ایم کیو ایم) کے دہشت گردوں کے پرانے وکیل فروغ نسیم کے سر ہے۔

جی وہی فروغ نسیم ہیں، جو را کی وکالت کرتے ہوئے فوج کے وکیل ہوئے اور پھر یہی نہیں بلکہ کراچی کو الگ ریاست جناح پور بنانے کا ان کا خواب پورا تو نہیں ہوا لیکن اب وہ آئین پاکستان کے در پہ ہیں۔ مشرف کی وکالت کے دوران جب انہیں عملی طور پر علم ہوا کہ اٹھارویں ترمیم نے تو نہ صرف آئین پاکستان پر شب خون مارنے والے آمروں کا راستہ بند کیا ہے بلکہ انہیں غدار بھی قرار دیا ہے تو انہوں نے فوج کے ایک مخصوص طبقے کو اس کے خلاف اکسایا۔ فروغ نسیم اور ان کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم ہمشیہ آمریت کے ساۓ تلے پھلی پھولیں۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی ہمشیہ آمریت کے خلاف جمہوریت اور عوامی راج کی علمبردار ہے تو اس لیے کراچی میں اسے کمزور کرنے کے لیے ہر آمر نے اس را کی سپناسرڈ شدہ سیاسی قوت کو تقویت دی۔

فروغ نسیم نے اٹھارویں ترمیم اڑانے کے لیے اتنی تاویلیں دیں کہ اب خود ان کے موکل قمر جاوید باجوہ اور ان کے ہم نظر چند جرنیل صوبوں کو خود مختاری اور قومی وحدتوں کے حقوق کو تحفظ دینے والی اس ترمیم کے پیچھے لٹھ لے کے پڑ گئے ہیں۔ پاکستان کے اردو میڈیا میں سندھ کے خلاف تعصب اور پیپلز پارٹی کے خلاف بے حد پروپیگنڈہ کو اس لیے تو ہوا دے دی گئی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ آئین پاکستان کے خالق ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پارٹی اور اس کی موجودہ قیادت ہرگز اس اٹھارویں ترمیم کو اڑانے کی اجازت نہیں دے گی۔ صدر آصف علی زرداری کے خلاف نافذ Lawfare جھوٹے کیسز اور ان کے خلاف نیب گردی پی پی پی پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہے۔

دباؤ کی وجہ سے پیپلز پارٹی مخالف تحریک انصاف اور فروغ نسیم کی پارٹی کو کراچی میں مزید سپیس دی جا رہی ہے۔ اس بات کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ جو بھتہ خوری ایم کیو ایم کرتی تھی، اب عسکری سرپرستی میں وہ تحریک انصاف کے لیے مختص کی جا رہی ہے۔ کراچی میں قربانی کی کھالوں کا صرف تحریک انصاف کو دینے کا فوجی نوٹیفکیشن اس کا شاہد ہے۔

خیر ان سیاسی بھول بھلائیوں سے بالاتر ہو کر آخر میں صرف اتنی عرض ہے کہ اس کٹھ پتلی سرکار کے وزیر قانون بھارتی جاسوس کی وکالت کرتے کوئے بہت جلد اسے بھارت میں را کے ہیڈ کوارٹر میں واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔ یہی اب ان کا اولین مقصد ہے۔ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ میں کسی بھی پاکستانی وکیل نے حب الوطنی کے جذبے سے کلبھوشن کا کیس نہ لڑا تو آپ دیکھیں گے کہ موصوف ایک دفعہ پھر وزارت سے استعفیٰ دیکر خود بطور وکیل پیش ہو جائیں گے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

بلاول بھٹو زرداری کے بتائے گئے دھماکہ خیز اِنکشافات سچ ہیں یا جھوٹ؟

رپورٹ: امام بخش آپ بلاول بھٹو زرداری کو سخت ناپسند کرتے ہیں یا پھر دل …

ایک تبصرہ

  1. آپ کا یہ کہنا کہ ایم کیو ایم پی پی کے خلاف بنائی ضیا نے. یہ سرا سر. جھوٹ ہے. ایم کیو ایم خس غلط قانون کے ردعمل میں سامنے آئی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے