پیر , 30 نومبر 2020
ensdur

فرانس میں اسلامی شناخت مٹانے کی تیاری | نصرت جاوید

فرانس کا صدر اپنے عوام کے بارے میں واقعتا پریشان ہوتا تو اس کی تمام تر توجہ اس حقیقت پر مرکوز رہنا چاہیے تھی کہ اس کے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاََ 52 ہزار افراد کرونا کی زد میں آرہے ہیں۔ یورپ کے اس ’’جدید ترین‘‘ اور نام نہاد ’’مہذب‘‘ ملک میں ابھی تک کرونا کے مریضوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

یہ وباء پھوٹنے سے کئی ماہ قبل فرانس ہی میں ’’پیلی جیکٹوں‘‘ والی تحریک بھی نموار ہوئی تھی۔ اس تحریک کی بدولت دُنیا بھر نے دریافت کیا کہ چھوٹے شہروں ،قصبات اور دیہات میں آباد فرانسیسی عوام کی اکثریت ناقابل برداشت غربت سے اُکتاگئی ہے۔ ہر نوعیت کے سیاست دان ان کے مسائل سے قطعاََ غافل ہیں۔ ان کی بے حسی نے لوگوں کو ازخود سڑکوں پر آنے کو مجبور کیا۔ ہر ویک اینڈ پر وہ بڑے شہروں کے مشہور چوکوں میں جمع ہوجاتے۔ پیرس جیسے شہروں میں قیمتی اشیاء بیچنے والے سٹور لوٹ مار کی زد میں آنا بھی شروع ہوگئے۔ پولیس نے غصے میں بپھرے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے ان ہی گولیوں کا استعمال شروع کردیا جو بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دہائی مچانے والوں کو عمر بھر کے لئے بینائی سے محروم کرنے کو برساتی ہے۔ یہ بات عیاں تھی کہ فرانس میں کرونا کی حال ہی میں اُبھری Second Wave اس ملک کی معیشت کو مزید تباہ وبرباد کردے گی۔ فرانس کے صدر کو اسے بحال کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ ٹھوس مسائل پربھرپور توجہ دیتے ہوئے ان کا حل ڈھونڈے کے بجائے صدر میکرون نے مگر اسلام اور مسلمانوں کو اپنا ’’حقیقی دشمن‘‘ ٹھہرانا شروع کردیا۔ وہ توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے فرانسیسی عوام کو اپنی ’’تہذیب‘‘ بچانے کی فکر میں مبتلا کرنا شروع ہوگیا ہے۔ اسلام دشمن نسل پرستی یورپ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ ہنگری اور پولینڈ جیسے ممالک میں یہ وحشیانہ حدوں کو چھو رہی ہے۔ جرمنی میں بھی ایک سیاسی جماعت -AFD- انتہائی ڈھٹائی سے دورِ حاضر میں نازی ازم کے احیاء میں مصروف ہے۔ اس کی مقبولیت میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی صدر بھی اکثر انتہائی رعونت سے اسلام کو امریکہ دشمن ٹھہراتا ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک مگر اپنے ’’اداروں‘‘ اور تہذیبی روایات‘‘ پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ کوئی نسل پرست دیوانہ ان کا صدر یا وزیر اعظم منتخب ہوجائے تو یہ سوچتے ہوئے مطمئن رہتے ہیں کہ ان کی جانب سے پھیلایا تعصب ریاستی اداروں کو ’’غیر جانب دار‘‘ ہی رکھے گا۔ وہ اپنے ہر شہری کو ’’برابر‘‘شمار کرتے ہوئے ان کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرتے رہیں گے۔ اپنے حالیہ اقدامات اور بیانات کے ذریعے صدر میکرون مذکورہ گمان کو احمقانہ وحشت سے پاش پاش کرتا نظر آرہا ہے۔

مجھے ہمیشہ یہ گمان رہا کہ آج سے تقریباََ تین سو برس قبل رونما ہونے والے ’’انقلاب‘‘ نے فرانس کو دُنیا بھر کے لئے اس نظام کی علامت بنادیا تھا جو شہریوں کے مابین ’’مساوات اور برابری‘‘ کو یقینی بناتا ہے۔ فرانس کے شہرئہ آفاق لکھاری البرٹ کامیو نے مگر اپنی موت سے قبل Rebel یعنی ’’باغی‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ بہت درد مندی سے اس کتاب کے ذریعے اس نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ مذکورہ ’’انقلاب‘‘ درحقیقت ایک سراب تھا۔ ہجوم کے دلوں میں صدیوں سے اُبلتی نفرت وغصے کا اظہار۔ اُس دور کی اشرافیہ کے سر چوکوں میں جمع ہوئے ہجوم کے سامنے گلوٹین کے چھرے تلے تن سے جدا ہوتے رہے۔ ایسے ’’انصاف‘‘ کو لوگ تماشائیوں کی مانند دیکھ کر لطف اندوز ہوتے تھے۔ ’’انسانوں‘‘ میں رحم نامی جذبے کی تھوڑی سی جھلک بھی کہیں نظر نہیں آئی۔ ’’انقلابیوں‘‘ کے نظر بظاہر ’’سفاک اشرافیہ‘‘ کے خلاف اپنائے رویے کو کامیو نے بلکہ Crimes of Reason پکارا یعنی وہ جرائم جنہیں بہت سوچ بچار کے بعد گھڑے دلائل کے ذریعے ’’فطری اور درست‘‘ ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس رویے کو کامیو نے ’’انسان دشمن‘‘ ٹھہرایا اور کافی مہارت سے یہ تصور بھی اجاگر کیا کہ فرانسیسی اپنی سرشت میں ’’سفاک‘‘ ہیں۔ ’’تہذیب یافتہ‘‘ ہونے کا گماں مگر اس حقیقت کو عیاں ہونے نہیں دیتا۔ میں نے کامیو کی اس کتاب کو اپنی جوانی کے دنوں میں سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ اپنے تئیں بلکہ یہ طے کرلیا کہ ہمارے صوفیا کی طرح وہ ’’صلہ رحمی‘‘ کے جذبے سے مغلوب ہوا شہنشاہی نظام سے ’’نجات‘‘ دلانے والے ’’انقلاب‘‘ کے بنیادی پیغام کو دھندلانے کی کوشش میں بھٹک گیا۔ خود کو ’’وکھری‘‘ نوعیت کا دانشور دکھاتا رہا۔

’’پیلی جیکٹوں‘‘ والی تحریک کے دوران میں نے اس کتاب کا ازسرنو بغور جائزہ لیا تو شرمندگی محسوس ہوئی۔ ہمارے ہاں بھی کئی برسوں سے ’’بے رحم احتساب‘‘ کا جنونی انداز میں ورد جاری ہے۔ یہ ورد مجھے اکثر کامیو کے بیان کردہ Crimes of Reason کی یاد دلاتا ہے جو ’’انصاف‘‘ نہیں ’’انتقام‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حکمران اشرافیہ کے خلاف دلوں میں ابلتا غصہ اگر ’’انتقام‘‘ کی صورت اختیار کرلے تو اس کی وجوہات کافی حد تک سمجھی جاسکتی ہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ پچاس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان کے بے پناہ اکثریت مگر افریقہ اور عرب ممالک سے آئی ہے۔ وہ بنیادی سہولتوں سے محروم ان بستیوں میں مقیم ہیں جنہیں ’’جرائم کے مراکز‘‘ ٹھہرایا جاتا ہے۔ تعلیم اور صحت کے مؤثر نظام سے یکسر محروم بستیاں جن کے مکینوں کو باعزت روزگار کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے۔ ایسے ’’افتادگانِ خاک‘‘ کو فرانس کے معاشی اور سیاسی نظام کی تباہی وبربادی کا کسی صورت ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ حکمران اشرافیہ کو تاہم اپنی نااہلی سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی ’’دشمن‘‘ ایجاد کرنا ہوتا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اسلام اور مسلمانوں کی بابت ایسا ہی رویہ اختیار کرنا شروع کردیاہے۔

فرانس صدیوں سے ایک ’’مذہبی‘‘ ریاست رہا ہے۔ چرچ کو ریاست سے جدا کرکے 1905 میں ’’سیکولر‘‘ ہوا تھا۔ کامیو کی دریافت کردہ وحشت کے ساتھ اس ’’سیکولرازم‘‘ کا نفاذ بھی شروع ہوگیا۔ چرچ کی اہمیت مگر اپنی جگہ برقرار رہی۔ دیگر مذاہب کے ’’احترام‘‘ کے دعوے بھی ہوتے رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد فرانسیسی مگر اپنے تئیں ملکی معیشت کو بحال نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے لئے بے تحاشہ افرادی قوت درکار تھی۔ فرانس کی عرب اورافریقہ کے ممالک میں موجود سابقہ نو آبادیوں سے یہ قوت حاصل کی گئی۔ ذلت آمیز مشقت سے معیشت کو بحال کرنے اور اسے رونق فراہم کرنے والے تارکینِ وطن‘‘ کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ ان کی مذہبی روایات کا ’’احترام‘‘ بھی لازمی تھا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے مگر 1905 والے قانون کو بنیادی طور پر فقط مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا گیا ہے۔ فرانس کا نظام تعلیم ’’سیکولر‘‘ ہونے کا دعوے دار ہے۔ یہ طالب علموں کو ’’مذہبی شناخت‘‘ کی اجازت نہیں دیتا۔ اس نظام کے ہوتے ہوئے بھی ’’نجی‘‘ شعبے میں قائم تعلیمی اداروں کو قانونی تحفظ حاصل رہا۔ فرانس کے مسلمانوں نے چندے سے ایسے ہی سکول قائم کئے۔ اپنی روایات کو بچائے رکھا۔ ’’اسلامی شناخت‘‘ کو برقرار رکھنے کی کاوشیں جاری رکھیں۔میکرون مگر بضد ہے کہ اس برس کے دسمبر میں وہ 1905 میں پاس ہوئے قانون میں مزید ترامیم لائے گا۔ ان ترامیم کی منظوری کے بعد مسلمان اپنے بچوں کے لئے مخصوص تعلیمی اداروں والی سہولت سے محروم ہوجائیں گے۔ ایسی ترامیم بھی متعارف ہوں گی جن کی بدولت مساجد کی تعمیر یا توسیع کے لئے چندے کی صورت جمع ہوئی رقوم پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی۔ ’’اسلامی شناخت‘‘ کو گویا فرانس میں ہر صورت مٹانے کی تیار ی ہورہی ہے۔

پچاس لاکھ مسلمانوں کی موجودگی میں جن کے پاس معاشی اعتبار سے کھونے کے لئے پہلے ہی سے کچھ بھی نہیں رہا۔ اسلامی ’’شناخت‘‘ مٹانے والے یہ منصوبے کامیاب نہیں ہوپائیں گے۔ مزاحمت بالآخر پرتشدد ہونے کو مجبور ہوگی۔ فرانس کے پاس اس سے نبردآزما ہونے کے لئے ریاستی قوت کے وحشیانہ استعمال کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ نسل پرستی والا قتل عام برپا کرنا ہوگا۔ ’’دہشت گرد‘‘ مگر مسلمان ہی ٹھہرائے جائیں گے۔ صدر میکرون اور اس کے جنونی حمایتی یہ حقیقت بھی دیکھنے سے قاصر ہیں کہ ممکنہ قتلِ عام دنیا بھر میں پھیلے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو لاتعلق رکھ نہیں سکتا۔  فرانسیسی صدر اپنی ضد پر ڈٹا رہا تو ہٹلر کے دور سے بھی شدید تر خلفشار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بدقسمتی سے ’’مسلم اُمہ‘‘ ایسے رہ نمائوں اور دانشوروں سے یکسر محروم ہے جو ممکنہ خلفشار کی مدلل انداز میں نشاندہی کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کی اکثریت کو اپنا ہم نوا بناسکیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

تعارف Moderator

یہ بھی چیک کریں

خواب گاہ میں ریت | افشاں احمد

تحریر: افشاں احمد اردو زبان کے متعلق بات ہو تو ذہن غیر ارادی طور پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے