منگل , 13 اپریل 2021
ensdur

فردوس عاشق اعوان نے خاموشی توڑ دی، عہدے سے ہٹائے جانے کی اصل کہانی بتا دی

سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا  ہے کہ مجھ سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے استعفیٰ کا مطالبہ کیا لیکن میں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا جس کے بعد تلخی بڑھ گئی۔

اے آر وائے کے ایک پروگرام میں انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے انہیں بلا کر استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا لیکن میں نے انہیں استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا اور کہا آپ مجھ سے استعفیٰ لینے کے مجاز نہیں، اس پر مجھے ڈی نوٹیفائی کرنے کی دھمکی دی گئی اور میرے انکار کے بعد مجھے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین ماہ سے وزارت اطلاعات میں کافی مسائل چل رہے تھے اور میری وزارت میں کئی لوگ بغیر نوٹیفکیشن کے ترجمان بنے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قومی سطح کا مسئلہ ہوتا تو یہ وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان بن کر حکومت کا مؤقف پیش کر دیتے تھے جس کی وجہ سے مجھے حکومت کا موقف دینے میں مشکل پیش آتی تھی کیونکہ جب تک وزارت اطلاعات ردعمل دیتی تھی تو اس وقت تک غیر سرکاری ترجمان کی وجہ سے حکومت کا مؤقف کمزور ہو جاتا تھا۔

سابق مشیر اطلاعات نے کہا کہ میرے خلاف کابینہ میں بھی مخالفت جاری تھی اور وزیراعظم کو میرے خلاف حقائق مسخ کر کے بتائے جاتے تھے، میں نے ایک ہفتہ پہلے وزیراعظم سے بڑی کوشش کر کے ملاقات کی تھی جس میں نے اپنے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا تھا۔

حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے الزمات پر بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں نے کسی ایڈورٹائزر کمپنی کو ادائیگیوں کی منظوری نہیں دی تھی لہذا میں دس فیصد کمشین کیسے لے سکتی تھی۔

 انہوں نے بتایا کہ میرے زیر استعمال وہی گاڑیاں تھیں جو فواد چوہدری بطور وزیر استعمال کرتے تھے، میں ایک سیاسی شخصیت ہوں، میرےاوپر الزام لگا کر میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے  کہ انہوں نے اپنے قانونی مشیر سے مشورہ کر لیا ہے اور وہ یوٹیوب پر ان کی کرپشن کا پراپیگنڈہ کرنے والے نام نہاد اینکرز کو لیگل نوٹس بھجوا رہی ہوں کیونکہ یہ ان کی ساکھ اور عزت کا مسئلہ ہے۔

 پی ٹی وی میں اپنے بندے رکھوانے کے الزام میں فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی میرے کنٹرول میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں مشیر بنی تو میری ماتحت خاتون سیکریٹری وزیراعظم ہاؤس کو براہ راست کیس بھجواتی رہیں اور مجھے بائی پاس کیا گیا

انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایڈورٹائیزر کمپنیاں کی انڈکشن کا تعلق ہے تو یہ میرے سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کی تھیں، اس فہرست میں جو ردوبدل کیا  گیا وہ اگر میں بتا دوں تو ایک نیا پنڈورا بکس کھل سکتا ہے۔

اینکر عادل عباسی نے سوال کیا کہ کہ جب پرنسپل سیکرٹری نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا تو اس وقت شہزاد اکبر بھی موجود تھے اس پر فردوس عاشق نےکہا کہ وہ پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ موجود تھے لیکن استعفیٰ لینا یا کابینہ میں ردوبدل کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے، ایک بیورکریٹ یا مشیر کس قانون کے تحت استعفیٰ طلب کر سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ شاید پرنسپل سیکرٹری نے سوچا ہو کہ جیسے درانی، یوسف بیگ مرزا  اور طاہر خان سے استعفیٰ مانگا گیا اور انہوں استعفیٰ دے دیا اس طرح فردوس عاشق اعوان بھی میرے حکم پر استعفیٰ دے گی لیکن میں نے انکار کر دیا کیونکہ میں ایک سیاسی شخصیت ہوں، میں نے الیکشن لڑنا ہے اور میرے ساتھ میرے حلقہ کے لاکھ سے زائد ووٹر جڑے ہیں، میرے سیاسی مستقبل کا معاملہ ہے جبکہ جن مشیران سے پہلے استعفیٰ لیا گیا وہ غیر سیاسی لوگ تھے۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم عہدوں سے استعفے مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئے

پیپلز پارٹی نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدگی کے فیصلے پر مرحلہ وار …

ایک تبصرہ

  1. روف کالا سرا یعنی لاہور کی ہیرا منڈی کی مشہور و معروف رنڈی کا بیٹا ،اس کی بیوی بھی ایک اعلی ترین رنڈی خاندان سے تعلق رکھتی ہے ،اس لیے روف کالا سرا کی بیوی نے امریکیوں کے لئے اپنا جسم بیچنے کا دھندا شروع کیا ،روف کالا سرا کا ایک اور تعلق قادیانی جماعت سے بھی ہے ،جیسے کہ حامد میر اور سلیم صافی کا ہے یہ تینوں قادیانی جماعت کے وظیفہ یافتہ ہیں،
    ہارون رشید بھی اپنی ماں کو چدواکر پیسے کمانا پڑے تو کمائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے