پیر , 23 نومبر 2020
ensdur

’’غداروں ‘‘ کی شکست پر جشن منانے کا موسم | نصرت جاوید

جان کی امان پاتے ہوئے حکمرانوں سے دست بستہ فریاد یہ کرنی ہے کہ موبائل فون کی بند ش امن وامان کو ہرگز یقینی نہیں بناتی۔ سینہ پھلا کر خود کو آزاد، ایماندار، بے باک اور حب الوطنی کے حتمی نگہبان ٹھہراتے اینکر خواتین وحضرات ذرا سی ندامت محسوس کئے بغیر اگر ہر حوالے سے اہم ترین ’’خبر‘‘ کو زیر بحث نہ بھی لائیں تب بھی ’’اُمت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت‘‘ کا دارالحکومت دو روز تک احتجاجی ہجوم کا یرغمال بنا رہتا ہے۔ بالآخر بہت ہی ترلے منتوں کے بعد ایک اور ’’تحریری معاہدے‘‘ پر دستخط کرنا پڑتے ہیں۔ مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافی اس ’’معاہدے‘‘ کی بنیادی شقوں کو ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں زیر بحث نہ بھی لائیں تو عالمی میڈیا کی بدولت یہ ہر صورت کئی اہم ترین ممالک کے پالیسی سازوں کے زیر غور آئیں گی۔ ممکنہ غور سنجیدہ مضمرات کو یقینی بنائے گا۔

ہفتے کی رات سے پیر کی شام تک راولپنڈی اور اسلام آباد کے لاکھوں شہریوں کے موبائل فون بند کرتے ہوئے یہ تلخ حقیقت بھی انتہائی سفاکی سے فراموش کردی گئی کہ ہمارے ہاں کرونا کی دوسری لہر وحشت سے نمودار ہوئی ہے۔ گزشتہ لہر نے فقط ربّ کریم کی مہربانی سے ہمارے صحتِ عامہ کے نظام کو اس حد تک بے بس نہیں بنایا تھا جس کے ہولناک اثرات اٹلی اور امریکہ جیسے خوشحال اور جدید ترین ممالک میں نظر آئے۔ دوسری لہر کو سنبھالنے کے لئے صحتِ عامہ کو مزید توانا نہیں بنایا گیا تھا۔ خوش گمانی میں یہ فرض کرلیا گیا کہ وباء سیلاب کی مانند آئی تھی اور گزرگئی۔ تھوڑا اطمینان مگر یہ سوچتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت نے اب کروناکی زد میں آنے کے بعد خود کو گھروں میں Isolate کرنا سیکھ لیا ہے۔ گھر کے کونوں میں محدود ہوئے مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو تاہم سانس کو روا رکھنے کے لئے آکسیجن سیلنڈروں کی مستقل فراہمی درکار ہوتی ہے۔ گزشتہ دو دن موبائل فونز اور اہم شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ’’درمیانی علاقوں‘‘ میں آباد کئی شہری کامل بے بسی کے عالم میں آکسیجن سیلنڈر ڈھونڈتے رہے۔ احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ اتوار کے دن جو احتجاج ہوا اس کی وجوہات کی بابت گنہگار ترین مسلمان بھی ہرگز کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔ حکومت کے لئے لہٰذا لازمی تھا کہ احتجاج کاا ہتمام کرنے والے رہ نمائوں سے پُرخلوص اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے چند SOPs طے کرلئے جاتے۔ احتجاج کے ساتھ روزمرہّ زندگی بھی اس کی بدولت رواں رہتے۔ اب کی بار مگر ریاستی قوت کو رعونت سے آزمانے کا فیصلہ ہوا۔ پنجابی محاورے والی ’’کھوتی‘‘ مگر بالآخر ایک اور ’’معاہدے‘‘ کو مجبور ہوئی۔

2006 میں جب اسرائیل نے حزب اللہ کا ’’صفایا‘‘‘ کرنے کے لئے لبنان پر فضائی حملوں کی بارش برسائی تو چار سے زیادہ ہفتوں تک میں اس ملک میں موجود رہا۔ بیروت کے جنوب میں واقع ایک ایسے ہوٹل میں قیام پر بضد رہا جہاں میرے علاوہ فقط دو اور ’’مہمان‘‘ قیام پذیر تھے۔ سڑک کے اس پار پاکستان کا سفارت خانہ تھا۔ یہ سوچتے ہوئے اس ہوٹل میں جما رہا کہ خدانخواستہ اگر اسرائیلی فوج لبنان میں داخل ہوگئی تو فوراََ سفارتخانے جاکر پناہ گزین ہو جائوں گا۔ حزب اللہ کے زیر اثر علاقے وہاں سے 15 سے 20 منٹ کی مسافت پر تھے۔ میرے قیام کے دوران فضائی حملوں کی شدت کے دنوں میں ایک سیکنڈ کو بھی لیکن میرا موبائل فون بند نہ ہوا۔ شدید بمباری کے مناظر جب پاکستان کی ٹیلی وژن سکرینوں پر چل رہے ہوتے تو میں فون کے ذریعے اپنی بیوی اور بچیوں کو ہنستے مسکراتے حوصلہ دینے میں مصروف رہتا۔ ان کا جی اپنے کمرے میں گرجتی گونج اور کھڑکیوں کی آواز کی آڈیو-وڈیو ریکارڈنگ سے بہلائے رکھتا۔ لبنان میں میرے قیام کے دوران حزب اللہ کا ترجمان ’’المینار‘‘ ٹی وی بھی ایک لمحے کو بند نہیں ہوا۔ حسن نصراللہ تیسرے -چوتھے دن اس کے ذریعے دھواں دھار خطاب فرماتے رہے۔ اتوار کے روز اسلام آباد میں ہوا احتجاج مذکورہ تناظر میں ہرگز ’’خوفناک‘‘ نہیں تھا۔ موبائل فونز کی بندش نے بھی اس کو بے اثر نہیں کیا۔ یوٹیوب پر حاوی ہوئے ’’حق گو‘‘ افراد بلکہ مظاہرین کے ہمراہ بیٹھ کر ’’ہر پل کی خبر‘‘ اپنے وی-لاگ کے ذریعے Upload کرتے رہے۔ روایتی میڈیا کے Ratings کے حوالے سے ’’سٹار‘‘ ہوئے کئی اینکر خواتین و حضرات کو انہوں نے نام نہاد Citizen Journalism کے ذریعے ’’فدوی ‘‘ اور ’’بکائو‘‘ ثابت کیا۔ عام شہریوں کی بے پناہ تعداد مگر موبائل فونز کی بندش سے رُل گئی۔ خوف وہراس نے ان کے دو دن برباد کردئیے۔ صدیوں سے ہماری جبلت ہوئی ’’خوئے غلامی‘‘ کی بدولت مگر ہم اپنی پریشانی کا باعث ہوئے فیصلوں کے بارے میں کوئی سوال اٹھانے کی جرأت نہیں بلکہ سکت سے بھی محروم ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی منافع کی ہوس کو چھپانے کے لئے صارفین کے حقوق کا فخر سے تذکرہ کرتا ہے۔ جس کمپنی کی SIM میرے موبائل فون میں موجود ہے وہ اس نظام کے تحت Service Provider یعنی ’’خدمت گزار‘‘ کہلوانے کا ڈھونگ رچاتی ہے۔ صارف کو خدمت گزار کا ماسٹر یعنی ’’آقا‘‘ شمار کیا جاتا ہے۔ میں بازار سے اپنے زیر استعمال SIM کو رواں رکھنے کے لئے Prepaid کارڈ خریدتا ہوں۔ یہ کارڈ ایک نوعیت کے Contract یا معاہدے کے تحت جاری ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اگر میرے فون میں مطلوبہ Balance موجود ہے تو مجھے ’’خدمت گزار‘‘ کی جانب سے ہروہ سہولت ہر صورت فراہم کرنا ہوگی جس کا وعدہ ہوا ہے۔ دو سے زیادہ دنوں تک ’’خدمت گزار‘‘ نے مذکورہ معاہدے کا احترام نہیں کیا۔ ہمارے ملک میں لیکن کوئی ایسا ادارہ موجود ہی نہیں جس کے روبرو مجھ جیسے لاکھوں شہری اپنی فریاد لے کر جائیں۔ یہ ادارہ اس لئے قائم نہیں ہوا کیونکہ ہمارے حکمران اور ان کی سرپرستی میں پھلتے پھولتے ’’خدمت گزار‘‘ ہم ’’ذلتوں کے مارے‘‘ انسانوں کو کسی جمہوری مملکت کا ’’شہری‘‘ تصور نہیں کرتے۔ ’’شہریوں‘‘ کی ذمہ داریوں کے علاوہ چند حقوق بھی ہوتے ہیں۔ ہماری بے پناہ ا کثریت اپنی ذمہ داریوں کو غلاموں کی طرح نبھاتی رہتی ہے۔ حقوق کے بارے میں تاہم حکمران کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ یہ حقیقت بلکہ تسلسل سے یاد دلائی جاتی ہے کہ ہم 22 کروڑ پاکستانی ’’شہری‘‘ نہیں سلطانوں کی ’’رعایا‘‘ ہیں۔ پلوں کو ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے بعد ایک لطیفے کے مطابق پار کرنے کے بعد ہمیں جوتے لگانے کا بھی فیصلہ ہوجائے تو ہم ہاتھ باندھ کر حکمرانوں سے فریاد کرتے ہیں کہ جوتے مارنے والے اہل کاروں کی ’نفری‘‘ بڑھائی جائے تانکہ ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایسے اجتماعی رویے کے ساتھ بھی مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافیوں سے امید باندھی جاتی ہے کہ ’’دلیری‘‘ دکھائیں ۔ ’’لفافے‘‘ لینا چھوڑ دیں۔ فقط سچ بیان کرنے کی عاد ت اپنائیں۔ ہم مگر ’’سچ‘‘ کے بجائے تھوڑا ’’سیاپا‘‘ بھی مچانا شروع کردیں تو جن صحافتی اداروں کے لئے لکھتے یا بولتے ہیں ان کا ’’بزنس ماڈل‘‘ خطرے میں پڑجاتا ہے۔اس کی بدولت نازل ہوئے Financial Crunch کی وجہ سے ہم بے روزگار ہوجائیں تو کوئی آپ کی خبر لینے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔ جواں سال فصیح الرحمن رزق کی پریشانی سے فوت ہوجاتا ہے۔ دل کی گھٹن ارشد وحید چودھری کو کرونا سے جانبر نہیں ہونے دیتی۔ ’’اچھی خبر‘‘ اس کے باوجود یہ ہے کہ عمران خان صاحب کی تحریک انصاف گلگت-بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر براہ راست ہوئے انتخاب میں آٹھ نشستیں لے کر ’’جیت‘‘‘ گئی ہے۔ اس کی ’’جیت‘‘ نے ثابت کردیا کہ PDM کا ’’غدار بیانیہ‘‘ پٹ گیا ہے۔ ’’غداروں‘‘ کی شکست پر جشن منانے کا موسم ہے۔ دوروز تک موبائل فونز کی بندش سرمستی کے جشن میں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

تعارف Moderator

یہ بھی چیک کریں

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ | وجاہت مسعود

تحریر: وجاہت مسعود ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے