جمعرات , 25 فروری 2021
ensdur
اہم خبریں

فارن فنڈنگ کیس اور ریاستِ مدینہ | خرم اعوان

تحریر: خرم اعوان

ترک سلطنت کا دسواں سلطان سلمان عالی شان (دی گریٹ) جس نے ترک سلطنت کو تین براعظموں تک وسیع کر دیا۔ اسی سلمان دی گریٹ کا وزیراعظم ابراہیم جو وزیراعظم بعد میں تھا پہلے وہ سلمان کا بچپن کا دوست تھا, دونوں اکٹھے پڑھے۔ دونو ں نے آگے چل کر ایک ساتھ جنگوں میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اکثر جنگیں جتوانے میں صرف ابراہیم کی شجاعت اور عقلمندی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان سب باتوں کے ساتھ وزیراعظم ابراہیم، سلمان دی گریٹ کا بہنوئی بھی تھا۔ یہ سب رشتے اور خوبیاں گنوانے کا مقصد تھا کہ اتنی خوبیوں کا مالک اتنے قریبی رشتے میں بندھنے کے باوجود سلمان نے اپنے اسی وزیراعظم ، دوست ، جنگوں کے ساتھی اور بہنوئی براہیم کو مروا دیا۔ کیونکہ وہ غیر ملکی سفیروں، وینس کے تاجروں سے تحائف لیتا تھا۔ ان تحائف کا مقصد سلطنت کی پالیسیوں کو ان ممالک اور ان تاجر کمپنیوں کے لیۓ دوسروں کی نسبت نرم رکھنا اور سلمان دی گریٹ کے دربار میںآسان رسائی تھا۔ اسی لیے جب سلمان دی گریٹ کو ان سب باتوں کا پتہ چلا تو اس نے ابراہیم کو مروا دیا۔ یہ بات Harold lamb) ہیرالڈ لیم) نے اپنی کتاب (Suleiman The Magnificent) میں ابراہیم کے تذکرے میں لکھی ہے۔

ترک سلطنت کے دسویں سلطان کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ہمارے وزیراعظم ترک تاریخ سے بہت مرعوب ہیں۔ اسی لیے ترک تاریخ پر بنے ڈرامے عوام کو دیکھنے کی نصیحت فرماتے ہیں۔ اسی تاریخ میں سلمان عالیشان نے اپنے وزیراعظم کے اس عمل پر اسے مروا دیا ۔ مگر میرا سوال یہ ہے کہ اگر اس ریاست کے موجودہ وزیراعظم نے سرٹیفیکیٹ دیا ہو اور وہ بھی اپنے دستخط کے ساتھ، کہ جو فنڈ میری پارٹی کو باہر کے ممالک سے آئے ہیں وہ درست ہیں ان میں کوئی بھی ممنوع فنڈ کے زمرے میں نہیں آتا۔ تو اس وزیراعظم کی سزا کون تجویز کرے گا۔ کیونکہ پاکستان تحریک انصاف اس کیس کے اتنے عرصہ چلنے کے بعداب یہ بات عوام کے ذہن میں ڈالنا چاہ رہے ہیں کہ ان فنڈز کے لیے باہر کے ممالک میں کمپنیاں اور ایجنٹ وغیرہ ہوتے ہیں۔اور وہ ایجنٹ اس کے ذمہ دار ہیں۔ مطلب دال میں کچھ کالا ہے اسی وجہ سے یہ بات سب جانب پھیلائی جا رہی ہے۔ تاکہ اگر کوئی فیصلہ خلاف آۓ تو موقف اختیار کیا جائے کہ عمران خان نے یہ حلف نامہ ان ایجنٹوں کے حوالے سے دیا تھا۔ باقی سب کے ذمہ دار یہ ایجنٹنس ہیں۔ جیسے وزیراعظم کے حواری اور ان کے عشق میں ابھی تک مبتلا کچھ میڈیا والے جو انھیں مسٹر کلین کہتے ہیں، وہ ابھی تک کے تمام ناکام فیصلوں کا ذمہ دار عمران خان کو نہیں بلکہ ان سے پہلے اقتدار پر موجود حکمرانوں کو گردانتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ عمران خان کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔

اب یہ فارن فنڈنگ کیس ہے کیا۔ تو جناب اس کیس کی بنیاد ڈالی پاکستان تحریک انصاف کے 2011 کے کامیاب لاہورجلسے کے بعد پارٹی میں آنے والے نئے چہروں اور ان کو پارٹی میں ملنے والی پذیرائی اور جگہ نے۔ ان نئے چہروں کی وجہ سے جو لوگ روز ِ اول سے پارٹی کے ساتھ تھے انھیں ایک کونے میں لگا دیا گیا۔ ان کونے میں لگنے والوں میں اکبر ایس بابر بھی تھے جو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور نائب صدر تھے، انھیں نائب چیئرمین بھی کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ انھیں اس بات کا دکھ تھا کہ نئے لوگوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور جو لوگ اس پارٹی کو یہاں تک لانے میں اپنا سب کچھ لگا چکے ہیں انھیں سائیڈ پر کر دیا گیا ہے۔ سونے پہ سہاگہ اس وقت ہوا جب 2011 میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے اس وقت سب اہم پارٹی پوزیشن پر یہی نئے لوگ براجمان ہو گئے۔ اب اکبر ایس بابر بھی عمران خان کی طرح ضدی اور غصے والے انسان ہیں۔

اسی سب کے بعد اکبرایس بابر نے پارٹی اکاونٹس میں خرد بردکے حوالے سے عمران خان کو خط لکھ ڈالا کہ پارٹی اکاونٹس میں ہیر پھیر ہو رہا ہے۔ اس خط پر عمران خان غصے میں آ گئے۔ اس طرح بابر صاحب پارٹی سے فارغ ہو گئے۔ یعنی مدینہ کی ریاست کے معمار نے خود ہی مدینہ کی ریاست کے اولین اصولوں کوتوڑ دیا۔ اور پی ٹی آئی میں فتح مکہ ( لاہور جلسہ ) کے بعد آنے والوں کو سابقہ ساتھیوں پر فوقیت دے دی۔ جس پارٹی کی بنیاد غلط ہے تو باقی سب کہاں سے ٹھیک ہوتا۔ کیونکہ آپﷺ نے توآج سے چودہ سو سال پہلے اس کے بلکل الٹ کیا تھا۔ جس پر اللہ نےسورہ توبہ آیت 100 میں مہاجرین و انصار کا ذکر کر کے مہر ثبت کی۔ اور آسان کردیتا ہوں حضرت عمرؓ نے جب اپنے دورِ خلافت میں آرمی کو باقاعدہ Institutionalize کیا تو لوگوں کی تنخواہ عہدے اورمراعات اسی ترتیب پر مرتب کیں۔ ان کے دور خلافت میں جو لوگ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ان کی مراعات، تنخواہ اور عہدے سب سے کم تھے۔ یہ تھی مدینہ کی ریاست۔

اکبر ایس بابر اتنے سب کے بعد خاموش ہو گئے اور پھر 4 نومبر 2014 جب عمران خان دھرنے میں بیٹھے ہوئے تھے تو بابر صاحب درخواست لے کر الیکشن کمیشن جا پہنچے۔ اُس وقت کچھ اہل خبر دوستوں کے مطابق بابر صاحب یہ درخواست (ن) لیگ کے کہنے پر الیکشن میں لے کر گئے ہیں۔ وہاں سے یہ فارن فنڈنگ کیس کا سلسلہ شروع ہوا۔ مگر جب دھرنا ختم ہوا تو مسلم لیگ (ن) نے بھی اکبر ایس بابر پر سے ہاتھ اٹھا لیا۔ اب آتا ہے 2016 جب حنیف عباسی نے عمران خان کے خلاف نااہلی کی پٹیشن کی ، اس پٹیشن میں آٹھ سے نو گراونڈز بنائیں جن میں دو گراونڈز اس فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے مواد پر منحصر تھیں۔

1۔ عمران خان نے جو سرٹیفکیٹ فارن فنڈنگ میں اپنے دستخطوں سے جمع کروایا ہے وہ ان تفصیلات کے مطابق جھوٹ ثابت ہوتا ہے اس لیے عمران خان (F1 62) پر پورا نہیں اترتے ،انہیں نااہل قرار دیا جاۓ۔

2 ۔ ممنوع فنڈنگ استعمال کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کو بحیثیت سیاسی پارٹی کالعدم قرار دیا جائے۔

اس پر دسمبر 2017 میں ثاقب نثار صاحب نے فیصلہ دیا میں ذاتی طور پر عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو درست سمجھتا ہوں اور فیصلے ایسے ہی ہونے چاہیں۔ یعنی اپنی حدود میں رہ کر۔ کاش ہر فیصلے میں عدالت عالیہ اس کو ملحوظ خاطر رکھے۔ خیر فیصلہ یہ تھا کہ پارٹی کو کالعدم قرار دینا وفاقی کابینہ کی جانب سے ریفرنس سے ہو سکتا ہے یہ وہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا فارن فنڈنگ کا معاملہ براہ راست الیکشن کمیشن کا دائرہ کار ہے اسے الیکشن کمیشن کو حل کرنا ہے۔ یہ باتیں کر کے حنیف عباسی کی پٹیشن خارج کر دی گئی۔ اب اس میں عمران خان کو (F1 62) پر تو پورا اترنے کی بات کی تحقیقات تو ہوئی ہی نہیں تو اس کا نتیجہ یہ کیسے نکلا کہ عمران خان صادق و امین ہیں؟ لیکن پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے ایسے ہے تو ہے۔

اسی سب کے دوران2017 میں ہی مشہور زمانہ (جے آئی ٹی) میں نواز شریف کی جانب سے پارٹی کو دس کروڑ روپے قرض اور پھر وہ پارٹی سے واپس لینے کا ذکر آتا ہے۔ تو فرخ حبیب مئی 2017 میں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی ، اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے خلاف بھی الیکشن کمیشن میں پارٹی فنڈز کے حوالے سے پہنچ جاتے ہیں۔ اب دسمبر 2017 میں ثاقب نثار کے دیے ہوے فیصلے کی روشنی میں مارچ 2018 میں الیکشن کمیشن سکروٹنی کمیٹی بناتا ہے۔ جس نے سب پارٹیوں کے اکاونٹس چیک کرنا تھے۔

2019 میں چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان ان کے ایک رشتہ دار کو وعدے کے مطابق (کے پی) کے ایک ضمنی الیکشن میں ٹکٹ نہ ملنے پر برہم ہوتے ہیں اور اس سکروٹنی کمیٹی کو اچانک کام تیزی سے کرنے کا حکم جاری کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپوزیش کو تھپکی دیتے ہیں جس پر 20 نومبر2019 کو اپوزیشن فارن فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرتی ہے۔ سوجناب اپوزیشن یہ دوسری مرتبہ الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرنے جا رہی ہے۔اس سب کے ہوتے ہوئے 5 دسمبر 2019 کو سردار رضا ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اب الیکشن کمیشن قانون کے مطابق تو وجود نہیں رکھتا تھا۔ اس لیے سکروٹنی کمیٹی بھی سست روی کا شکار ہو گئی اور تین تین ماہ کے وقفے سے اجلاس بلاتی رہی۔ اب جو اپوزیشن ایک مرتبہ پھر سے احتجاج کرنے جا رہی ہے اس کا صرف ایک مقصد ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کہیں اقتدار میں موجود پارٹی کے حق میں راہ ہموار نہ کرے اس پر عوام کا ایک پریشر ہو۔ اب یہ کر پاتے ہیں یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا۔ مگر اس احتجاج کا فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ اس کیس میں وزن پیدا کرنے کے لیے کافی گہرائی میں اور تکنیکی اعتبار سےچھان بین کی ضرورت ہے۔ اور فیصلے کی چند ہی صورتیں ہیں۔

1۔ یہ فیصلہ فوراً آنا متوقع نہیں۔ کیونکہ ابھی سکروٹنی کمیٹی رپورٹ پیش کرے گی۔ پھر الیکشن کمیشن تینوں پارٹیوں کو سنے گا۔ کب تک سنے گا کتنی دیر اس میں لگے گی۔ یہ تو الیکشن کمیشن پر منحصر ہے۔

2۔ الیکشن کمیشن اگر خود نہ پھنسنا چاہے تو فیصلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ “پاکستان تحریک انصاف کا پارٹی فنڈ ممنوع فنڈ ہے، یا اس میں بے ضابطگیاں ہیں اس لیے الیکشن کمیشن یہ اکاونٹس فریز کرتا ہے”۔ اگر فیصلہ اتنا ہوتا ہے تو اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کوورٹنو کی پٹیشن کے طور پر لے جائیں گی۔ اس حالت میں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ آتا ہے تو کیا (پی ٹی آئی اور اس کی کابینہ) خود اقتدار میں ہوتے ہوئے اپنی سیاسی پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا ریفرنس بھیجے گی یہ تو نا ممکن ہے۔

3 ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سب پارٹیوں پر تھوڑی تھوڑی چوٹ لگا دی جائے اور سب میڈیا کے سامنے اپنی وضاحتیں دیتے پھریں اپنے آپ کو ٹھیک ثابت کرنے میں لگے رہیں۔

4۔ کچھ دوست کہتے ہیں کہ اڑھائی سالہ اب تک کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ معجزانہ طور پر پاکستان تحریک انصاف اس سے صاف بچ جائے گی ، کوئی اور پارٹی اس میں پھنس جائے یا پھنسا دی جاۓ گی۔

یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جو کہ سعید مہدی صاحب کے داماد ہیں۔ یہ وہی سعید مہدی ہیں جو کہ نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ دوسرا اسکندر سلطان شہباز شریف کے بہت قریب ہیں اسی لیے تو شہباز شریف ان کے نام پر بطور الیکشن کمشنر مانے تھے۔ دوسرا اسلام آباد کے چیف کمشنر اور CDA کے چیئرمین عامر احمد علی جو فرزند ہیں سعید مہدی کے اور بھائی ہیں اسکندر سلطان راجہ کی بیگم کے۔ اور یہ وہی عامر احمد علی ہیں جنھوں نے بطور چیئرمین CDA عمران خان کے بنی گالہ والے گھر کو ابھی ریگولرائز کیا ہے۔ کیا یہ سب ان پارٹیز کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ دیں گے جس کی وجہ سے ان کا مستقبل یا مستقبل میں آنے والی ان کی نسلیں مشکلات میں پڑیں۔ ویسے یہ فیصلہ تب آۓ گا جب اس کی ضرورت ہو گی، ساتھ ہی اپوزیشن اور حکومت کے حالات دیکھتے ہوۓ محسوس ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ بھی عدلیہ ہی کرے گی۔

اس سب کو سامنے رکھیں اور سوچیں کہ کیا مدینہ کی ریاست بن پائے گی، اس کے لیے وزیراعظم کو اپنے اوپر سلطان دی گریٹ والے فیصلے کا اطلاق کرنا ہو گا اور وہ ہو نہیں سکتا کیونکہ کم ترین علم وہ ہے جو زبان پر رہے۔ بلند ترین علم وہ ہے جو کردار سے ظاہر ہو۔اور ہمارے وزیراعظم صرف گفتار کے غازی ہیں، وہ بھی ادھورے علم کے ساتھ۔

مندرجہ بالا تحریر مصنف کے فیس بک وال سے لی گئی۔

تعارف Editor

یہ بھی چیک کریں

کیا عثمان بزدار استعفیٰ دیں گے؟ | سید مجاہد علی

تحریر: سید مجاہد علی مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کے شور شرابے کو سیاسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے